تازہ ترین

ایسے معجزات پونچھ خطے میں ہی ہوسکتے ہیں!

گستاخی معاف

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

سید دلاور حسین
کبھی مردہ زندہ ہوجاتاہے، کبھی دفن کیاگیا نوجوان بیٹا کچھ ماہ بعداپنی والدہ کو فون کرکے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتاہے تو کبھی دوپہر کو کورونا وائرس کی مثبت رپورٹ کی تصدیق کے بعد شام کو یہی رپورٹ منفی ہوجاتی ہے۔موجودہ دور میں ایسے کرشمے دنیا بھر میں اگر کہیں ہوسکتے ہیں تو وہ جموں وکشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ ہے جہاں حیران و پریشان کردینے والے ایسے واقعات رونماہوتے آرہے ہیں۔تاہم اسے آپ کوئی کرشمہ سازی نہ سمجھیں بلکہ یہ انتظامی لاچارگی ہے جو حقائق کی تصدیق میں قیاس سے کام لینے کا نتیجہ ہے۔
پازیٹونگیٹو،نگیٹوپازیٹوہوگیا
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والانہ ہی کوئی ملک اور نہ ہی کوئی شخص بشمول طبی ماہرین اس بات پر یقین کریں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ پونچھ میں پہنچتے پہنچتے کورونا وائرس کی رپورٹ کے نتائج گڑبڑآنے لگ گئے ہیں۔پہلے تو یہ ضلع کورونا وائرس سے محفوظ رہا اور لاکھ کوششوں کے باوجود کوروناکوراجوری کے منجاکوٹ علاقہ سے آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی لیکن کسی نہ کسی طرح جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ وائرس پونچھ پہنچ ہی گیا جس کیلئے بھی اسے چال بازی سے کام لیناپڑا ،یہ اس وقت تک متاثر ہونے والے ضلع کے پہلے نوجوان تک نہیں پہنچاجب تک کہ وہ قرنطینہ سنٹر میں رہا۔کوروناوائرس کو جیسے ہی پتہ چلاکہ مذکورہ نوجوان قرنطینہ سے اپنے گھر اور گھر سے اپنی ڈھوک چلاگیاہے تواس نے پونچھ میں پہنچنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔یہاں پونچھ کے لوگوں کی طرف سے انتظامیہ کو اس بات پر کوساجارہاہے کہ کیوں رپورٹ آنے سے قبل ہی نوجوان کو گھر بھیج دیاگیا لیکن لوگوں کو بھی یہ سمجھناچاہئے کہ کورونا کی ہی سازش تھی جو اس نے اپنی آمد کا اعلان کچھ ٹھہر کرکیا۔پھر اس کے تیسر ے روز جو بھی ڈرامہ ہوا ،اسے کرشمے سے کم نہیں کہاجاسکتا۔جیساکہ قارئین کو یہ معلوم ہوگاکہ پہلا کیس سامنے آنے کے دو روز بعد یعنی 18مئی کو سرنکوٹ سے ایک اور پونچھ سے بھی ایک کیس سامنے آیا اور دونوں کورونا مریضوں کو رپورٹ موصول ہونے پر بعد دوپہر راجوری ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں کورونا مریضوں کا علاج ہوتاہے لیکن شام ہونے تک یہ خبر سرعام پھیل گئی کہ جن دو لوگوں کو راجوری منتقل کیاگیاہے ان میں سے یاتو ایک یاپھر دونوں ہی اصل مریض نہیں ہیں اور تشخیصی نمونوں میں رد وبدل ہوگیاہے۔کچھ عرصہ تک تذبذب کاشکار رہنے کے بعد انتظامیہ نے دونوں مریضوں کو راجوری سے شام کوواپس پونچھ لاتے ہوئے یہ بتایاکہ اصل مریض کی شناخت ہوچکی ہے اور اب اسے علاج کیلئے بھیج دیاگیاہے۔
اسے کورونا وائرس کے خلاف سازش کہئے یا پھر کرشمہ کہ بعد میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ جسے دن کے وقت کورونا مریض بتاکر راجوری منتقل کیاگیاتھا،وہ اس موذی مرض سے معجزانہ طور پر بچ نکلا ہے اور اب کورونا اس کی جگہ کسی دوسرے شہری کو شکار بنانے میں کامیاب ہوگیاہے۔اس وائرس کے چین کے شہر ووہان سے پھیلنے سے آج تک ہم یہی سنتے آرہے تھے کہ یہ ایک شخص سے رابطے سے دوسرے شخص میں پھیلتاہے اور متاثرین کوعلاج کیلئے آئیسولیشن وارڈ میں بھرتی کیاجاتاہے اورکامیاب علاج کی صورت میں رپورٹ مثبت سے منفی ہونے میں کئی دن لگ جاتے ہیں لیکن کورونا کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ پہلا ایسا کیس ہے کہ جب ایک ہی دن میں پازیٹو نگیٹو اور نگیٹو پازیٹو(مثبت منفی اور منفی مثبت) ہوگیا۔یوں کورونا کو دن دہاڑے شکست دی گئی اورنہ صرف پہلے والے دونوں افرادکو راجوری سے واپس سرنکوٹ لاناپڑا بلکہ کچھ علاقوں سے ریڈ زون اور بفر زون کادرجہ بھی واپس لیناپڑگیا۔اس واقعہ پرکورونا کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ہوں گے کہ پونچھ کے لوگ بھی کتنے خطرناک ہیں جنہوں نے اسے اندھیرے میں رکھ کر مات دے دی اوریہاں کے لوگ اور متعلقہ حکام ناممکن کو ممکن بنادیتے ہیں،اب دنیا کو ویکسین کی ضرورت بھی نہیں بلکہ ایسی ہی ہیرا پھیری کرکے کورونا کوواپس وہیں جانے پر مجبور کیاجاسکتاہے جہاں سے وہ آیاہے۔
جموں میں مرنیوالا پونچھ پہنچ کر زندہ ہوگیا
یہ غالباًکوروناوائرس کی روک تھام کیلئے 25مارچ کونافذ کئے گئے لاک ڈائون کے پہلے ہفتے کی بات ہے کہ جب ہر قسم کا ٹرانسپور ٹ بند تھاتوسرنکوٹ پونچھ کے ایک معمر شہری کی گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں سے ڈیٹھ سرٹیفکیٹ بنواکر اس کی نعش کو ایک نجی ایمبولینس گاڑی میں سوار کردیاگیا۔یہ گاڑی نعش لیکر پولیس کے درجنوں ناکے عبور کرکے بالآخر سرنکوٹ قصبہ میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے گاڑی میں رکھی گئی نعش پر نظر ڈالی جس کے ساتھ ہی مردہ زندہ ہوگیا اوروہ کلام بھی کرنے لگا۔اس واقعہ کو لاک ڈائون کی خلاف ورزی کا نام دیاگیااورجھوٹ کا سہارا لیکر جموں سے سرنکوٹ پہنچنے والے افراد کے خلاف پولیس کیس بھی درج ہوالیکن یہ بات تو سچ ہے کہ جس شخص کی ڈیٹھ سرٹیفکیٹ بنوائی گئی وہ جموں سے پونچھ پہنچتے پہنچتے زندہ ہوگیا۔
دفن کیاگیا نوجوان زندہ ہوگیا
یہ 2018کاواقعہ ہے کہ پونچھ کے مینڈھر علاقے کا وہی نوجوان زندہ و صحیح سلامت گھر واپس پہنچ گیا جسے 6ماہ قبل مردہ سمجھ کر دفن کردیاگیاتھا۔یہ نوجوان کہیں لاپتہ ہوگیاجس کی گمشدگی رپورٹ بھی درج کروائی گئی۔اسی دوران 9مارچ 2018کو جموں کے وجے پور علاقے میں ریلوے لائن سے ایک نعش ملی جسے اسی گمشدہ نوجوان کی نعش سمجھ کر مینڈھر لاکر دفن کردیاگیا اور گھر والوں نے اس کی مغفرت کیلئے قرآنی و دعائیہ مجالس بھی منعقد کیں تاہم اسے بھی معجزہ ہی سمجھیں کہ کچھ ماہ بعد نوجوان نے اپنی والدہ کو فون کرکے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیاجس پر گھر والوں حیران و پریشان رہ گئے اور یہ سوچنے لگے جسے انہوں نے جسے دفن کیاہے بالآخر وہ کون ہے۔بعد میں دفن کئے گئے شخص کی قبرکشائی کرکے اس کے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کئے گئے اوردوبارہ سے اس کی تدفین کردی گئی،تاہم یہاں بھی ایک مردہ زندہ ہوگیا جو بھی اپنے آپ میں ایک معجزہ ہے۔
اب لوگ یہ نہ سمجھیں کہ معجزے صرف انبیاعلیہ السلام کے دور ہی میں ہواکرتے تھے بلکہ آج بھی پونچھ میں ایسے معجزے ہوتے رہتے ہیں،لیکن فرق صرف اتناہے کہ انبیاکے ہاتھوں ہونے والے معجزے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اوراس کے بھیجے ہوئے مرسلین کے مصداق تھے لیکن پونچھ میں ہونے والے معجزات انتظامی لاچارگی کا ثبوت ہیں۔
 

تازہ ترین