اللہ کی نافرمانی عذاب لاتی ہے

لمحہ فکریہ

تاریخ    23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


ابونصر فاروق
قرآن کوسمجھ کر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نوح ؑ، لوط  ؑ،شعیب  ؑ،موسیٰ ؑ،صالح  ؑاور ہود ؑ کی قوموں نے جب اپنے نبیوں کی نافرمانیاں کیں تو اُن پر اللہ کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم تباہ کر دی گئی۔حضرت محمد ؐچونکہ رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے ہیںاور ان کی قوم کوقیامت تک زندہ رہنا ہے، اس لیے اس پوری قوم کو عذاب سے تباہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے کسی نہ کسی حصے پراس کی نافرمانیوں کے سبب عذاب آتا رہے گا۔
چنانچہ اس امت پر پہلا عذاب چنگیز خاں کے ہاتھوں آیا جب بغداد میں بے شمار مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں۔اٹھارہویں صدی کے بعد دنیا کے سارے مسلمان حاکم سے محکوم بنا کر یہودی، عیسائی اور اہل ہنود کے غلام بنا دیے گئے۔دو جنگ عظیم میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی۔پھر ایسی بیماریاں آئیں جن میں ان گنت انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔بیسویں صدی میں پھر اللہ کا عذاب اس طرح آیا ہے کہ اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ہر نبی کی مخالفت سماج کے اُس طبقے نے کی جس کو اللہ نے دولت، تعلیم اور سماجی اعتبار سے برتر اور بہتر بنایا تھا۔اس طبقے نے اللہ کی خاص نوازش اور عنایت کا شکر ادا کرنے اور اُس کی فرماں برداری کرنے کی جگہ نبیوں کی باتوں کا مذاق اڑایا اور اس اونچے طبقے کی دیکھا دیکھی درمیانی اور نچلے طبقے نے بھی گمراہی اختیار کی۔نبیؐنے ایک جہازکے مسافروں کی مثال دے کر بتایا ہے کہ نیچے کی منزل میں رہنے والے پانی لینے کے لئے اوپر کی منزل میں جایا کرتے تھے۔اوپر کی منزل والوں نے اْن سے ہمدردی اور تعاون کرنے کی جگہ اُن کے آنے جانے کا برا مانا۔تب نیچے کی منزل والوں نے جہاز کے پیندے کو کاٹ کر پانی لینا چاہا۔نبیؐ نے فرمایا کہ اگر اوپر والے نیچے والوں کو اس غلطی سے روک لیں تو نیچے والے بھی ڈوبنے سے بچیں گے اور اوپر والے بھی۔(بخاری)نبیؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سماج کا اونچا طبقہ نیکیوں کا حکم دیتا رہے اور برائیوں سے روکتا رہے ورنہ اللہ کا عذاب آ جائے گا اور پھر لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ (ترمذی) 
اس وقت پوری دنیا اور خود کو مسلمان کہنے والی امت بھی اللہ اور رسول کی باتوں کو بھول کرشیطان کی پیروی کرنے میں لگی ہوئی ہے۔پہلی بار اللہ کا عذاب اس طرح آیا ہے کہ پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ جس وبائی بیماری نے دنیا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ابھی تک اْس کا علاج نہیں مل سکا ہے۔نادان لوگ دعا ئیں کرنے کی باتیں کررہے ہیں لیکن اپنے گناہوں سے توبہ کرنے ، اللہ سے معافی مانگنے اور اپنا چال چلن بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔نبیؐکی پیشن گوئی کی روشنی میں اُن کی دعائیں بھی قبول نہیں ہو رہی ہیں۔
جو لوگ اس عذاب سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں، وہ اللہ سے سچے دل سے توبہ کریں، گناہوں کی زندگی سے الگ ہو جائیں اور اللہ کے فرماں بردار اورو فادار بن کر ان دو کلمات کا زیادہ سے زیادہ ورد کریں۔اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ توبہ کرنے اور نیکی کی راہ پر چلنے والوں کو عذاب سے بچا لے گا ۔ 
 

تازہ ترین