تازہ ترین

رمضان کے بعد اب ہے اصل امتحان!

تاریخ    23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


 اب جبکہ رمضان المبارک کا بابر کت اور مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور کل یا پرسوں ہم عید کی خوشیاں منارہے ہونگے جو واجب بھی ہے تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لمحے،یہ دن ،یہ ماہ وسال اصل میں ہماری زندگی کے کم ہورہے ہیں اور ہر گزرنے والا لمحہ ہمیں موت کے قریب لے جاتا ہے ۔رمضان المبارک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اگلے سال پھر وارد ہوگا لیکن کیا پتہ ،اُس سال کس کو موت سے رستگاری ملی ہوگی اور اس کو اگلے رمضان کے روزے رکھنا نصیب ہوں۔ زندگی انتہائی قلیل ہے اور اس قلیل زندگی میں کام بہت ہیں۔رمضان کے تین عشروں میں روزے رکھ کر اور نمازیں اد اکرکے بے شک ہم سکون محسوس کررہے ہیں لیکن رمضان کے بعد اصل امتحان اب شروع ہوگا۔رمضان المبارک بنیادی طور پر ایک تربیتی کورس ہے کہ ایک مسلمان کو سال کے بارہ ماہ اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے ۔امتحان یہ ہے کہ جس طرح رمضان المبارک میں ہم نے اللہ کی خوشنودی کیلئے اپنی نفسانی خواہشات کا گلہ گھونٹا اور ہر دم اللہ کی رضا کے طالب رہے ،اسی طرح ہمیں سال بھر اللہ کی رضا کی تلاش میں رہنا ہے اور اپنے نفس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا ہے ۔ایک معتبر حدیث ہے کہ جس شخص میں رمضان کے بعد کوئی انقلابی تبدیلی رونما نہ ہو اور وہ قرب الٰہی کے شرف سے بہرہ ور نہ ہوا تو سمجھ لیں کہ اُس کے ایک ماہ کی روزے فاقہ کشی کے سو اکچھ نہ تھے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہے ۔اللہ پاک ہمیں ایسے روزوںسے بچائے۔ بے شک ہم نے رضائے الٰہی کیلئے روزوں اور نمازوں کا اہتمام کیا تاہم ان روزوں اور نمازوں کے طفیل تذکیہ نفس کا جو اہتمام ہوا ہے ،اُس کو برقرار رکھنا لازمی ہے ۔شیطان پھر سے آزاد ہوگا اور عید کے بعد جب ہم معاملات زندگی دوبارہ شروع کریں گے تو ہم میں ایمان کی حرارت اس قدر موجود رہنی چاہئے کہ ہم صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے محروم نہ ہوں بلکہ رمضان کے تربیتی کورس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ نہ صرف اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈال دیں بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی نار جہنم سے بچانے کیلئے کوشاں رہیں۔ہم نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کو بھی دوزخ کی آگ سے بچانا ہے اور یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم خود راہ ہدایت پر چلیں۔ رمضان اللہ کی طرف سے ایک ایسی عنایت ہے جو ہمیں اس راہ پر چلنے کی ترغیب ہی نہیں دیتی ہے بلکہ عملاً چلا کر لے بھی جاتی ہے اور پورے ایک ماہ ہم اس راہ کے مسافر رہتے ہیں جہاں شاید ہی کبھی گناہ و تقصیر کا کوئی شائبہ رہتا ہو۔ہم سے اپنے اہل خانہ سے متعلق بھی پوچھا جائے گا اور اپنے متعلق بھی ۔لہٰذا جو ہم اپنے لئے بہتر سمجھیں ،وہیں ہمیں اپنے اہل خانہ کیلئے بھی بہتر سمجھنا چاہئے ۔رمضان وداع ہورہا ہے اور عید کی خوشیاں آرہی ہیں۔پہلی فرصت میں عید کے دن اور عید کی تیاریوں میں ہی ہم نے ثابت کرنا ہے کہ رمضان کی وجہ سے ہم بدلے ہوئے مسلمان ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کورونا وبا کے ان جاں گسل حالات میں بھی ہم بیکری کی دکانوں ،قصائیوں ،مرغ فروشوں اور سبزی والوں کی دکانوںکے طواف کرتے رہیںاورعید کی خوشی کے نام پر شکم سیری کا ایسا اہتمام کریں جوشیطان کا شیوہ ہے اور جس سے اللہ قطعی راضی نہیں ہے ۔ہماری عید بھی باوقار ہونی چاہئے ۔ ایک ایسے وقت جب دنیا سوگوار ہے تو عید سادگی سے منانا ہی بہتر ہے اور عید منانے کے دوران قطعی یہ نہیں لگنا چاہئے کہ ہم وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں جو ہم نے ایک ماہ سیکھا تھا۔عید کے بعد بھی یہ سلسلہ برقرار رہے تو جان لیں کہ آپ فلاح پاچکے ہیں۔اگر عید کے بعد بھی آپ کے معاملات رمضان سے مختلف نہ رہے اور آپ خالق کائنات کا قرب حاصل کرنے کی تلاش میں رہے تواس کا مطلب ہے کہ آپ کے روزے نہ صرف بارگاہ ایزدی میں قبولیت کے درجہ کو پہنچ چکے ہیں بلکہ آپ کو فلاح کی نوید بھی سنائی جاتی ہے اور اگر خدانخواستہ ہمارا وطیرہ پہلے جیسا رہا اور رمضان کے روزوں کے باوجودہم میں کوئی تبدیلی نہ آئی تومطلب ہیں ہم بھوک اور پیاس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا ہے ۔اللہ اس طرح کے خسار ے سے بچائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جنہیں آپ نے انعام سے نوازا ہے ۔اللہ کرے کہ رمضان کا تربیتی کورس اپنے اختتام کے ساتھ ہمارے لئے ایک ابدی خیر کاآغاز لیکر آئے اور ہم ہمیشہ اللہ کی امان میں رہیں۔آمین