یوم القدس پر جموں ، پونچھ اور منڈی میں پُرامن احتجاج

قبلہ اول کی بازیابی امت مسلمہ کی ذمہ داری: مقررین

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

عشرت حسین بٹ+حسین محتشم
منڈی+پونچھ+جموں//ماہ رمضان کے آخری جمعہ کے موقعہ پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یوم القدس پر جموں کے کربلا کمپلیکس اور پونچھ کے صدر مقام پرپُرامن احتجاج اور احتجاجی اجلاس منعقد ہوا جس میں مقررین نے قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی گئی۔ماہ رمضان کی آخری جمعہ کے موقعہ پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے انجمن امامیہ جموں کے کربلا کمپلیکس میںایک  پرامن احتجاج منعقد ہوا۔ حکومت کی جانب سے وبائی مرض کے دوران جاری کردہ ایڈوائزری کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج کے دوران تمام اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔احتجاج کا اہتمام القدس کے عالمی دن کے موقع پر کیا گیا ،جس کو پوری دنیا کے تمام مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے مناتے ہیں کیونکہ اسے امام خمینی نے 1978 میں مظلوم کے دن کے طور پر منانے اور مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔ پروفیسر شجاعت خان نے اس موقعہ پر کہا کہ اس وبائی مرض کے دوران ہمارے رہبر سید علی خمنہنی نے ہر ایک سے اپیل کی ہے کہ وبائی مرض کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیلئے کم سے کم فلسطین کا جھنڈا لہرانا چاہیے اور امریکہ اور اسرائیل جیسے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ ادھر سرحدی ضلع پونچھ کے صدر مقام پر انجمن جعفریہ پونچھ کے تلے یوم قدس کے موقعہ پر ایک احتجاجی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ و جماعت مرکزی علی جامع مسجد پونچھ مولانا سید ظہور علی نقوی نے یوم قدس اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں گفتگو میں یوم قدس کو فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے سلسلے میں فیصلہ کن دن قراردیا۔ انجمن جعفریہ پونچھ کے صدر ماسٹر انور حسین ونتو نے کہاکہ یوم قدس آج مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا معیار بن چکا ہے۔ اس دوران لاک ڈائون کے پیش نظر جہاں ضلع پونچھ کے دیگر حصوں کی طرح تحصیل منڈی میںبھی نمازِ جمعہ اور یوم القدس کے اجتماعات پر انتظامیہ کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی ۔کورونا وائرس کی وجہ سے اس برس انتظامیہ کی جانب سے منڈی میں ایسی کسی بھی تقریب کو انجام دینے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں ایسی کوئی بھی تقریبات عمل میں نہیں لائی گئی۔ ماہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کی نماز بھی ادا نہیں کی گئی۔ تنظیم المومنین کے صدر نجم جعفری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان کو آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر آکر مناتے تھے جس میں مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیل کی جانب سے کئے گئے قبضے کو چھڑانے کیلئے پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے کئے جاتے تھے لیکن اس برس کورونا کے چلتے سماجی دوری کا خیال رکھاگیااور لوگوں نے اپنے گھروں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی اپنا احتجاج درج کرویا ۔دریں اثناء یوم القدس کے موقعہ پر شیعہ فیڈریشن جموں نے علامتی احتجاج کیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کو اجاگر کیا۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن صدر عاشق حسین خا ن نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے وہ ایک جگہ جمع نہیںہوسکتے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ سماجی دوری کا خیال رکھاجائے اس لئے فیڈریشن کی ایگزیکٹو باڈی نے یوم القدس منانے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا سہارا لیاہے۔ان کاکہناتھا’’یہ ہر ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صہیونی حکومت کے خلاف آواز اٹھائے جیساکہ بانی انقلاب اسلامی امام خمینی ؒنے 7اگست1979کو ماہ صیام کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیتے ہوئے دنیا کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی ۔