تازہ ترین

تاجروں،صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کو25ہزار کروڑ کانقصان

بنک قرضوں کے سود اور بجلی فیس میں چھوٹ کا مطالبہ

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

سرینگر// لاک ڈائون عرصے میں تاجروں اور صنعت کاروں کی بجلی فیس اور بنکوں سے لئے قرضوں کے سود کو معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تجارتی انجمن کشمیر ٹریڈ چیمبر نے کہا کہ وہ کاروباری ٹیکس ادا کرتے ہیں،اس لئے انہیں سرسری نہیں لیا جاسکتا۔کشمیر ٹریڈ چیمبر کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ ایام میں ایک برادر تاجر انجمن کشمیر ٹریڈ الائنس نے لاک ڈائون کے نقصان کا اندازہ8ہزار400کروڑ روپے لگایا تھا،جو یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ وادی میں تجارت کس قدر خستہ ہوچکی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اس سے قبل بھی5اگست کے مابعد صورتحال کے نتیجے میں قریب17ہزار500کروڈ روپے کے نقصانات سے کشمیری تجارت کو دھچکا لگااور یوں گزشتہ ایک برس کے عرصے میں کشمیری تاجروں،کاروباریوں،صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کو25ہزار کروڑ روپے کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ کشمیر ٹریڈ چیمبر کے ترجمان نے کہا کہ حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تجارتی حلقے کو اس بھنور سے باہر نکالنے کیلئے منصوبہ سازی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں لاک ڈائون عرصے کے دوران چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے دکانداروں کے بنکوں کے قرضوں کے سود اور بجلی فیس کو معاف کیا جانا چاہے۔ترجمان نے بتایا کہ حکومت اور انتظامیہ پر یہ فرض عائد ہے کہ وہ دکانداروں اور تاجروںکو تعاون دیں کیونکہ یہی دکاندار اور تاجر ٹیکس ادا کرتے ہیں جس سے حکومتوں کے معاملات چلتے ہیں۔انہوں نے ریڈ زون والے علاقوں میں بھی معیاری عملیاتی طریقہ کار کو عملاتے ہوئے مخصوص وقت کیلئے دکانداروں کو دکانیں کھولنے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔