بھیم سنگھ کاالزام

واپس آنے والے شہریوں کیساتھ مجرموں جیسا سلوک

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

جموں// پنتھر س پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ ہندستان کے مختلف حصوں سے جموں وکشمیر واپس آنے والے باشندوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں سرکاری مقامات خواہ وہ گودام ہو، سکول یا کالج ہوں یا پھر دیہی علاقہ میں سنسان جگہ پر رکھا جارہا ہے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے پولیس  اورانتظامیہ کے ذریعہ کئی ہفتوں سے قید میں رکھے گئے لڑکوں کے رشتہ داروں کی طرف سے آئے سینکڑوں فون کالوں کے بعد صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کے نام ایک پیغام میں ان سے اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی درخواست کی ۔انہوں نے صدر جمہوریہ کو بتایا کہ کورونا وبا کی وجہ سے ملازمت گنوا نے کے بعد اپنے خرچہ پر لکھن پور (پنجاب)کے راستہ جموں وکشمیر میں داخل ہونے والے لوگوں کو کورونا وائرس کی جانچ کے نام پر پولیس انتظار کرارہی سرکاری گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بھرکر نام نہادقرنطینہ سنٹر لے گئی جو حقیقت میں پولیس اسٹیشن کے برابر ہے اور ان میں کھڑے ہونے تک کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور کورونا وائرس ٹیسٹ کے نام پر گھنٹوں کھڑا رکھا جاتا ہے۔ملک کے دیگر حصوں سے کٹھوعہ، اودھم پور ، ریاسی ، رام بن اور پونچھ واپس آنے والے سینکڑوں نوجوانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جبکہ ان کے والدین /رشتہ داران کا ہفتوں سے انتظار کررہے ہیں۔بھیم سنگھ نے کہا کہ ان لوگو ں کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ان جگہوں پر پینے کے پانی کی سہولیت نہیں ہے اور سینکڑوں لوگوں کے لئے صرف 2۔ ٹوائلٹ ہیں۔کچھ پولیس اہلکار انہیں ان کے بند کمروں میں باہر سے کھانا پھینک دیتے ہیں ۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے ان نوجوان ہندستانی شہریوں کی زندگی بچانے، آزادی  اور حفاظت کے لئے یہی پیغام ہندستان کی سپریم کورٹ کو بھی مداخلت کے لئے بھیجا ہے۔
 

تازہ ترین