ریزرئو بینک آف انڈیا کی6نکات کی راحت

شرحِ سود میں کٹوتی ،مزید 3 ماہ تک قسطوں کی ادائیگی میں چھوٹ

23 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک// ریزرئو بینک آف انڈیا نے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صارفین کو مزید 3ماہ کی راحت دی ہے۔ گورنر شکتی کانت داس نے ایک پریش کانفرنس میں کہا کہ ان گاہکوں کو، جنہوں نے بینکوں سے قرضے لئے ہیں، جو پہلے مار چ سے اپریل تک قسطوں کی ادائیگی کرنے میں راحت دی گئی تھی۔انکا کہنا ہے کہ اب اس میں مزید تین ماہ اگست تک کی توسیع کی گئی ہے۔

کا مورٹوریم پر بڑافیصلہRBI

ٹرم لون پر مورٹوریم کی سہولت کو تین ماہ کے لئے اور بڑھایا گیا ہے۔ بینکوں سے قرض لینے والوں کو بڑی راحت ملے گی۔ لاک ڈاؤن بڑھنے سے موروٹوریم اور دوسری راحت تین مہینے تک اور بڑھائی جارہی ہے۔ اب ای ایم آئی دینے پر 1جون سے 31 اگست تک کیلئے بڑھائی جارہی ہے۔ پہلے تین مہینے کیلئے یہ انتظامات کئے گئے تھے اسے 3 ماہ کیلئے اور بڑھادیا گیا۔ یعنی کل 6مہینے کیلئے موروٹوریم پریئیڈس کا انتظام ہوگا۔ موورٹوریم پریئیڈس کا سود ادائیگی31 مارچ2021 تک کیا جاسکتا ہے۔

 سود کی شرح میں کمی

آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس نے ریپو ریٹ میں 0.40 فیصدی کی کٹوتی کرکے 4 فیصد کردی ہے۔ گورنر نے کہا کہ ایم پی سی MPC کی میٹنگ میں 5سے6 ممبران سود کی شرحوں کو کم کرنے کے حق میں متفق ہوگئے ہیں۔ اس فیصلے کے سے ہوم لون کار لون، پرسنل لون سمیت سبھی طرح کے قرض پر EMI سستی ہوگی۔ آپ کو بتادیں کہ اس سے قبل مارچ میں بھی ریپو ریٹ میں 0.75 فیصد کمی کی گئی تھی۔

کاروباریوں کیلئے بڑا اعلان

 سڈبی کو رقم کے استعمال کیلئے زیادہ وقت ملے گا۔ سڈبی کو 15000 کروڑ روپئے کے استعمال کیلئے 90 دنوں کا زیادہ وقت ملے گا۔ ایکسپورٹ کریڈٹ وقت 12 مہینے سے بڑھاکر 15 ماہ کیا جارہا ہے۔RBI گورنر شکتی کانت داس نے کہا EXIM-Bankبینک کو یو ایس ڈالو سوئیپ کیلئے90دنوں کیلئے15000 کروڑ روپئے کا قرض دیا جائے گا۔

جی ڈی پی میں گراوٹ 

انہوں نے کہا چالو مالی سال کی جی ڈی پی گروتھ ریٹ نگیٹو رہ سکتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ دنیا کی بڑی ایجنسی بھی اس بات کا اعلان کرچکی ہے۔

مہنگائی بڑھنے کے امکان 

لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔ اناج کی فراہمی کو ایف سی آئیFCI سے بڑھایا جائے۔ ملک میں ربیع کی فصل اچھی رہی ہے۔ بہتر مون سون اور زراعت سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ طلب و رسد کے تناسب کے مابین گڑبڑ کے سبب ملک کی معیشت تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔ حکومتی کوششوں اور ریزرو بینک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات ستمبر کے بعد دکھائی دینا شروع ہوجائیں گے۔