مزید خبریں

22 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک

ڈاکٹر فاروق ،عمر عبداللہ اور الطاف بخاری کے تہنیتی پیغامات 

سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعتہ الوداع کے موقعہ پر فرزندان توحید کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ اس ماہ رمضان کے آخری جمعہ کے موقع نظر عالم انسانیت کی بقاء کیلئے بارگاہ الہٰی میں سربسجود ہوکر دعاکریں،تاکہ کوروناوائرس سے لوگوں کو نجات مل سکے۔پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کرے کہ جمعۃ الوداع کورونا وائرس سمیت دیگر تمام مصائب سے نجات کا ذریعہ بنے ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس مقدس موقع پر اللہ سے مغفرت ،امن اور خوشحالی کیلئے دعا کریں۔ بخاری نے امید ظاہر کی یہ دن جموں کشمیر کی سبھی پریشانیوں کے لئے بھی نجات کا باعث بنے ۔ 
 
 

بے پناہ عظمت و فضیلت کا دن:آغا حسن

سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے جمعۃ الوادع کے موقعہ پرکہا ہے کہ ماہِ مبارک کے فیوض و برکات کے حوالے سے جمعۃ الوداع خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی عبادات اگر چہ ماہ مبارک کی رحمت و برکات کا ناگزیر تقاضا ہے تاہم موجودہ وبائی قہر نے جہاں روزمرہ زندگی کے معمولات کو بدل کے رکھ دیا وہاں دینی امورات اور عبادات اور رسومات کی ادائیگی کا متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔انہوںنے کہا کہ دین اسلام میں انسان اور انسانیت کی امن و سلامتی اولین ترجیح کی حامل ہے اور اس معاملے میں از روئے شریعت اسلامی کوئی بھی ایسا جائز اور مباح عمل بھی ممنوع قرار پاتا ہے جو انسان اور انسانیت کے لئے خطرے کا باعث بن سکے۔ عالمی یوم القدس کے موقعہ پر مظلومین عالم بالخصوص فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ قبلہ اول کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کیلئے امت مسلمہ کے دل تڑپ رہے ہیں۔
 
 

جمعیت کا کنہ مزار واقعہ پر اظہار افسو س 

سرینگر//جمعیت ہمدانیہ نے کنہ مزار نوا کدل میں درجنوں مکانوں کو زمین بوس کرنے اور ایک قیمتی معصوم جان کے زیاں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو عالم انسانیت،اور حقوق انسانی کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ جمعیت ہمدانیہ نے اس پالیسی کی مذمت کی اور آئین ہند،جس میں ہر شخص کو مذہبی آزادی کے حقوق دئیے گئے ہیں،لیکن موجودہ حکمرانوں نے کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کو مجروح کیا ہے۔ دریں اثنا جمعیت ہمدانیہ نے جمعۃالوداع کے مبارک موقعے پر عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تقریب سعید پر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے دعا کریں۔ 
 
 
 

راجیو گاندھی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی

جے کے پردیش کانگریس صدر کا برسی پر خراج عقیدت

سرینگر //جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جی اے میر نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اْن کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی نے ملک کو اتحاد، بھائی چارے اور ترقی کی راہ دکھلائی۔ایک بیان میں میر نے بتایا کہ راجیو گاندھی جیسے قدآور لیڈران اپنی قربانیوں اور خدمات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ غلام احمد میر نے راجیو گاندھی کو ملک کا قدآور لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ملک نے ا?سمان کی بلندیوں کو چھوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی قیادت میں ملک نے تعمیر و ترقی، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ 
 
 

جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی امدادی کارروائی

سرینگر//غیر سرکاری رضا کار ادارے جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی جانب سے سرینگر کے حول علاقے میں کئی ضرورت مند کنبوں میں غذائی اجناس تقسیم کی گئیں ۔اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں ڈائریکٹر سکمز اور میڈیکل سپر انڈنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان بھی موجود تھے۔ ٹرسٹ کے چیئر مین اشتیاق بیگ نے کہا کہ انہوں نے از خودضرورتمند کنبوں کی نشاندہی کی تھی ۔
 
 

’فسادی عناصرکیخلاف کارروائی لازمی‘

جموں//راج بھون میں قومی دہشت گردی مخالف دن منایا گیا ۔ اس موقعہ پر لفٹینٹ گورنر کے دفتر سے وابستہ عملے اور افسران نے دہشت گردی مخالف عہد لیا اور ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مخالفت کرنے اور ملک میں امن ، سماجی یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا حلف لیا ۔ قومی دہشت گردی دن منانے کا مقصد لوگوں کو دہشت گردی اور تشدد سے متنفر کر کے ملک کے تمام طبقوں کے لوگوں میں دہشت گردی کے بُرے اثرات کے بارے میں بیداری عام کرنا ہے۔ یہ دن منانے سے امن ، انسانیت ، اتحاد اور لوگوں میں امن وآشتی کا پیغام عام کرنے کے ہمارے عزم کو تقویت ملتی ہے ۔ اپنے پیغام میں لفٹینٹ گورنر گریش چندر مرمو نے امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے فسادی عنصر کے خلاف براہ راست کاروائی سے امن و آشتی اور مذہبی یگانگت کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف بھارت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا شکار پوری دُنیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی کوششوں سے ہی دہشت گردی کی یہ وباء ختم ہو سکتی ہے ۔ 
 

اقامتی قانون میں تبدیلی آبادیاتی تناسب بگاڑنے کا حربہ: پیپلز مومنٹ

سرینگر//جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے جموں کشمیر اقامتی اسناد کی حصولیابی(طریقہ کار) مجریہ2020کو یکسر مسترد کیا۔ پیپلز مومنٹ کے نائب صدر فیروز پیرزادہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان قواعد کا مقصد جموں کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کرنا اور خطے میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے ان ضوابط کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ وقت کو بھی ان کیلئے نامعقول قرار دیا کیونکہ جموں کشمیر میں لاک ڈائون جاری ہے اور لوگ کورونا وائرس کے خلاف نبرد آزما ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جموں کشمیر میں کوئی بھی منتخب عوامی حکومت نہیں ہے،جہاں قانون سازیہ میں اس پر بحث کی جاتی اور اقامتی اسناد کی حصولیابی کیلئے طریقہ کارطے کیا جاتا۔ فیروز پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اقامتی قانون نے جموں کشمیر میں بیرون لوگوں کیلئے دروازے کو کھول دیا ہے،جس سے سیلاب کی مانند آئیں گے اور جموں کشمیر کے پشتنی باشندوں جیسے حقوق انہیں بھی حاصل ہونگے۔
 
 
 

کشمیری مہاجر پنڈتوں کی بازآبادکاری کا بہترین موقعہ 

جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں نے اقلیتوں کے حقوق کا استحصال کیا

جموں //جموں وکشمیر کیلئے نئے ڈومیسائل قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’ری کانسی لیشن، ریٹرن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن آف مائیگرنٹس ‘کے چیئرمین ستیش مہالدارنے اسے قومی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیاہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ تمام کشمیری مہاجر تنظیمیں اورافراداس اقدام کاخیر مقدم کرتے ہیںکیونکہ اس سے اس طبقہ کے مسائل کا کسی حد تک ازالہ ہوگا۔ان کاکہناتھاکہ اس سے صرف خواتین اور ایس سی طبقہ کے ساتھ امتیاز کا خاتمہ نہیںہوگابلکہ اس سے کشمیری پنڈت اور سکھ طبقہ کی آنیوالی نسل کیلئے بھی ایک ایجنڈا قائم ہوگا جنہیں کئی طرح کی مشکلات کاسامناہے ۔ستیش نے کہاکہ وہ سب اس قانون کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہیں 1931کے بعد اپنی سرزمین کو آہستہ آہستہ چھوڑناپڑالیکن اس قانون سے وہ مستفید ہوسکیں گے۔ا ن کاکہناتھاکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر جموں وکشمیر کا حصہ ہے جس کیلئے یہاںکی اسمبلی میں نشستیں بھی مختص ہیں اس لئے حکومت ہند کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو بھی اس ڈومیسائل قانون میں شامل کرناچاہئے ۔ستیش نے کہاکہ وہ ان شخصیات اور سیاسی جماعتوں کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے ڈومیسائل کے خلاف بیانات جاری کئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اس سے ان کی ذہنی صورتحال کا پتہ چلتاہے جو جموں وکشمیر میں اقلیتوں کے حقوق کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کیلئے ان کا استحصال کیا ۔ستیش نے کہاکہ اب حکومت ہند کی ترجیح ان وعدوںپر عمل کرناہوناچاہئے جن میں کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بازآبادکاری کاکہاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ یہ بہترین موقعہ ہے کہ پنڈتوں کی بازآبادکاری کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ وہ مانگ کرتے ہیں کہ فوری طور پرتین لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج منظور کیاجائے جس کا وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا اور کشمیری پنڈت تنظیموں سے ملاقات میں بھی انہوں نے کشمیر کے دس اضلاع میں ان کی بازآبادکاری کا کہا۔انہوں نے کہاکہ وہ حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طو رپر کشمیر کے دس اضلاع میں اس مقصد کیلئے اراضی نوٹیفائی کی جائے ۔انہوں نے کشمیری پنڈتوں، سکھوں و دیگران کیلئے اقلیتی درجہ کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری اقلیت ہونے کے ناطے 30فیصد نشستیں مختص کی جائیں ۔انہوں نے پی ایم پیکیج اوردیگر سکیموں کے تحت پنڈتوں اور سکھوں کیلئے قابلیتی رعایت بھی دینے کا مطالبہ کیا ۔انکاکہناتھاکہ وہ ایس سی اور ایس ٹی کی طرز پر ملازمتوں میں خصوصی کوٹہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ شدت پسندی کے متاثرین ہیں ۔ستیش نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ کشمیری پنڈتوں کو وادی میں صنعتی یونٹ قائم کرنے کیلئے صنعتی اراضی فراہم کی جائے اورکشمیری پنڈتوں کیلئے 400ایکڑ اراضی، سکھوں کیلئے 100ایکڑ اراضی اورکشمیری بدھسٹوں کیلئے 50ایکڑ اراضی فوری طورپر منظور کی جائے ۔انہوں نے شاردہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے 20ایکڑ اراضی کی منظوری دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس دانشگاہ کیلئے 200کروڑ روپے فراہم کئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ وادی کے بیشتر مندر5000سال پرانے ہیں جنہیں تحفظ فراہم کیاجائے ۔
 
 
 
 

ایران میں پھنسے زائرین کی حالت ناگفتہ بہہ: آغا حسن

درماندہ شہریوں کو فوری طور واپس لایا جائے 

سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے ایران میں گزشتہ کئی ماہ سے پھنسے کشمیری زائرین کی ناگفتہ بہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے درماندہ شہریوں کی جلد از جلد وطن واپسی کیلئے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ آغا حسن نے کہا کہ یہ زائرین کئی ماہ سے وطن واپسی کا انتظار کررہے ہیں اور ان کا زاد راہ کب کا ختم ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اہل خانہ میں تشویش پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زائرین میں عمر رسیدہ مرد وزن کی خاصی تعداد شامل ہے جن کو ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے صحت و سلامتی کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔آغا حسن نے افسوس ظاہر کیا کہ ایران میں پھنسے کشمیری زائرین کی وطن واپسی کے حوالے سے مرکزی سرکار دوہرے معیار کا مظاہرہ کررہی ہے بالخصوص وادی کشمیر سے وابستہ زائرین کو اپنے حال پر چھوڑدیا جارہا ہے۔ 
 
 

سانبہ قرنطینہ مرکز میں بھیڑ سے کورونا پھیلنے کا خوف 

وادی کے بجائے واپس چندی گڑھ ہی بھیج دیاجائے:کشمیری طلاب

جموں //سید امجد شاہ //چندی گڑھ سے واپس آنے والے 45کشمیری طلاب کو سانبہ کے قرنطینہ مرکز میں ٹھہرایاگیاہے جہاں بھیڑ کی وجہ سے ان طلاب کو کورونا وائرس پھیلنے کا خوف ستائے جارہاہے ۔وہ اس قدر پریشان ہیں کہ اب وادی کے بجائے واپس چندی گڑھ جانے میں ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔قرنطینہ مرکز ٹھہرائے گئے طلاب میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں شامل ہیں جنہوں نے الزام عائد کیاکہ انہیں یہاں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں اور انہیں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور کیاگیا۔چندی گڑھ میں زیر تعلیم انجمن یوسف نے بتایا’’ہمیں صبح کشمیر جانے کیلئے بسوں پر سوار کیاگیاتاہم پھر اچانک سے یہ بتایاگیاکہ جموں سرینگر شاہراہ بند ہے،اس طرح سے ہمیں یہیں پر روک دیاگیاہے ‘‘۔اس کاکہناتھا’’ہم چندی گڑھ سے اس امید سے واپس آئے تھے کہ گھر پہنچ جائیں گے لیکن ہمیں حکام کی طرف سے آگے جانے کی اجاز ت نہیں دی گئی ‘‘۔مذکورہ طالبہ کاکہناتھا’’قرنطینہ مرکز کی حالت اچھی نہیں ہے ، نہ ہی حفاظتی انتظامات ہیں اور نہ ہی حکام کی طرف سے سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ‘‘۔ایک اور طالبہ منمیت کورکاکہناتھا’’ہم درخواست کرتی ہیں کہ ہمیں واپس چندی گڑھ ہی بھیج دیاجائے ، اگر ہم مسلسل یہیں رہیں توہمیں یقینی طور پر کورونا وائرس ہوجائے گا‘‘۔اس کاکہناہے’’طلاب باربار ٹرانسپورٹ سہولت کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ ہم واپس چندی گڑھ پہنچ سکیں ،ہم پھر وہاں سے تبھی واپس آئیں گے جب ہوائی سروس بحال ہوگی،لیکن یہاں رہنا محفوظ نہیں اور ہمیں خدشات ہیں‘‘۔ان کاکہناہے کہ انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا کیونکہ کھانے کیلئے لمبی قطار لگی ہوئی ہے اور لوگ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہیں ۔رابطہ کرنے پر ایس ایس پی سانبہ شکتی پاٹھک نے بتایا’’ہم ان طلاب کو جتنا جلدی ممکن ہوسکے گا، کشمیر بھیجیں گے لیکن جموں سرینگر شاہراہ بحال توہوجائے،انہیں واپس چندی گڑھ بھیجنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘‘۔
 
 
 

بہار کے50طلاب کشمیر میں درماندہ

گھر واپسی کیلئے مؤثر انتظامات کرنے کی مانگ 

سرینگر//یو این آئی// کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے کالج آف ٹیچر ایجوکیشن سرینگر میں زیر تعلیم بہار سے تعلق رکھنے والے در ماندہ طلاب نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر انہیں گھر روانہ کرنے کے لئے اقدامات کریں۔طلاب کا کہنا ہے کہ ہمارے مسائل ومشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ہم قرض کرکے کھانے پینے کا بندوبست کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حکام کی نوٹس میں گھر واپسی کی بات لانے کے باوجود بھی اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ایک طالب علم نے فون پر یو این آئی ارود کو بتایا: 'ہم یہاں پر بہار کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 50کے قریب طلاب پھنسے ہوئے ہیں، ہم قرض کرکے کھانے پینے کا انتظام کررہے ہیں، ہمارے مشکلات دن بدن بڑھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ضلع مجسٹریٹ بڈگام کے دفتر میں گھر واپسی کے لئے ایک درخواست بھی جمع کی تھی لیکن وہاں بتایا گیا کہ ہمیں ضلع مجسٹریٹ سرینگر کے دفتر میں کارروائی کرانی ہیں۔مذکورہ طالب علم نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ دفتر سری نگر میں ہم نے گھر واپس جانے کے لئے فارم وغیرہ بھی جمع کئے اور پھر وہاں ہمیں بتایا گیا کہ بڈگام سے وائرس ٹیسٹ کرائیں اس کے بعد آپ لوگوں کو گھر واپس بھیج دیا جائے گا۔انہوں نے کہا: 'جب ہم ٹیسٹ کرانے کے واسطے بڈگام گئے تو وہاں پہلے کہا گیا کہ سب لڑکوں کا ایک ہی دن نہیں ہوسکتا ایک دن چار ہی لڑکوں کا ہوگا اور رپورٹ سولہ دنوں کے بعد آئے گی اور بعد میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ آپ لوگوں کی واپسی کا عمل فی الوقت التوا میں ہے'۔ طالب علم نے کہا کہ یونیورسٹی حکام سے بھی ہم نے رابطہ کیا کہ ہمارے گھر بھیجنے کا بندوبست کیا جائے لیکن ان کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے خرچے پر یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور قرض کرکے کھانے پینے کا انتظام کررہے ہیں اگر ہمیں فوری طور یہاں سے گھر نہیں بھیج دیا گیا تو ہم لوگوں کو فاقے لگ جائیں گے یو این آئی اردو نے یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ کے ساتھ معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔
 
 
 

ڈی جی پولیس نے احمد نگرمیں پولیس پوسٹ کا افتتاح کیا

سرینگر// ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے احمد نگر (پتی آنچار ) میں پولیس پوسٹ کا افتتاح کیا ۔انہوں نے پاندچھ کا بھی دورہ کیا جہاں کل جنگجوئوں کے حملے میں بی ایس ایف کے 2اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔پولیس پوسٹ کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے وہاں عمارت کا جائزہ لیا اور وہاں تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس پوسٹ کے قیام سے علاقے کے لوگوں کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوئی ہے اور اس پوسٹ کے قیام کا مقصد لوگوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کا حل ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے ،سماجی برائیوں کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کووڈ 19سے نمٹنے کیلئے پولیس پیش پیش ہے۔ڈی جی پی کے ہمراہ آئی جی پی کشمیر وجے کمار ،ڈی آئی جی محمد سلیمان چودھری اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے ۔انہوں نے علاقہ میں پولیس کی طرف سے امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کے رول کی سراہنا کی اور زور دیا کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے،خواتین کے خلاف جرائم اور منشیات کا قلع قمع کرنے کیلئے کام کریں ۔
 
 
 
 
 
 
 

تازہ ترین