کورونا لاک ڈاؤن کا مثبت پہلو | کھیتوں میں دھان کی پنیری لگانے کے کام میں مقامی نوجوان مصروف

21 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

یواین آئی
سری نگر// وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن اور وائرس متاثرین و متوفین کی تعداد میں اضافہ درج ہونے کے بیچ کسان کھیتوں میں دھان کی پنیری لگانے کے کام میں جٹ گئے ہیں تاہم جہاں سماجی دوری کا خیال رکھا جارہا ہے، وہیں امسال بیرون وادی کے مزدوروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان کھیتوں میں پنیری لگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وادی میں کاشت کاری کے تمام کاموں میں بیرون وادی کے مزدوروں کو ہی کھیتوں میں دیکھا جاتا تھا اور دھان کی پنیری لگانے کا کام بھی ان ہی مزدوروں کے حوالے کیا جاتا تھا لیکن امسال کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن گیا ہے۔ادھر بزرگ کسانوں کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن سے یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ہمارے نوجوان دوبارہ زمینداری کرنے لگے ہیں۔وسطی ضلع بڈگام کے عترت آباد کری پورہ نامی گائوں سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایک گروپ جو کھیت میں پنیری لگارہے تھے، نے بتایا کہ ہم امسال برسوں کے بعد خود پنیری لگارہے ہیں اور دوستوں کے ایک گروپ میں یہ کام کرنے میں ہمیں لطف آرہا ہے۔وسیم حسین نامی ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے لاک ڈاؤن کی وجہ سے امسال برسوں کے بعد اپنی کھیت میں دھان کی پنیری لگانے کے کام میں گھر والوں کی مدد کرنے کا موقع ملا ہے۔انہوں نے کہا،’’میں تعلیم کے ساتھ مصروف رہنے کی وجہ سے کھیت میں گھر والوں کا ہاتھ بٹانے سے قاصر رہتا تھا لیکن امسال لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں گھر میں ہی بیٹھا ہوں اور مزدور بھی نہیں مل رہے ہیں اس لئے میں نے کھیت پر جاکر پنیری لگانے کا کام شروع کردیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم چار پانچ دوست مل کر ایک دن ایک دوست کے کھیت میں کام کرتے ہیں اور دوسرے دن دوسرے دوست کے کھیت میں جا کر پنیری لگاتے ہیں۔وسیم کے ایک ساتھی و دوست الیاس احمد نے بتایا کہ کھیت میں کام کرنے کے دوران ہم جہاں مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں وہیں گھر والوں کا ہاتھ بٹانے اور موجودہ حالات میں پیسہ بچانے کا بھی موقع ملتا ہے۔ادھر بزرگ کسانوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے یہ فائدہ ہوا کہ تعلیم یافتہ نوجواںوں کو کھیت میں جاکر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ غلام محمد نامی ایک ادھیڑ عمر کے کسان نے بتایا،’’'ہمارے نوجوان کھیتوں پر شاذ ونادر ہی جایا کرتے تھے اور یہاں سارا کام بیرون وادی کے مزدور ہی کیا کرتے تھے لیکن اس سال ہمارے نوجوان جب گھروں میں ہی بند ہوگئے تو انہیں کھیتوں پر جاکر کام کرنے کا موقع مل گیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف زرعی اراضی سکڑ رہی ہے تو دوسری طرف نوجوان طبقہ زمینداری سے کنارہ کشی اختیار کررہا ہے جس سے یہاں اس اہم ترین شعبے پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے۔محکمہ زراعت کے اعداد وشمار کے مطابق وادی میں گذشتہ چار برسوں کے دوران قریب 79 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو دیگر مقاصد بالخصوص رہائشی و کمرشل ڈھانچوں کی تعمیر اور میوہ باغات میں بدلنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی، جہاں لوگوں کی بنیادی خوراک چاول ہے، میں زرعی زمین کا تیزی سے سکڑنا اس ہمالیائی خطہ کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ پابندی کے باوجود زرعی زمین پر رہائشی و کمرشل ڈھانچے تعمیر کرنے کی اجازت دینا بدقسمتی ہے جبکہ زیادہ کمائی کی لالچ میں زرعی زمین کو میوہ باغات میں بدلنا بھی افسوسناک ہے۔ناظم زراعت کشمیر الطاف اعجاز اندرابی نے گذشتہ ماہ بتایا کہ زرعی زمین کا تیزی سے سکڑنے کا رجحان اس خطے کے لئے تباہ کن ہے اور اگر یہ رجحان یوں ہی برقرار رہا تو دس سال بعد ہمیں یہاں کہیں بھی زرعی زمین نظر نہیں آئے گی۔ان کا کہنا تھا،’’موجودہ رجحان سے لگتا ہے کہ دس سال بعد ہمیں یہاں کہیں بھی زرعی زمین نظر نہیں آئے گی۔ پوری وادی جنگل میں تبدیل ہوگی جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ یہاں موسمیاتی تبدیلی رونما ہوگی جس سے سیب کی بھی موت ہوسکتی ہے۔ یہاں کے لوگ اس وقت پچھتائیں گے جب بہت دیر ہوچکی ہوگی‘‘۔
 

تازہ ترین