تازہ ترین

اقامتی سند کی اجرائی کے قواعد وضوابط

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

20 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

بالآخر وہ ہو کر ہی رہ گیا جس کا 5اگست2019سے انتظار کیاجارہا ہے۔ پشتینی باشندگی سند بالآخر ختم کردی گئی اور اس کی جگہ اقامتی سند متعارف ہوگئی جس کی اجرائی کیلئے گزشتہ روز باضابطہ گیزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ قواعد وضوابط جاری کئے گئے ۔یہ قواعد و ضوابط کم و بیش وہی ہیں جو مرکزی حکومت نے اقامتی سند کی اجرائی کے قانون میں وضع کئے تھے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب صراحت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے کہ نوکریوںکے حصول کیلئے اقامتی اسناد کی حصولی کیسے ممکن بن پائے گی اور اس کی اجرائی کا کیا طریقہ کار رہے گا۔قواعد و ضوابط کے مطابق31اکتوبر2019تک جن افراد کے حق میں جموںوکشمیر میں پشتینی باشندگی اسناد جاری کی گئیں، وہ اقامتی سند کے حصول کے اہل ہونگے اور انہیں صرف یہ سند دکھانا ہوگی، جس کے عوض انہیں اقامتی سند ملے جبکہ انکے بچوں کو والدین کی پشتینی باشندگی سند اور اپنی سندِ تاریخ پیدائش دکھا نا ہوگی جس کے عوض وہ اقامتی سند کے حصول کے اہل قرار پائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ جموںوکشمیر کے جو پشتینی باشندے ہیں،وہ اقامت گزار برقرار رہیں گے اور ان کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے تاہم قواعد و ضوابط میںکچھ اس طرح کا بندو بست کیاگیا ہے جس سے جموںوکشمیر میں اقامتی سند حاصل کرنے کیلئے ایک فلڈ گیٹ کھل چکاہے ۔سب سے پہلے تو مغربی پاکستان کے رفوجیوں کو اقامت گزار قرار دیاگیاہے جبکہ اس کے بعد والمیکی طبقہ بھی اقامتی سند کا اہل ہے ،نیز وہ خواتین اوران کے بچے بھی جموں وکشمیر کی اقامتی سند کے حصول کے اہل قرار دئے گئے ہیں جنہوںنے جموںوکشمیر سے باہرشادیاں کی ہوں۔اس کے علاوہ جیسا کہ پہلے ہی کہاجاچکا ہے کہ وہ تمام لوگ اقامتی سند حاصل کرنے کے اہل ہیں جو جموںوکشمیر میں پندرہ سال رہے ہوںیاجنہوں نے مرکزی زیر انتظام والے علاقے میں7برسوں تک تعلیم حاصل کی ہو اور10ویں و بارہویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی ہو،نیز جموں کشمیر میں مرکزی دفاتر ،جن میں آل انڈیا سروس افسراں، مرکزی حکومت کے تحت خودمختار اداروں و نیم سرکاری اداروں، سینٹرل یونیورسٹیوں اور تسلیم شدہ تحقیقی اداروں میں تعینات ملازمین،جنہوں نے10برسوں تک اپنی خدمات انجام دی ہو،وہ اور ان کے بچے بھی جموںوکشمیرکے اقامت گزار قرار پائیں گے۔اس کے علاوہ مہاجرین کیلئے قائم ریلیف و بازآبادکاری کمشنر کے دفتر سے تسلیم شدہ مہاجرین بھی اقامت گزارہونگے اور یہاں اس بات کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جموںوکشمیر یا ملک کے کسی بھی حصہ میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی غیر تسلیم شدہ مہاجر ابھی بھی اپنی رجسٹریشن کرا سکتا ہے جس کے بعد وہ جموںوکشمیر کی اقامت حاصل کرسکتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ پشتینی باشندگی قانون ختم کرکے اقامت کا جو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے ،اُس نے جموںوکشمیر میں غیر مقامی لوگوںکی آمد اور ان کے بود و باش اور ملازمتیں اختیار کرنے کیلئے ایک فلڈ گیٹ کھول دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ایسے لوگوںکا ایک سیلاب اس گیٹ سے آجائے گا جو اپنے آپ کو جموں وکشمیر کی اقامت کے اہل قرار دیں گے ۔محتاط اندازوں کے مطابق فوری طو ر پر جموںوکشمیر کی آبادی میں لاکھوںکا اضافہ ہوگااور آنے والے دنوںمیں یہ سلسلہ ایک مستقل شکل اختیار کر جائے گا جسکے نتیجہ میں یہاں غیر مقامی لوگوں کی رہائش اختیار کرنے کا سلسلہ کبھی رُک نہیں پائے گا اور پھر وہ دن بھی آجائے گا جب یہ لوگ اقامت گزار قرار پائیں گے اور نتیجہ کے طور پھر وہ وقت بھی آسکتا ہے جب جموںوکشمیر کے اصل اور پشتینی شہرے اقلیت میں آسکتے ہیں۔غور طلب ہے کہ اجرائی کے طریقہ کار میں بھی اب کوئی قانونی میکانزم نہیں بلکہ اب یہ صرف ایک انتظامی معاملہ بن گیا ہے جبکہ ایک تحصیلدار کو اس سند کی اجرائی کا حق ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ اس سند کے حصول کیلئے آن لائن درخواست دی جاسکتی ہے اور آن لائن ہی اجرا کی جاسکتی ہے جبکہ یہ سارا عمل 15روز میں مکمل ہونا ہے ۔نوکریوں کے حصول کے نام پر اقامتی اسناد کی اجرائی کا اتنا سادھا عمل سمجھ سے بالاترہے ۔یہاں پشتینی باشندگی سند بنانے میں پشتینی باشندوںکو کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے تھے ،سب جانتے ہیں لیکن اقامتی سند کی حصولی کیلئے جس قدر آسان میکانزم رکھاگیا ہے ،اُس سے اُن خدشات کو تقویت پہنچتی ہے کہ شاید معاملہ کچھ اور ہی ہے ۔بی جے پی کو چھو ڑ کر بیشتر سیاسی جماعتوںنے ان قواعد و ضوابط کی مخالفت کی ہے ۔سیاسی مخالفت کی روشنی میں حکومت کو چاہئے کہ وہ اقامتی سندکی اجرائی کے عمل کو شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ اس کو اس قدر معتبر بنائے کہ کم ازکم جموںوکشمیر کے لوگوں کو لگے کہ یہ انکے ساتھ کوئی کھلواڑ نہیں کیاجارہا ہے بلکہ اقامتی سند متعارف کرکے حکومت واقعی ان کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتی ہے جیسا کہ دعوے کئے جاتے رہے ہیں۔