تذبذب

کہانی

تاریخ    17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


عاشق حسین آکاشؔ
شام ہونے کو ابھی کچھ وقت اور تھا ۔گھر میں افطار کی تیاریوں میں بچے بے چینی سے انتظار میں تھے۔ احمد نے پورے چالیس دنوں کے گھر قرنطین  (home quarantine)  کے بعد باہر کی ہوائوں اور ماہِ رمضان کی چہل پہل کا معائینہ کرنے کی خاطر بازار کا رخ کیا۔ چلتے چلتے احمد کو دھندلاہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ خیالوں میں مگن احمد نے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مَلتے ہوئے من ہی من میں دھندلاہٹ کا سبب  ماہِ رمضان کے پہلے روزے کو ٹھہراتے ہوئے ہولے ہولے آگے بڑناشروع کیا۔۔۔۔(شائد اس کو یہ پتا بھی نہیںکہ یہ اثر بیچارے پر گھریلو قرنطینہ کی وجہ سے ہے۔)
اپنے مُحلے کی گلیوں سے احمد کچھ اس طرح سے گذر رہا ہے گویا کہ کوئی اجنبی کسی انجان راستے پر بھٹک چکا ہو۔۔۔ اور ساتھ ہی  کسی چلنے کی بیماری میں بھی مبتلا ہو۔ آخر ایسی کیفیت کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ بیچارے نے پورے چالیس دن کے بعد باہر کی روشنی جو دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا ہی نہیں احمد راستے میں بیٹھے لوگوں کے لئے بھی کسی بیگانے سے کم نہیں۔ بازار تک کا یہ سفر احمد کے لئے کوہِ ہمالیہ کے کسی خاردار جنگل میں چلنے کے مترادف بن گیا۔ راستے میں قبرستان کے ارد گردد اروغوں کی طرح بیٹھے لوگوں کی نظریں تیروں کی مانند احمد کی نفسانی قوت کو چھلنی کر رہی تھیں۔۔۔۔۔ جیسے ایک بھکاری امیروں کی بستی سے گذر رہا  ہو اور سوتے ہوئے کتے کو بھی اس کی آہٹ محسوس کر کے بھکاری کے پھٹے کپڑوں کو اُتارنے کی کوشش میں لگے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکانوں پر بیٹھے لوگوں کی طنز نگاری اورمسجد کے متولی حضرات  کے اشارے احمد کو صاف مجرم ٹھہراتے ہوئے طنزو مزاح کی آندھیوں سے اس کے بچے کچے ہوش و حواس کو دھول کی طرح اُڑانے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے کہ اوپر والے نے لوگوں کی تقدیروں کا منصف انہی کو ٹھہرایا ہو۔۔۔۔۔۔
بازار کی چہل پہل دیکھ کر احمد من ہی من میں اپنے آپ کو کوسنے لگا ۔اور اس سوچ میں پڑ گیا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں!!!! لوگ تو کھلے عام سڑکوں پر جمع ہیں!!!!!!!اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جیب سے سینی ٹائزر  (sanitizer)  نکال کر ہاتھوں کو رگڑنے لگا۔۔۔ چالیس دنوں کے گھریلو قرنطین نے احمد پر ایسا خوف طاری کیا ہے کہ وہ لوگوں سے بات کرنے پر بھی سینی ٹایزر کا استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
شائد یہ اثر اخباروں میں شائع ہونے والے یا ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے  احکامات کا ہو، جن کا ورد وہ لگاتار چالیس دن سے کرتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر احمد نے ایک میوہ فروش کی دکان کے سامنے لمبی قطار دیکھی۔۔۔۔ لوگ شائد افطاری کے لئے میوہ خرید رہے تھے۔۔۔ میوہ فروش کی نظر جوں ہی احمد پر پڑی تو وہ زور سے چلانے لگا ۔۔۔۔احمد بھائی۔۔۔۔۔۔۔ارے او احمد بھائی۔۔۔۔۔۔احمد بھائی ۔۔۔آجائو افطاری کے لئے کچھ میوے لے جائو۔۔۔۔۔۔ احمد میاں چونکہ وباء کے چلتے بازار سے کوئی بھی چیز لانے کے مطمنی نہیں تھے اور ان کے گھر والے بھی ان دنوں باہر کی کوئی چیز پسند نہیں کرتے تھے۔ حتٰی کہ اس کی بچی’ فرزانہ‘ تو سوِئیاں (noodles)  تک کو کرونا وائرس جان کر کھانے سے پرہیز کرتی رہی۔۔۔۔۔۔اب میوہ جات کی بات ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔  اور ملک کی بیشتر منڈیوں سے آنے والی خبروں نے تو احمد میاں کو ایک خوف کے دائرے میں ہی بند کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
میوہ فروش ’باسط‘  کی لگاتار آوازوں نے احمد میاں کو اپنے قدم روکنے پر مجبور کرلیا۔۔۔کیوں نہ کرے ۔۔۔ چالیس منٹ کے اس سفر میں باسط واحد شخص تھا جس نے احمد میاں کو  ’احمد بھائی‘  کے نام سے پکارا تھا۔۔۔۔ یا یہ ہوسکتا ہے کی بھیڑ کی وجہ سے شرمسار ہوکر احمد میاں رُکے ہوں۔۔۔۔۔۔
 احمد میاں نے دکان کی اور کچھ اس طرح سے رُخ کر لیا گویا کہ اُسے سینکڑوں آدمی کھینچ کر لے جا رہے ہوں۔۔۔۔ اب دور بیٹھے  بھیڑ کے تھمنے کے انتظار میں احمد میاں نے یہ دس منٹ کچھ اس طرح سے گذارے جیسے کہ وہ کوئی گناہِ کبیرہ کر کے سنگسار ہو رہے ہوں۔۔۔۔۔ اتنے میں باسط میوہ فروش نے احمد میاں کے ہاتھ میوئوں سے بھری دو تین تھیلیاں پکڑا دیں اور ان الفاظ سے رخصت کیا کہ بھائی صاحب پیسہ بعد میں لیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں  احمد میاں گھر کو چل دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایوسی چہرے سے کچھ اس طرح سے چھلکتی رہی جیسے کہ ہاتھ میں لیے تھیلوں  میں احمد میاں  کوئی حرام چیز گھر کی اور لے جا رہے ہوں۔۔۔۔۔۔ گھر کے بر آمدے پر ہی اپنی بچی کو آواز لگاتے ہوئے۔۔۔۔۔ فرزانہ۔۔۔۔۔۔بیٹی فرزانہ۔۔۔ امی سے کہو کہ ابو افطاری کے لئے کچھ لے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آواز سنتے ہی فرزانہ کی امی برآمدے میںآ پہنچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد میاںکے ہاتھوں میں میوئوں سے بھرے تھیلے دیکھ کر ایسی حیران ہوگئی جیسے کہ احمد میاں کے ہاتھوں میںمیوے نہیں ایٹم بم دیکھا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے خدایا۔۔۔ہائے خدایا۔۔۔۔آپ کو کس نے کہا تھا لانے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ باہر کے حالات نہیں دیکھتے کیا۔۔۔۔۔۔آپ کو بچوں کی فکر ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔جیسے کہ ہم یہ سب  کھائے بغیر زندہ نہیں رہ پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زوجہ کی ان تلخ مگر سچی باتوں کو بیچارہ احمد میاں چپ چاپ سنتا رہا۔۔۔۔۔۔اور تھیلیوں کو برآمدے پر ہی رکھتے ہوئے ایک لمبی آہ بھر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر بازار میں پیش آئی آپ بیتی کو کسے اور کیسے سنا پائے۔۔۔۔ اس سوچ میں گم ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں محلے کی مسجد سے ۔۔۔۔افطار۔۔۔۔۔ افطار۔۔۔۔۔افطار۔۔۔۔ کی آوازیں گونجنے لگی۔۔۔۔۔۔
���
ٹیچر، گورنمنٹ بائز ہائر سیکینڈری اسکول اچھہ بل
برنٹی اننت ناگ کشمیر
ای میل؛drengyashiq@gmail.com
موبائل نمبر؛9906705778

تازہ ترین