وَبا

افسانچہ

17 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

میسرہ اختر(بنڈگام بڈگام)
دادا جی یہ وباء کیا ہوتی ہے۔ نمازیں مسجدوں میں نہ پڑھو، وہاں مت جائو۔
کچھ نہیں بیٹا حامد۔ یہ ایک بیماری ہے جو دنیا میں زوروں سے پھیل رہی ہے۔ آپ بھی کہیں نہیںجانا۔
نہیں دادا جی میں تو مسجد جائوں گا نماز پڑھنے، ورنہ اللہ ناراض ہوجائےگا۔
ارے حامد بیٹا، اللہ تو ناراض ہی ہے ہم سے، تبھی تو یہ حال ہے دنیا کا۔
دادا جان۔ کیا اللہ مجھ سے بھی ناراض ہے۔ میںتو نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور قرآن شریف کی تلاوت بھی کرتا ہوں۔
ہاں بیٹا حامد! مگر کچھ لوگوں کی وجہ سے ہم سب اس آفت میں مبتلا ہوگئے۔ اسی لئے یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نازل ہورہاہے اور اللہ نے سب کو یاد دلایا کہ یہ دنیا فانی ہے۔ دنیا کے لوگ بھول چکے تھےکہ ایک دن مرنا ہے، وہ تو دولت، شہرت اور پیسہ کمانےمیں لگے ہیں۔
دادا جان کیا دولت، شہرت اور پیسہ کمانا گناہ ہے۔ 
نہیں بیٹا گناہ نہیں ہے مگر ناجائز طریقے سے نہیں کمانا ہے۔ 
اچھا داد جان اب سمجھ آگیا کہ اللہ ناراض کیوں ہے۔ کیونکہ لوگ بھول گئے ہیں کہ ان کو اس دنیا کا حساب اللہ کے سامنے ایک دن ضرور دینا ہے۔ لوگ اللہ کو بھول گئے اور پیارے رسولؐ کا فرمان بھی۔ تبھی لوگ اللہ سے دور اور اللہ ان سے دور ہوگیا۔
یا اللہ ہم تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہمیں اپنے در سے دور مت کرنا ورنہ ہم ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔
 

تازہ ترین