تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    15 مئی 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟
محمد معروف بٹ۔باغات کنی پورہ سرینگر
اعتکاف مسجد میں لازمی

موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے

جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے جیسے مساجد میں اذان اور محدود جماعت و جمعہ کے ساتھ عبادت جاری ہے ،اسی طرح مساجد میں ایک شخص بھی اعتکاف کرسکتا ہے اور ایک شخص کے اعتکاف پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہونا چاہئے ۔اس لئے یہ ایک شخص ،جو صحت مند ہے اور وائرس سے محفوظ ہے  ، اپنے گھر ،اپنی دکان ،اپنے دفتر میں ہوتا ہے ،اسی طرح یہ مسجد میں اعتکاف کی نیت سے بیٹھ جائے تو اس میں کیا اعتراض ہوگا؟اس کے بعد جو لوگ آج اپنے گھروں میں ہی نمازیں پڑھ رہے ہیں وہ اُسی کمرے میں اُسی طرح بیٹھ جائیں جیسے اعتکاف والا بیٹھ جاتا ہے اور اُسی طرح عبادت میں مشغول ہوجائیں  جیسے معتکف مسجد میں ہوتا ہے تو رمضان المبارک میں اس مسلسل عبادت کا ثواب تو ضرور مل جائے گا اور جو وقت لاک ڈاون کی وجہ سے بے کار گذر سکتا ہے وہ وقت نوافل ،تلاوت ،تسبیحات دعائوں اور گناہوں سے محفوظ رہ کر اپنے اللہ سے لَو لگانے کی حالت میں گزرے گا ۔اس اجر و ثواب اور عبادت میں کوئی شک نہیں ہے ۔اس لئے اس کی ترغیب دی جائے۔اسی کے ساتھ جو لوگ ہمیشہ اعتکاف کرنے کے عادی ہیں اور یا وہ رمضان المبارک کے ان ایام میں اپنے مشائخ کی تلقین کے مطابق معمولات کرنے کے مسلسل عادی ہیںبلکہ اپنے شیخ سے مستفید ہونے کے لئے اجتماعی اعتکاف کرتے ہیں ،وہ اپنے شیخ ہی کے حکم اور مشورے سے اپنے گھروں کے اُن کمروں میں معتکف کی طرح پابند ہوکر بیٹھ جائیں اور وہ تمام معمولات کریں جو اُن کو تلقین کئے گئے ہوں تو یقیناً وہ کمی جو اعتکاف چھوڑنے کی وجہ سے یقینی طور پر ہوگی ۔اس کمی کا ازالہ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہوگا ۔اس لئے جب فرائض ،نوافل ،تلاوت ،تسبیحات ،دوردشریف ،استغفار ہزاروں کی تعداد میں ہونگےاور پھر دعائیں ہوں گی تو ان تمام کے اثرات بھی ہوں گے اور ثمرات بھی ملیں گے اور رمضان المبارک کے یہ قیمتی اوقات فضول مشاغل میں برباد ہونے سے سے بچ جائیں گے ۔یہ ہے وہ حقیقت جو بعض محتاط اور عبادت پر کھڑا کرنے کے جذبہ والے علماء کہہ رہے ہیں اور یہ بالکل درست ہے۔
سوال:  موجودہ حالات میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے متعلق جو صورت حال ہے اُس کے حوالے سے ہمارے کچھ سوالات ہیں ۔ان کا جواب آپ کے کالم میں اگر آجائے تو اطمینان ہوگا۔وہ سوالات یہ ہیں۔
۱)جمعہ کی نماز تو مسجدوں میں ادا ہوتی ہے ۔گھروں میں جمعہ کی نماز درست کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس کا جواب مطلوب ہے ۔
۲)جمعہ کا ایک اہم منظر اس کی اجتماعیت کی شان ہے تو جب یہ اجتماعیت ہی نہ ہو اور مسلمان جیسے جوق در جوق مسجدوں کی طرف جمعہ کے دن آتے ہیںاور پوری آن و شان کے ساتھ جمعہ کی نماز سے پہلے اور آنے جانے والوں کا نظارہ عید کا نظارہ ہوتا ہے ۔آج یہ سب کچھ ختم ہوچکا ہے ۔گھروں میں جمعہ پڑھنے میں یہ سب کچھ نہیں تو یہ جمعہ کیسے درست ہوگا ۔
۳) فقہ اسلامی کی کتابوں میں جب صراحت سے لکھا ہے کہ جو شخص جمعہ نہ پڑھ سکے وہ ظہر کی نماز اپنے گھر میں پڑھے تو اب یہ ظہر کے بجائے جمعہ پڑھنا اور وہ بھی گھروں میں کیسے درست ہوگا ؟ان سوالات کا جواب ضرور آنا چاہئے ۔مقصد صرف بات سمجھنا اور خدشات کا ازالہ ہے ،کوئی اعتراض یا غیر ضروری مباحثہ یا مکالمہ نہیں ہے ۔
محمد سرور ملک ۔ڈوڈہ ،جموں و کشمیر

دنیا کو درپیش بحرانی حالات میں نماز جمعہ کے مسائل

موقوف کرنا جائز نہیں ، محدود کرنے کا عمل مجبوری

جواب  : وبائی بیماری کے عالمی پھیلائو کے نتیجہ میںجو مسائل پیدا ہوئے اُن مسائل میں اہل ایمان کے وہ مسائل بھی ہیں جو اجتماعیت اور جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔جب یہ مسائل پیدا ہوئے تو ہر خطہ کے علماء و ارباب فتویٰ آپسی مشاورت اور غور و خوض کے بعد شریعت کی حدود اور حالات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر حل نکالتے رہے ۔نماز جماعت اور جمعہ اور تراویح وغیرہ کے متعلق بھی اس طرح آپسی گفتگو ،مشاورت اور کتب فقہ میں درج شرائط اور اصولوں کو سامنے رکھ کر یہ عمل چلتا رہا اور رہنمائی پیش ہوتی رہی ۔اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ہیں۔
۱)نماز جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے اور جماعت کے لئے افراد کی مقدار متعین نہیں ۔لہٰذا کم سے کم افراد بھی اگر کسی جگہ جمع ہوں تو نماز جمعہ ادا ہوجائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ بے شمار غیر مسلم ملکوں اور علاقوں میں ،جہاں مسلمان بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں ، لوگ جمعہ کی ادائیگی کے لئے جمع ہوتے ہیں اور نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔بہت سارے ملکوں میں تو سرے سے مسجدیں بھی نہیں ہیں پھر بھی مسلمان کسی ایک جگہ جمع ہوکر جمعہ پڑھتے ہیں ۔سمجھنے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ قیام جمعہ کی شرائط الگ ہیں اور جمعہ کی ادائیگی کی شرائط الگ ہیں ۔اگر کسی بستی میں قیام جمعہ کی شرائط ہی نہیں اور اس لئے وہاں پہلے سے جمعہ قائم نہیںہوتا تو آج کے ان حالات میں بھی وہاں جمعہ درست نہ ہوگا ،چاہے بھلے یہ مسلم بستی ہی کیوں نہ ہو ،مثلاً چھوٹا گائوں ۔اور جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہے وہاں آج قیام جمعہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ تعّدد جمعہ کا مسئلہ ہے ،یعنی جیسے بڑے شہروں اور قصبات میں متعدد جگہ جمعہ پڑھنے کی اجازت پہلے سے ہی موجود ہے اور سارے عالم میں اس پر عمل ہے ،اسی طرح آج اس تعدّد جمعہ کے مسئلہ پر عمل کرتے ہوئے متعدد جگہ جمعہ درست ہوگا یا نہیں یا سرے سے ہی جمعہ ختم کرنے کے لئے حالات کو بنیاد بنایا جائے ۔اس نکتہ پر غور وخوض کے بعد طے ہو اکہ جمعہ بالکلیہ ختم کرنا تو شرعاً ممکن نہیں ہے ،نہ کسی کو اس کا اختیار ہے کہ پوری قوم اور تمام شہر و قصبات میں جمعہ روک دینے کا جواز پیش کرسکے ۔لہٰذا جمعہ ضرور قائم رکھا جائے اور جب جمعہ قائم رکھا جائے تو کس طرح؟ جمعہ کی بڑی اجتماعیت تو طبی احتیاط کی بنا پر نہیں ہوسکتی تو تعدّد جمعہ کے ذریعہ اس کا حل نکالا گیا کہ جماعت کم سے کم ہو۔اور اس طرح جمعہ قائم بھی رہے گا اور احتیاطی احکامات اور تقاضوں کی خلاف ورزی بھی نہ ہوگی۔اس تعدّدجمعہ کے جواز کے اصولوں کو برقرار رکھ کر اور اسی سے فائدہ اٹھاکر جمعہ متعدد جگہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ،گویا نہ تو جمعہ موقوف کیا گیا نہ جمعہ کی بڑی جماعت قائم کرکے اعتراض کرنے کا کوئی موقعہ باقی رہا اور نہ احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی ہوئی۔
اب سوال ہوا کہ متعدد جگہ جمعہ پڑھنے کے لئے ہر جگہ مسجد ہونا شرط ہے تو اس کے لئے خود شریعت کایہ اصول ملحوظ رکھا گیا کہ جمعہ قائم کرنے کے لئے مسجد شرط نہیں ہے ۔اسی لئے قلعوں بڑے بڑے دفاتر ،شاپنگ سینٹروں،بڑی بڑی تعلیم گاہوں ،تجربہ گاہوں ،جیل خانوں  ،سفارت خانوں ،فیکٹریوں  کھیل کے میدانوں ،مختلف اداروں کے ساتھ ملے ہوئے پارکوں میں اورٹریڈنگ کے بڑے بڑے مالوں میںجمعہ پڑھا جاتا ہے ۔چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب الحلبی میں ہے کہ نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے مسجد کا ہونا شرط نہیں اور اس اصول کی بنیاد حضرات صحابہ کرام کا وہ عمل ہے کہ جب وہ دوسرے ممالک میں اشاعت ِ اسلام کے ارادوں سے پہنچے تو جب وہ بڑی جماعت کی شکل میں ہوتے تو اُن علاقوں میں جمعہ پڑھتے تھے حالانکہ ابھی وہاںمسجدیں تعمیر نہ ہوئی ہوتی تھیں۔جب ادائیگی جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں تو جیسے شہر کے پارکوں او رتعلیم گاہوں کے میدانوں نیز بڑے شہروں میں حکومتی اداروں مثلاً سفارت خانوں کے مخصوص کردہ کمروں اور ہوائی اڈوں میں مقرر کردہ ہال یا بڑے ے بڑے احاطوں مین جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے اور ان تمام جگہوں پر مسجد نہیں ہوتیںاسی طرح آج مساجد میں تعداد کم کرکے چھوٹی مسجدوں میں ،حتی ٰ کہ گھروں میں جمعہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ۔البتہ جہاں بھی جمعہ پڑھا جائے وہاں جمعہ کی تمام شرائط ملحوظ رکھنا لازم قرار دیا گیا ۔اور وہ ہیں خطبہ،جمعہ کے لئے کم از کم تین افراد بطور مقتدی اور اگر آس پاس کا کوئی شخص اس میں شامل ہونا چاہے تو اُس کے لئے اذنِ عام ۔بس اس طرح گھروں میں جمعہ قائم کرنے کی اجازت دی گئی ۔اس کے تین بڑے نتائج بلکہ بڑے فائدے سامنے آتے ۔ایک تو یہ کہ مسجدوں میں اذان ،جماعت اور جمعہ قائم رہا اور مساجد بالکلیہ ویران اور مقفل نہ ہوتیں اورنہ ہی کسی جگہ کی انتظامیہ کیلئے کسی واقعی مصلحت کی بنا پر مسجد بند کرنے یا اس کو مطعون کرنے کا موقعہ رہا ۔دوسرے تمام مسلمانوں کو جنہوں نے کبھی جمعہ عمداً چھوڑنے کا تصور بھی نہ کیا ہوگا ،اُن کا ادائیگی جمعہ کا عمل قائم رہا اور وہ جمعہ سے محروم ہونے کے غم سے بچ گئے ۔تیسرے بڑے بڑے اجتماعوں سے اگر کسی جگہ یہ وائرس پھیل جاتا تو اس کے نتیجے میں مسجدوں اور نمازوں اور بلکہ دین اسلام کو ہی مطعون کرنے کا موقعہ اُن لوگوں کو نہ مل سکا جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کا شکار رہتے کہ اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی بھی بہانہ ہاتھ آئے۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہے وہاں متعدد جگہ حتی ٰ کہ گھر وں میں بھی شرائط کی پابندی کے ساتھ جمعہ پڑھنا درست ہے اس لئے جمعہ کے لئے مسجد شریف شرط نہیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ پنچ گانہ نماز کے لئے جماعت کی شدید تاکید ہے ۔مگر حالات کے تقاضوں کی بنا پر جب ترک جماعت کی اجازت ہے اور وہ اجازت بھی احادیث مبارکہ میں صراحت سے موجود ہےاور وہ ترک جماعت بھی صرف مجبوری کے دورانیہ تک محدود ہے ۔اسی طرح جمعہ کی نمازکو موقوف نہیں بلکہ محدود کرنے کا عمل مجبوری کے عرصہ تک ہے۔اس مجبوری کی صورت حال میں سوال یہ نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز جوق در جوق اجتماعیت کے مظاہر کے اتھ ادا کی جائے یا نہیں۔بلکہ سوال یہ ہے کہ جمعہ محدود کرکے ادا کیا جائے،یا سرے سے ہی پوری قوم کی اکثریت کو جمعہ سے محروم کیا جائے ۔اس وقت انتخاب ان دو صورتوں میںہے۔یعنی برتر جمعہ اور کم تر جمعہ کے درمیان نہیں بلکہ وجود جمعہ اور عدم جمعہ کے درمیان کسی ایک کو عمل میں لانا ہے اس کو شریعت میں اَھوَن کا انتخاب کہتے ہیں ،اُسی پر عمل کیا گیا ۔اس لئے آج جمعہ کے دن عید کے  نظارہ کے بجائے اس پر شکر پڑھا جائے کہ سرے سے محروم ہونے سے بچ گئے اور کسی نہ کسی طرح جمعہ اپنے تمام شرائط کے ساتھ ادا ہوا ۔خطبہ ،جماعت ،جہری قرأت اور اجتماعیت اگرچہ بہت مختصر ہی سہی مگر پائی گئی اور فریضہ ادا ہوگیا ۔
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ شخصی عذر الگ چیز اور وبائی و اجتماعی عذر الگ ہے ،جب کوئی شخص شخصی اور ذاتی اعذار کی بنا پر جمعہ میں نہ آسکے وہ کیا کرے۔تو اُسے حکم دیا گیا کہ وہ جمعہ کے بجائے ظہر پڑھے اور جب پوری قوم کو مسجد میں جمع ہونے سے روک دیا گیا تو اس پوری قوم کو کیا حکم دیا جائے۔شخصی عذر کی بنا پر مسئلہ کی شکل الگ ہے اور پوری جماعت اور اکثر یت کی بنا پر ترک جمعہ کی صورت الگ مسئلہ ہے ۔پہلے مسئلہ میں جمعہ کے بجائے ظہر اور دوسرے مسئلہ میں جمعہ کے بجائے جمعہ ہی ہے ۔بس !
صرف جگہ بدل کر اور افراد کی تعداد محدود کرکے جمعہ پڑھنا ہے ۔یاد رہے برصغیر کے دونوں ممالک کے مستند علماء ،خصوصاً دارالعلوم دیوبند کے فیصلوں میںیہی طے ہوا ہے وہی بطور ِ خلاصہ کے لکھا گیا ۔
 

تازہ ترین