کورونا وائرس اور انتباہی بیانات

نئے عالمی نظام کیلئے پیش بندی کی ضرورت

15 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

گزشتہ دنوں یعنی جمعرات اور جمعہ کوعالمی سطح پر دو اہم بیانات سامنے آئے اور دونوںکا تعلق کورونا وائرس سے ہے ۔ایک پالیسی بیان جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب جاری کیاگیا جس میں خبردار کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالب علموں تک، سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے اور سبھی اپنے اپنے طور پر وبا سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔ 
دوسرا بیان جمعہ کو جاری کیاگیا جو اقوام متحدہ کے ہی صحت سے متعلق سویزر لینڈ میں قائم ذیلی ادارہ عالمی ادارہ صحت کا تھا۔عالمی ادارہِ صحت یاڈبلیو ایچ او نے بھی خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کووڈ 19 کبھی بھی ختم نہ ہو۔ ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے شعبے کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ہمارے سماج میں ایک وبا ء بن جائے اور ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس کبھی ختم نہ ہو ۔ ایچ آئی او اور خسرہ کی مثالیں دیتے ہوئے مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ ان بیماریوںکے ویکسین موجود ہیں لیکن بیماریاں ختم نہ ہوئیں اور اسی طرح اگرکورونا کیلئے ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کے لیے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی ۔
 یہ دونوں بیانات نہ صرف غور طلب ہیں بلکہ انکے تناظرمیں فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیںکہ کورونا نفسیاتی مسائل بھی لیکر آیا ہے اور یقینی طور پرذہنی صحت کا نظام بگڑ چکا ہے کیونکہ نفسیاتی تنائو اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب لگ بھگ ہر کوئی فی الوقت عارضی ڈپریشن میں مبتلا ہوچکا ہے ۔دوسری جانب المیہ یہ ہے کہ نفسیا تی مسائل کے علاج کیلئے قائم کئے گئے ادارے بند ہیں اور وہاں کے معالجین نفسیاتی مریضوںکے علاج کیلئے دستیاب ہی نہیں ہیں۔ایک طرف موت کا ڈر اور دوسری جانب غم روزگار ۔یہ وہ دو بڑے مسائل ہیں جنہوںنے پوری عالم انسانیت سمیت کشمیری سماج کو بھی نفسیاتی مسائل کے اتھاہ سمندر میں دھکیل دیاہے اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو نفسیاتی مسائل کی صورت میں کورونا کے بعد ایک اور طوفان ہمیں اپنا تر نوالہ بنانے کیلئے تیار ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کورونا کے ہوتے ہوئے ذہنی صحت کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرنی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر انسانوںکی ذہنی صحت کو بگڑنے سے بچانا ہے تاکہ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی علائم کی صورت میں ایک اور خاموش طوفان ہمیں ختم نہ کردے۔
اب جہاں تک کورونا ویکسین اور ا سکے دائمی رہنے سے متعلق انتباہ کا تعلق ہے تو یہ بھی حقیقت پسندانہ ہی لگ رہا ہے ۔کورونا کے ویکسین پر ابھی ٹرائل ہی چل رہے ہیں اور ضروری نہیں کہ ویکسین کامیاب ہوکر بن بھی جائے اور اگر یہ ویکسین تیار بھی ہوتا ہے تو اگلے سال تک ہی مارکیٹ میں آئے گالیکن پھر بھی ہم کورونا وائرس کو شاید ہی مکمل طور شکست دے سکیں ۔ہم بھی جانتے ہیںکہ کئی بیماریوںکے ویکسین دستیاب ہیں لیکن وہ بیماریاں پھر بھی انسانی سماج میںموجودہیں اور جہاں تک کورونا وائرس کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ بھی کسی دوسری شکل میں ہمارے سماج میں زندہ رہے ۔کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہمارا سب سے بڑ ااپنا مدافعتی نظام مضبوط بنانا ہے۔جتنی ہماری قوت مدافعت مضبوط ہوجائے گی ،اتناہی ہم کورونا جیسے وائرس سے لڑنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں گے ۔
اس صورتحال کا دوسرا پہلو بھی ہے جو براہ راست اقوام متحدہ کے انتباہ یعنی ذہنی صحت سے جڑا ہو اہے۔عالمی ادارہ صحت کی تنبیہ ہے کہ کورونا وائرس کا خاتمہ شایدکبھی ممکن ہی نہ ہو،یعنی جس طرح گزشتہ کچھ عرصہ سے ہم کہتے آرہے ہیں کہ ہمیں کورونا وائرس کے ہوتے ہوئے جینے کا ہنر سیکھ لینا ہے ،ایسا ہی کچھ عالمی ادارہ صحت بھی اشارہ د ے رہا ہے ۔اگر فی الوقت نفسیاتی امراض بڑھ چکے ہیں تو اس کی بڑی وجہ بے کاری اور تنگ دستی کے علاوہ غربت و افلاس ہے ۔
ان انتباہی بیانات کی روشنی میں ہمیں معمولات بحال کرنا ہونگے۔یہ جنگ بڑی طویل ہوگی اور ایسا نہیں لگ رہاہے کہ مستقبل قریب میں کورونا وائرس کے خاتمہ کا کوئی امکان ہے ۔اس صورتحال میں ہمیں اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھنا نہیں چاہئے بلکہ ارباب بست و کشاد کو چاہئے کہ وہ لوگوںکوزندگی جینے کے ایک نئے سلیقہ سے ہموار کریں اور انہیں سکھائیں کہ کس طرح کورونا وائرس کی انسانی سماج میں مسلسل موجودگی کے باوجود ہمیں زندگی کے معمولات بھی بحال کرنے ہیں۔
یقینی طور پر عالمی نظام تبدیل ہورہا ہے ۔کہتے ہیں کہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات پہلے ہی اپنی آمد کا اشارہ دیتے ہیں تو موجودہ حالات میں بھی مستقبل کے حوالے سے بہت سارے اشارے موجود ہیں۔شاید ایک بالکل ہی نئی دنیا ہوگی اور انسانی کا طرز زندگی بھی بالکل نیا ہوگا۔ہمیں اس نئے عالمی آڈر کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا پڑے گا اور اس ضمن میں بنیادی ذمہ داریاں بہرحال حکومتوںکوہی نبھا نی ہیں۔