کشمیری معیشت لرزہ براندام

کل پرزے نڈھال ہوں تو مشین کیسے چلے گی؟

13 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(      )

کشمیر عظمیٰ کے صفحہ اول پر گزشتہ دو روز سے کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیری معیشت کے مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصانات کی جومفصل خبریں شائع ہورہی ہیں،وہ نہ صرف کورونا لاک ڈائون کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں ،بلکہ ان خبروںکے بین السطور معاملہ سے ہم یہ بھی محسوس کرسکتے ہیںکہ ہم کس سمت میں جارہے ہیں۔11مئی کو گیلاس کی پیداوار سے متعلق جو رپورٹ شائع ہوئی تھی،وہ برمحل تھی کیونکہ یہاں گیلاس کا سیزن شروع ہوچکا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 13ہزار میٹرک ٹن گیلا س کی پیداوار ہوتی ہے لیکن جس طرح کا ماحول بناہوا ہے ،ایسا نہیںلگتا ہے کہ یہ فصل اپنی قیمت وصول کرسکے ۔جانکار حلقوںکے مطابق کشمیر کی گیلاس صنعت 1000کروڑ روپے مالیت کی ہے اور اگر لاک ڈائون کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو شاید یہ سارے کا سارا پیسہ ڈوب جائے گا۔کشمیر ی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برآمدات پر منحصر اور درآمدات پر مرکوز ہے ۔ماضی میں جب کشمیر میں ہڑتال یا کرفیو ہوتا تھا، جو لمبے عرصہ تک چلتا تھا،تو جو چیز اُس وقت کشمیر کی معیشت کا پہیہ چلائے رکھتی تھی ،وہ برآمدات تھیں۔اُن حالات میں اگرچہ درآمدات میں کمی واقع ہوتی تھی لیکن کشمیر کا مال مسلسل باہر جاتا تھا جس سے کمائی ہوتی تھی، چاہے وہ فروٹ کی صورت میں ہو،دستکاریوں یا کشمیر میں تیار کردہ دیگر مصنوعات کی صورت میں۔لیکن آج صورتحال مختلف ہے ۔آج جہاں کشمیر بند ہے تو دوسری طرف پورا ملک بھی بند ہی ہے ۔آج اگر ہم مان بھی لیں کہ کشمیر میں بیرونی اشیاء کا استعمال ہورہا ہے لیکن کشمیر کا مال بھی باہر نہ ہونے کے برابر استعمال ہورہا ہے ۔ملک بھر کی بیشتر منڈیاں بند پڑی ہیں۔کشمیر ی سیب کے12ہزار ڈبے فی الوقت کولڈ سٹورو ں میں سڑ رہے ہیں لیکن ان کا کوئی خریدار نہیںہے ۔حد تو یہ ہے کہ پورے ملک سے میوہ کشمیر پہنچ رہا ہے لیکن کشمیری سیب بازار سے تقریباً غائب ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ باہر اس وقت کشمیری مال کی طلب نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ مندی کا رجحان ہے اور بازار و منڈیاںبند پڑی ہیں۔سبزی کی منڈیاں چل رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری منڈیاں چل رہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ منڈیوں میں الو بول رہے ہیں اور اگر کہیں منڈیوںکے دکان صبح کے اوقات کھل بھی جاتے ہیں تو بیوپاری سر پٹخ رہے ہوتے ہیں کیونکہ مال مہنگا ہوچکا ہے اور طلب کم ہوچکی ہے ۔اس صورتحال میں گیلاس کی فصل کے حوالے سے خدشات اپنی جگہ صحیح ہیں اور اللہ نہ کرے ،اگر لاک ڈائون سے فوری راحت نہ ملی تو یہ قلیل عمر کا میوہ کشمیر میں ہی سڑجائے گا اور اس کی لالی یہاں ڈبوںمیںہی ماند پڑ جائے گی۔اس کے بعد کل یعنی12مئی کو سیاحتی شعبہ کی خبر شائع ہوئی جس میں کہاگیا ہے کہ سارے ہوٹل و ریستوران بند اور شکارے و ہائوس بوٹ خالی پرے ہیں۔سیاحتی شعبہ کے ساتھ منسلک افراد و انجمنوں اور ماہرین کے ساتھ بات کرکے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ صرف سیاحتی شعبہ کو جاریہ لاک ڈائون کے دوران  20ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔اگر نقصات کی سطح واقعی ایسی ہے اور یقینی طو رپر ایسی ہی ہوگی کیونکہ ان دنوںکشمیر میں سیاحتی سیزن عروج پر ہوتا تھا،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری معیشت کے تقریباً سبھی اہم ستون خستہ ہوچکے ہیں۔سیاحتی شعبہ پر ہماری معیشت کافی حد تک منحصرہے ۔ہزاروں بلکہ لاکھوںلوگوں کا روزگار براہ راست یا بالواسطہ شعبہ سیاحت سے جڑا ہوا ہے لیکن آج حالت یہ ہے کہ یہ سبھی لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں اور صورتحال یہاںتک پہنچ چکی ہے کہ کل تک دوسروںکو روزگار دینے والے لوگ آج خود روزگار کی تلاش میں ہیں۔یہ المیہ نہیں تو او ر کیا ہے کہ کل تک جو ہاتھ دوسروں کو دینے کیلئے اٹھتے تھے ،آج وہی ہاتھ دوسروں سے لینے کیلئے پھیل رہے ہیںاور اگر ان ایام میں ان کی مدد نہ کی جاتی تو یقینی طور پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو فاقہ کشی سے دوچار ہونا پڑتا ۔یہ محض 9ہزار کے قریب شکاروں اور ہائوس بوٹوں اور1800سے زائد ہوٹلوں کی ویرانی نہیں ہے بلکہ یہ ہزاروں گھروںکی ویرانی ہے ۔اگر ہمارے صحت افزاء مقامات پر دوڑنے والے گھوڑے اسطبلوں میں خاموش بیٹھے ہیں تو یہ گھوڑوںکی خاموشی نہیں بلکہ ہزاروں کنبوںکیلئے مشکلات کا ایک ایسا طوفان ہے جو ایسے کنبوںکو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاسکتا ہے۔1000روپے کی امداد دیکر حکومت یہ قطعی نہ سمجھے کہ وہ حاتم کی قبر پر لات ماررہی ہے ۔یہ کوئی سخاوت نہیں ہے بلکہ یہ ایسے لوگوں کی عزت نفس کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے ۔خد اکیلئے سمجھ لیں کہ یہ لوگ اتنے گئے گزرے نہیں کہ آپ ایک ہزار روپے کی امداد سے ان کا دل بہلانے کی کوشش کریں ۔اگر واقعی ارباب بست و کشاد کو ایسے لوگوں کی فکر ہے جو ہماری معیشت میں کل پرزوں کی اہمیت رکھتے ہیں تو انہیں یوں رسوا نہ کریں ۔انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے دیں کیونکہ جب یہ لوگ کھڑا ہونگے تو ہی ہماری معیشت کا پہیہ چل پڑے گا اور اگر خدانخواستہ یہ لوگ اٹھنے کے لائق نہ رہے تو ہمار ی معیشت کو بھی بستر مرگ سے کوئی اٹھانے والا نہیںہوگا۔