تازہ ترین

درماندہ شہریوں کی گھر واپسی | تال میل کے فقدان اور بدنظمی سے بچنے کی ضرورت

11 مئی 2020 (00 : 03 AM)   
(   عکاسی: کشمیرعظمیٰ    )

نیوز ڈیسک
یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جموںوکشمیر انتظامیہ ملک اور بیرون ملک درماندہ شہریوں کی واپسی کیلئے کوشاںہے اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی کوششوں سے یہ ممکن ہوپایا کہ بنگلہ دیش میں درماندہ کشمیری طلباء کا ایک قافلہ وادی واپس پہنچایاگیا ہے، جس کے بعد چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرا منیم نے ذاتی طور خارجہ سیکریٹری کو مکتوب لکھ کر انہیں رمضان اور آنے والی عید الفطر کے پیش نظر بنگلہ دیش میں باقی درماندہ سبھی جموںوکشمیر کے طلاب کی فوری واپسی کیلئے مداخلت کی گزارش کی ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ جموںوکشمیر انتظامیہ اس سلسلے میںمسلسل مرکزی اکابرین کے ساتھ رابطہ میں ہے تاہم یہ امر ملحوظ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جموںوکشمیر کے طلاب صرف بنگلہ دیش میں نہیںبلکہ آزر بائیجان ،کرغستان ،روس اور فلپائن کے علاوہ کئی ممالک میں بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہیں جو گھر واپسی کیلئے حکومت کو کوششوں پر آس لگائے بیٹھے ہیں۔اب جبکہ وندے بھارت کی صورت میں بیرون ملک درماندہ بھارتیوںکی وطن واپسی کیلئے باضابطہ مشن شروع کیاگیا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر جموںوکشمیر کی حکومت بیرون ملک درماندہ اپنے سبھی شہریوںکی ملک واپسی کے اقدامات کرے گی۔اسی طرح ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی جموںوکشمیر کے ہزاروں لوگ درماندہ ہیںجن میں مزدور پیشہ افراد کے علاوہ کاروباری لوگ اور بڑی تعداد میں طالب علم بھی شامل ہیں۔گوکہ اس سلسلے میں بھی اقدامات کئے جارہے ہیں اور اب باضاطہ خصوصی ٹرین شروع کی گئی ہے جو درماندہ لوگوںکو لیکر ادہم پور ریلوے سٹیشن پر آئے گی تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ اس عمل میں تال میل کا فقدان ہے ۔بلا شبہ کل پہلی ٹرین ادہم پور پہنچ رہی ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل منظم ہے ۔ایسی بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جو حکومتی بدنظمی اور تال میل کے فقدان کو اجاگر کرتی ہیں۔جموںوکشمیرانتظامیہ نے دو روز قبل شاید اسی عدم تال میل کو دیکھتے ہوئے ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرکے لکھنو ،کولکتہ اور ممبئی میں درماندہ لوگوںکی جموںوکشمیر واپسی کے سلسلے میں تین ہیڈکوارٹر قائم کرکے وہاں تین سینئر افسران کو بھی تعینات کردیا تاکہ وہ متعلقہ ریاستوںکے ساتھ رابطہ میں رہ کراپنے شہریوں کی واپسی یقینی بناسکیں لیکن اس کے باوجود بھی شکا یات ختم ہونے کا نام نہیںلے رہی ہیں۔اتوار کو بھی بیرون جموںوکشمیر ملک کے مختلف حصوں سے متواتر کشمیر عظمیٰ کو درماندہ مسافرو ںکے فون کالز موصول ہوتے رہے جو حکومتی عدم توجہی پر نالاں نظر آرہے تھے ۔دہلی میں ریذیڈنٹ کمیشن آفس کے ہیلپ لائن نمبرات گوکہ کافی غور وشور کے ساتھ مشتہر کئے گئے تاہم بیشتر درماندہ لوگوںکی شکایت ہے کہ دہلی کے یہ ہیلپ لائن نمبرات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ بیشتر اوقات وہاں کوئی فون نہیں اٹھاتا ہے اور اگر کبھی کوئی فون اٹھاتا بھی ہے تو درماندگان کی کوئی مدد نہیںکی جاتی ہے ۔اسی طرح آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ بھی کارگر ثابت نہ ہوسکا ۔اول تو مزدوروں اور طلباء کیلئے رجسٹریشن کا طریقہ کار الگ الگ رکھا گیا جس کے نتیجہ میںکنفیوژن پیدا ہوا ۔دوم رجسٹریشن کا یہ عمل بھلے ہی طلاب کیلئے سودمند ثابت ہو لیکن مزدوروں کیلئے یہ عمل کارگر نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ ٹیکنالوجی سے اس قدر مانوس نہیںہیںکہ وہ ویب سائٹ پر جاکر رجسٹریشن کرسکیں۔نتیجہ وہی ہوا ،جس کا ڈر تھا۔یہ عمل لوگوں کی امیدیں جگا نے کی بجائے مایوسی کا ہی سبب بن گیااور بیشتر مزدور رجسٹریشن کرنے سے رہ گئے ۔لیبر محکمہ کی اس ویب سائٹ کو مزدوروںکیلئے رکھاگیا لیکن عملی طور مزدوروں کی فلاح وبہود کے ذمہ دار اس محکمہ کے ارباب بست و کشاد کاغذی گھوڑے تک ہی محدود رہے۔اب گزشتہ دو ایک روز سے لگ رہا ہے کہ عملی طور کچھ ہورہا ہے جو اطمینان بخش ہے اور اس سے یقینی طور رپر اُن لوگوںنے راحت کی سانس لی ہوگی جو گزشتہ  ایک ماہ سے اس امید میں ہیں کہ ان کا نمبر آئے گا اور وہ گھروں کو واپس لوٹیں گے لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ اس عمل کو منظم بنایا جائے ۔جن طلاب نے ایک ماہ قبل فون کے ذریعے یا آن لائن رجسٹریشن کرائی ہے ،انہیں ترجیحی بنیادوںپر واپس لایا جانا چاہئے ۔واپسی کے اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سب سے اولین فرصت میں تمام ریاستوں میں جموںوکشمیر کے درماندہ لوگوںکو تلاش کرکے انہیں آن ریکارڈ پر لانا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہاں کتنے لوگ درماندہ ہیں۔پھر اسی حساب سے ان کیلئے ریل گاڑیوںکا انتظام کیا جاسکتا ہے ۔اس سلسلے میں لکھنو ،کولکتہ اور ممبئی میں تعینات کرکے تین سینئر افسران اہم رول ادا کرسکتے ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے شہریوں کی فہرستیں تیار کرکے انہیں متعلقہ حکام تک بھیج سکتے جو بالآخر ان کیلئے سفری انتظامات کرسکتے ہیں۔امید کی جاسکتی ہے کہ یہ عمل انتہائی منظم انداز میں تکمیل کو پہنچایا جائے گا تاکہ عید سے قبل جموںوکشمیر کے سبھی درماندہ شہری واپس لوٹ سکیں۔