تازہ ترین

کورونا اور غربت و افلاس

دوہری تلوار کے وار سے بچنے کی ضرورت

9 مئی 2020 (30 : 03 AM)   
(      )

ایک ایسے وقت میں جب بیشتر ممالک نے لاک ڈائون بندشوں کو نرم کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ،عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ لاک ڈائون سے نکلنے کے اقدامات کو انتہائی ہوشیاری کے ساتھ اٹھایا جائے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اگر ممالک نے مرحلہ وار اپروچ کے تحت لاک ڈائون سے معمولات کی بحالی کے سفر کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے نہ بڑھایاتو اُس صورت میں دوبارہ لاک ڈائون کی جانب لوٹنے کا خطرہ بالکل حقیقی ہوگا اور اس طرح کے خطرہ کو اُس صورت میں ٹالنا محال ہے ۔اُن کا کہناتھا کہ اس ضمن میں انکے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی ہدایات پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہمیں بڑے خسارے سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔دنیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے خدشات بیجا بھی نہیںلگتے ۔قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ادارہ کی جانب سے یہ خدشات اُس وقت ظاہر کئے گئے جب بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈائون سے نکلنے کے جتن کئے جارہے ہیں۔اس میںکوئی شک نہیں کہ لاک ڈائون سے نکلنا مجبوری بن چکا ہے کیونکہ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ کی گئیں تو بھوک اور افلاس سے کورونا کی نسبت کئی گنا زیادہ لوگ مر جائیں گے ۔ان ماہرین کے مطابق اس وقت عالمی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑ ا ہے لیکن ا سکے باوجود جتنا جلدی ہوسکےمعاشی سرگرمیاں بحال کرنے سے معیشت کی سانسیں کسی حد تک بحال کی جاسکتی ہیں، جس سے مزدور اور کامگار طبقہ کیلئے کم از کم دووقت کی روٹی کا بندو بست ہوسکے ۔یہ صورتحال یقینی طور پر پریشان کن ہے ۔ایک طرف کورونا کی صورت میں موت ہمارا پیچھا کررہی ہے اور دوسری جانب غربت اور افلاس اور بھوک و پیاس کی صورت میں ایک اور موت کا ہمیں سامنا ہے ۔اس انتہائی سنگین صورتحال میں یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ ہم کس موت کو ترجیح دیں لیکن یقینی طور پر دوسرا آپشن چننے کو ترجیح دی جانی چاہئے اور وہی ہوبھی رہا ہے ۔اگر لوگ بھوک و پیاس سے نہ مر جائیں تو ہم مل کر کورونا کے خلاف لڑ سکتے ہیں لیکن اگر کورونا کے ڈر سے ہم نے زندگی کا پہیہ ٹھپ ہی رہنے دیا تو لوگ کورونا سے پہلے بھوک اور پیاس سے ہی مرجائیں گے اور پھر جب کورونا قہر بن کر آئے گا تو اُس وقت لوگوں میں اس سے مقابلہ کرنے کی سکت تک نہیں ہوگی۔اس لئے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ممالک بے شک زندگی کی بحالی کی جانب سفر جاری رکھیں لیکن اس عمل میں عالمی ادارہ صحت کی رہنما ہدایات کو ملحوظ نظر رکھا جائے ۔بے شک ہمیں معاشی سرگرمیاں بحال کرنی ہیں۔ٹرانسپورٹ کو سڑکوںپر واپس لانا ہے ۔سکول ،کالج اور یونیورسٹیاں کھولنی ہیں لیکن یہ سب کام انتہائی احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی مرحلہ پر ہمیں صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیںدینا ہے ۔عالمی ادارہ صحت نے جس خدشہ کا اظہار کیا ہے وہ برحق ہے کیونکہ لاک ڈائون سے معمول کی جانب واپسی کے اس سفر میں مختلف ممالک سے ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں جہاں جسمانی دوریوں کے تصور کو پاما ل کیاجارہا ہے ۔ہمارے ملک میںبھی لاک ڈائون کے تیسرے مرحلہ میں مسلسل ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ سماجی دوریوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہاہے ۔یہاں تو شراب کی ایک ایک بوتل پانے کیلئے لوگ ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے اور شراب خانوںکے باہر اتنی لمبی قطاریں لگ گئیں جیسے کوئی بھوک سے نڈھال راشن کی قطار میں کھڑا ہو۔ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیںہے ۔اسی طرح چند روز قبل جموں کی سبزی منڈ ی سے جو تصاویر آئیں ،وہ بھی پریشان کُن ہی تھیں کیونکہ ان میں واضح طورپر دیکھا جاسکتا تھا کہ لوگوں کا جمائوڈا لگا تھا اور سماجی دوریوںکے دور دورتک کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے ۔سرینگر کی سبزی منڈی میں بھی صبح سویرے صورتحال کچھ مختلف نہیں ہوتی ہے ۔لاک ڈائون کی وجہ سے بے شک کورونا وائرس کے پھیلائو میں ٹھہرائو آیا اور یہ اُس رفتار سے نہیں پھیلا ،جس کا خدشہ ظاہر کیاجارہا تھا لیکن اب ایسا نہ ہوکہ ہماری لاپرواہی کی وجہ سے سار ے کئے کرائے پر پانی پھیر جائے ۔بلا شبہ لاک ڈائون کو مرحلہ وار بنیادوںپر ختم کرنا ہے لیکن اس عمل میں اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ وائرس پھر سے سر نہ اٹھالے ۔تجارتی و کاروباری سرگرمیوںکو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں کورونا کے خلاف جنگ بھی جاری رکھنی ہے ۔اس کیلئے ہمیں نئے طریقے سے زندگی جینے کا ہنر سیکھ لینا چاہئے اور اس نئی تبدیلی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے ۔جتنا جتنی ہم ان تبدیلیوںکو قبول کرتے ہوئے ایک نئے انداز میں زندگی گزارنے کی ڈگر پر گامزن ہوجائیں گے اتنا ہی بہتر رہے گا اور جتنا ہم ماضی کی طر ح ہی لاپرواہیاں برتتے رہیں گے ،اُتنا اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے اور پھر اُس صورت میں ہم شاید دوبارہ لاک ڈائون میں اپنے آپ کو محصور پائیں گے۔پھر کورونا کی صورت میں موت کا سایہ ایک طرف پیچھا کررہا ہوگااور دوسری جانب غربت و افلاس اور بھوک و پیاس کی صورت میںموت ایک دوسری شکل میں ہمیں جھکڑ سکتی ہے ۔اللہ ہمیں ایسی صورتحال سے بچالے۔
آہ یہ مرگ دوام ،آہ یہ رزم حیات
 ختم بھی ہوگی کبھی کشمکش کائنات !