بی ایس این ایل دفاتر پر پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا

ایکسچینج روڑ پر قطار میں کھڑے صارفین پر لاٹھی چارج

تاریخ    9 مئی 2020 (30 : 03 AM)   


یو این آئی
سرینگر// وادی کشمیر میں مواصلاتی خدمات کی معطلی کے پیش نظر لوگوں نے پھر سے مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے دفاتر کے چکر کاٹنا شروع کردئیے ہیں۔ تاہم ماضی کے برعکس انہیں اب پولیس کی لاٹھیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جمعے کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایکسچینج روڑ پر واقع بی ایس این ایل دفتر پہنچی۔ وہ یہاں اپنے بی ایس این ایل لینڈ لائن و موبائل فون نمبرات کی بل جمع کرنے، نئے سم کارڈ حاصل کرنے اور بند پڑے لینڈ لائن و موبائل نمبرات کو بحال کروانے کے لئے آئے تھے۔تاہم جب بی ایس این ایل دفتر کے باہر لوگوں کی طویل قطار لگ گئی تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اہلکاروں نے لاٹھیاں برسا کر ان کو وہاں سے منتشر کردیا۔ وادی میں مواصلاتی خدمات کی معطلی کے ساتھ ہی بی ایس این ایل کے مرکزی دفتر پر کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہونا شروع ہوگئی ۔ جمعہ کو بھی سخت سیکورٹی پابندیوں کے باوجود سینکڑوں افراد بی ایس این ایل دفتر پہنچے۔ تاہم جب دوپہر کے بعد بھی قطار چھوٹی ہونے کے بجائے طویل ہوتی گئی تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھیاں برسائیں اور پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعے اعلان کیا کہ کسی کو بھی قطار میں کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بی ایس این ایل کے پی آر او مسعود بالا نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پھر سے سم کارڈ حاصل کرنے اور لینڈ لائن نمبرات بحال کروانے کے لئے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا: 'لوگ پہلے سم کارڈ یا لینڈ لائن نمبر حاصل کرتے ہیں اور کچھ وقت تک استعمال کرنے کے بعد بل جمع کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب انہیں ضرورت پڑتی ہے تو پھر آجاتے ہیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ اگر وہ سم کارڈ یا لینڈ لائن نمبرات حاصل کرتے ہیں تو اس کو چالو حالت میں رکھیں تاکہ انہیں بعد میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے'۔ بی ایس این ایل دفتر کے باہر صارفین پر لاٹھی چارج کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: 'یہاں پر پولیس تھانہ کوٹھی باغ کے سینئر افسران موجود تھے۔ جب سماجی دوری پر عمل درآمد نہیں ہوا تو پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا'۔ دریں اثنا وادی کے سبھی دس اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات جمعے کو مسلسل تیسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں جس کی وجہ سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
 

تازہ ترین