تازہ ترین

ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ

طبقہ نسواں کیلئے اسوہ حسنہ کا ابدی نمونہ۔۔۔۔حصہ دوم

7 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر غلام قادر لون
 ام المومنینؓ کی جو اوالادیں پہلے شوہروں سے تھیں، ان میں مورخین دو اور بعض نے تین کا ذکر کیا ہے ۔ ان میں سے ایک لڑکے کا نام’ ہند‘ تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ بڑے فصیح اللسان تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اس طرح بیان کرتے تھے۔ کہ اوصاف انہی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حضرت حسن ؓ کو ان سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں ماموں کہہ کرپکارتے تھے۔ ہند جنگ جمل میں حضرت علی ؓکی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ایک اور لڑکے کا نام طاہر تھا۔ انہیں رسول اللہ ﷺ نے یمن کا حاکم بناکر بھیجا تھا۔ خلافت صدیقی میں انہوں نے مرتدین کے خلاف جنگ میں نمایا ںکارکردگی دکھائی۔ ام المومنین ؓکے ایک لڑکے کا نام ہالہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ آرام فرمارہے تھے کہ ہالہ آگئے اور بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ جب بیدار ہوئے تو انہیں سینے سے لگا کر پیار کیا۔ 
ام المومنین کے ایک بھائی کا نام عوام تھا۔ حضرت زبیر جو حواری رسول کے نام سے مشہور ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، انہی عوام کے فرزند ہیں۔ ام المومنین کی دو بہنیں تھیں ۔ ایک کا نام ہالہ تھا۔ ہالہ اسلام لائی تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد زندہ تھیں۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ حضرت عائشہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ہالہ آئیں اور دروازے پر آواز دے کر اندار آنے کی اجازت طلب کی ۔ ان کی آواز حضرت خدیجہ ؓ سے ملتی جلتی تھی۔ آپ ﷺ ’ہالہ آئیں ہالہ آئیں‘ کہتے ہوئے لپک کردروازے کی طرف دوڑے۔ ام المومنین کی دوسری بہن کا نام رقیقہ تھا۔ ان کی بیٹی امیہ اسلام لائی۔ وہ صحابیہ ہے۔ ام المومنین کے ایک قریبی حکیم بن جزام تھے جن کا شمار رئوساء قریش میں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے تھے۔ حالت کفر میں بھی شریف اور بردبار تھے۔ بعثت سے قبل رسول اللہ ﷺ کے خاص دوستوں میں تھے۔ آٹھ ہجری تک ایمان نہیں لائے۔ یہ وہی حکیم بن جزام ہیں، جو حضرت خدیجہ ؓ کے لئے کھانا لیجارہے تھے ۔ جب وہ آپ ﷺ اور بنی ہاشم کے ساتھ شعیب ابی طالب میں محصور تھیں۔ 
 ام المومنین بے حد عقلمند ، زیر ک اور دور اندیش تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے شادی کے بعد انہوں نے اپنی ساری دولت آنحضور ﷺ کے قدموں میں رکھ دی کہ وہ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ بچوں کی تربیت اور گھر کے انتظام کا کام انہیں کے ذمہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے بچوں کی بہترین ماں اور گھر کی بہترین منتظم کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ وہ پچیس سال رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں رہیں۔ ان کی فرمانبرداری ، سلیقہ شعاری اور فہم و فراست نے اس قدر گرویدہ بنا لیا تھا کہ ان کی حیات میں آپ ﷺ نے دوسری شادی نہیں کی۔ بعثت سے کچھ پہلے جب رسول اللہ ﷺ غار حرا میں چلے جاتے تھے تو ام المومنین کئی کئی دنوں کیلئے کھانا بنا کر کے رکھ دیتیں۔ جسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس غار میں جاتے۔ غار میں جب پہلی وفعہ فرشتہ وحی لے کر نازل ہو اتو آپ ﷺ گھر آگئے اور ڈر اور خوف کی وجہ سے حضرت ام المومنین سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھادو ۔جب ام المومنین نے ان پر کپڑا ڈال دیا تو کچھ دیر بعد آپ ﷺ کو افاقہ ہوا اور حالت سنبھلی تو ام المومنین نے پوچھا کیا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج عجیب ماجرا پیش آیا ۔میں غار میں تھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ آیا اور مجھ سے کہا ’پڑھ‘میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر فرشتے نے آگے بڑھ کر مجھے سینے سے لگایا پھر چھوڑ دیا اور کہا ’’پڑھ‘‘ میں نے پھر جواب دیا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا ۔ فرشتے نے پھر مجھے سینے سے لگا کر چھوڑ دیا اور کہا۔ ’’پڑھ‘‘ میں نے پھر کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا ۔ اس پر فرشتے نے پھر مجھے سینے سے لگایا اور کہا:’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ، انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا، ہاں ! پڑھ تیرا رب عزت و شان والا ہے ۔جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ بتایا جو وہ جانتا نہ تھا۔ ‘‘(العلق ۱ تا۵)
یہ پڑھ کر فرشتہ غائب ہوگیا تو میں گھر آگیا۔ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگتا ہے۔ یہ ماجرا سن کرام المومنین نے آپ ﷺ کو دلاسا دیا اور کہا:۔ ’’ہرگز نہیں ۔ بخدا آپ کو اللہ تعالیٰ رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلح رحمی کرتے ہیں ، سچ بولتے ہیں ، درماندوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں لوگوں کی اعانت کرتے ہیں‘‘۔اس کے بعد ام المومنین  آپ ﷺ کو اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عبرانی زبان جاتے تھے اور تورات و انجیل کے عالم تھے۔ انہوں نے جب سارا ماجرا سنا تو کہا:’’یہ تو وہ ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش میں اس وقت طاقتور ہوتا ، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی۔‘‘آپ ﷺ نے یہ الفاظ سن کر کہا:’’کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟‘‘۔ورقہ نے جواب دیا:’’ہاں جو کوئی بھی وہ چیزلایا جو آپ لائے ہیں تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اگر میںنے تمہارازمانہ پایا تو میں تمہاری پوری مدد کروںگا‘‘۔ 
ام المومنین رسول اللہ ﷺ کو لے کر واپس آگئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اعلانیہ دعوت دینی شروع کی تو قوم نے سخت مخالفت کی ور تمسخر و تضحیک سے لے کر ایذا رسانی کے مختلف طریقوں سے رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو تنگ کیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ قریش نے ایکاکرکے آنحضرت ﷺ، انکے گھر والوں اور بنو ہاشم کو مکہ سے باہر دو پہاڑوں کے درمیان شعب ابی طالب میں محصور کیا اور ان سے مکمل بائکاٹ کیا۔ شعیب ابی طالب میں ابو طالب ، حضرت خدیجہ ؓ ، حضرت خدیجہ ؓ اور تمام بنو ہاشم تھے۔ یہ بائکاٹ تین سال جاری رہا اور ۱۰ نبوی میں اس وقت ختم ہوا جب اس کے بارے خود قریش کے اندر اختلاف ہوا۔ شعیب ابی طالب کے تین سال انتہائی تکلیف دہ اور کٹھن تھے۔ بھوک پیاس اور پریشانی سے ام المومنین کی صحت متاثر ہوگئی تھی۔ گھاٹی سے نکلنے کے بعد بیمار رہنے لگیں۔ بہت کمزور اور نحیف ہوگئی تھیں۔ اسی حالت میں امت کی اس عظیم محسنہ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کی۔ اس وقت نماز جنازہ شروع نہیں ہوئی تھی۔ آنحضور ﷺ نے خود قبر میں اُتارا۔ مقام حجون میں دفن کی گئیں۔ اس طرح 10 نبوی ؍620ء میں ام المومنین رسول اللہ کی زوجیت میں25 برس گزارنے کے بعد 65سال کی عمر میں جہاں فانی سے رخصت ہوگئیں۔ 
ام المومنین صفات حسنہ کا مجسمہ تھیں۔ اولوالعزمی ، بلند ہمتی ، سیر چشمی ، فہم و فراست ، صبر و شکر ، خلوص و ایثار اور تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھیں۔ آپ پہلی مسلمان خاتون تھیں بلکہ گھر میں رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے آپ ہی ایمان لائی تھیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب کچھ دنوں کے لئے وحی رُک گئی تو آپ پہاڑ پر پہنچے جہاں آسمان سے آواز آئی ’’اے محمد’’ آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرئیل ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف نظر دوڑائی تو دیکھاجبرائیل آدمی کی صورت میں افق پر کھڑے ہیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ جب گھر لوٹے تو ام المومنین نے کہا کہ آپ کہاں تھے؟ میں نے آپ کی تلاش میں آدمی دوڑائے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں سارا واقعہ سنایا جس پر ام المومنین نے یہ الفاظ کہے: آپ خوش ہوجائیں اور ثابت قدم رہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے اُمید ہے کہ آپ اس اُمت کے نبی ہونگے۔‘‘ ام المومنین پیکر صبر و ثبات تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ہمیشہ دلاسا دیا جس روز ام المومنین نے وفات پائی اس کے تین روز بعد آپ ﷺ کے شفیق چچا ابو طالب بھی انتقال کرگئے۔ اس بنا پر اس سال کو ’’عام الحزن‘‘ (غم کا سال) کہتے ہیں۔ یہ دونوں آپ ﷺ کے بڑے سہارے تھے۔ 
ام المومنین کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات تک ان کی بے حد تعریف کیا کرتے تھے۔ ان کی تعریف سن کر حضرت عائشہ ؓ فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی کسی زوجہ پر اس قدر رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ ؓ پر حالانکہ میں نے انہیں دیکھا تک نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی یا کوئی اچھی چیز پکتی تو اس کا کچھ نہ کچھ حصہ حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں کو بھیجتے۔ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئی۔ وہ حجرہ عائشہ ؓ میں تھے رسول اللہ ﷺ بڑے تپاک سے ملے اور دیر تک دریافت حال کرتے رہے کہ جب ہم مکے سے آئے تو تم کس حال میں رہیں، یہاں کس طرح پہنچیں ۔ بڑھیا بھی دیر تک باتیں کرتی رہی ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ یہ بڑھیا کون تھی۔ اس نے فضول باتوں میں آپ کا اتنا وقت لیا اور آپ بھی اس کے فضول باتیں سنتے رہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا عائشہ یہ معمولی عورت نہیں ہے اس کا نام حسانہ مزینہ ہے ۔یہ خدیجہ ؓ کی عزیز سہیلی ہے۔ وہ اس سے بہت محبت کرتی تھیں۔ میں اس کے ساتھ اچھی طرح پیش کیوں نہ آئوں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ شادی کی بات پہلے پہل سفینہ نے چلائی تھی ۔ فتح مکہ کے بعد وہ اسلام لانے کیلئے حاضر خدمت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ دیر تک اس کے ساتھ باتیں کرتے رہے اور بڑی شفقت اور مہر بانی سے پیش آئے۔ حضرت خدیجہ ؓ کا جب بھی ذکر آتا تو آنکھیں اشکبار ہوتیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا:۔ ’’میں اس کی تعریف کیوں نہ کروں ۔وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگوں نے میرا انکار کیا ۔ اس نے میری تصدیق کی جب دوسروں نے مجھے جھٹلایا اس نے اس وقت اپنا مال میرے قدموں پر رکھ دیا جب دوسروں نے مجھے محروم کیا۔ اس سے خدا نے مجھے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔‘‘ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓسے فرمایا: فاطمہ تم اپنے زمانہ کی عورتوں سے افضل ہو ، آسیہؑ اپنے زمانے کی عورتوں سے افضل تھی۔ مریم ؑپچھلی قوموں کی عورتوں کی سردار ہیں اور خدیجہ ؓ میری اُمت کی تمام عورتوں سے افضل ہیں۔ ‘‘
رابطہ :حدی پورہ رفیع آباد، 9797944035