تازہ ترین

کورونا وباء اور حکومتی بندشیں

عوامی مسائل سے یوں لاتعلقی بجا نہیں

7 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے عوامی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتاچلا جارہا ہے۔موجودہ لاک ڈائون کے پہلے مرحلہ میں جب مرکزی سرکار کی جانب سے راحت کاری اقدامات کا اعلان کیاگیا تو ایسا تاثر دیاگیا جیسے حاتم کی قبر پر لات ماردی گئی ہو لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ وہ اقدامات عام لوگوںکو زیادہ راحت نہ پہنچا سکے ۔اب اُمید کی جارہی ہے کہ مرکزی سرکار کی جانب سے ایک بڑے اقتصادی پیکیج کا بھی اعلان کیاجائے گا جو ملک گیر ہوگا اور اس میں اقتصادی بحالی پر توجہ مرکوز ہوگی ۔گوکہ ایسے کسی پیکیج کا خیر مقدم کیاجائے گا تاہم اس طرح کے پیکیج سے ریاستوںکی منففرد ضروریات پوری نہیں ہوسکتی ہیں اور نہ ہی عا م لوگوں کا کچھ زیادہ بھلا ہوسکتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ریاستیں اپنی سطح پر راحت کاری پیکیجوںکا اعلان کررہی ہیں تاکہ غریب عوام کا کچھ بھلا ہوسکے لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ جموںوکشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ جیسے عوامی مسائل سے بالکل ہی غافل ہے اور ابھی تک یوٹی سطح پر یوٹی انتظامیہ نے عوام کی راحت رسانی کا ایک بھی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔
عام لوگ پریشان ہیں کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کیا کررہی ہے کیونکہ بادی النظر میں یہاں سب کچھ الٹا ہی ہورہا ہے ۔ملک میں اب پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کی باتیں ہورہی ہیں اور اس ضمن میں مرکزی وزیر برائے زمینی ٹرانسپورٹ نتن گڈ کرے کا تازہ ترین بیان اُمید افزاء ہے جس میںانہوںنے کہا ہے کہ عنقریب کچھ رہنما ہدایات کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کو چلنے کی اجازت ہوگی جبکہ بیشتر ریاستوں کے گرین زونوں میں 50فیصد پبلک ٹرانسپورٹ پہلے ہی چالو ہوچکا ہے اور اس کے علاوہ کیب سروس بھی شروع ہوچکی ہے جبکہ دکانیں بھی کافی حد تک کھل چکی ہیں۔اندازہ کریں کہ لاک ڈائون کے تیسرے مرحلہ میں ریڈزونوں میں بھی شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی اور پہلے ہی روز صرف کرناٹک میں 2ارب روپے سے زائد مالیت شراب کی بکری ہوئی۔
یہ تو ملک کی بات ہوئی ۔اب جہاںتک جموںوکشمیر کا تعلق ہے تو یہاں اس کے بالکل الٹ ہورہا ہے ۔یہاں تو قدغنوں کے نام پر دن کا کرفیو لگا ہی تھا کہ اب شبانہ کرفیو بھی لگادیا گیا ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پورے جموںوکشمیر میں دن و رات کوئی نقل و حمل نہیںہوگی ۔گوکہ گرین ،اورینج اور ریڈ زون کا تصور یہاںبھی ہے لیکن یہاں تو عمل بالکل برعکس ہے ۔اول تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس منطق کے تحت کشمیر کی صوبائی انتظامیہ نے پورے صوبہ کو ریڈزون قرار دیکر اس کو عملی طور کرفیو کے حوالے کردیا۔دوم جموں صوبہ میں بھی زونوںکی جو زمرہ بندی کی گئی ہے ،ا سکے مطابق تین اضلاع گوکہ گرین زون اور باقی اورینج زون میںہیںلیکن جو رعایات مرکز کی جانب سے ایسے زونوں کیلئے دی گئی ہیں،ان میں سے کسی ایک پر بھی وہاں عمل نہیں ہورہا ہے ۔
ایک ایسے وقت جب پورے ملک میں معاشی سرگرمیوںکی بحالی پر توجہ دی جارہی ہے ،جموںوکشمیر میںعملی طور معاشی سرگرمیوں پر قدغنیں لگائی جارہی ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رات کے دوران کچھ نقل و حمل ہوتی تھی اور زیادہ تر تاجر طبقہ رات کے دوران مال کی نقل وحمل یقینی بناتاتھا لیکن جس طرح رات کو پابندیوں میں جکڑا گیا،اُس سے تو بدیہی طور یہی لگ رہا ہے کہ شاید انتظامیہ فی الوقت کشمیر میں معاشی سرگرمیوںکی بحالی کے حق میں نہیں ہے اور نہ ہی جموںکی صوبائی انتظامیہ ایسا کچھ چاہتی ہے حالانکہ وہاں بھی لوگ اب کام پر لوٹنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں رزق کے لالے پڑے ہیں۔
عوام کے مشکلات سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا ہے ۔اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیںکہ لوگ مسائل سے دوچار ہیں ۔کورونا کے خلاف جنگ سے انکار نہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیںکہ ہم لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیں۔کورونا وائرس فوری جانے والا نہیں ہے بلکہ یہ بہت دیر تک انسانی سماج میں رہنے والا ہے ۔اس صورتحال میں وائرس کو بھی ہرانا ہے اور روزمرہ کے معمولات بھی بحال کرنے ہیں۔یوٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ دیگر ریاستوں سے سبق لیکر فوری طور جموںوکشمیر کے عوام کیلئے کسی معاشی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ مسائل کے گرداب میں پھنسے لوگوں کو کچھ راحت مل سکے ۔اس کے علاوہ یقینی طور پر احتیاطی اقدامات کوبروئے کار لاتے ہوئے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنا ناگزیر بن چکاہے اور اب ہم مزید بندشوں کے متحمل نہیںہوسکتے ہیں۔اس ضمن میں رہنما خطوط کے مطابق پورے یوٹی کی زمرہ بندی کی جانی چاہئے اور پھر ایسے زمروں میں روزمرہ کی سرگرمیوں کی بحالی کی مشروط اجازت دی جانی چاہئے۔دن اور رات کا کرفیو ہرگز علاج نہیںہے ۔اس طرح کی سوچ سے باز آنے کی ضرورت ہے اور ہمیں باقی ملک کی طرح یہاںبھی زندگی کی بحالی کی جانب لوٹنا پڑے گا۔اس عمل میں جتنا جلدی کی جائے ،اتنا ہی بہتر رہے گا اور جتنا اس میں تاخیر کی جاتی رہے گی ،اتنا ہی اس کے تباہ کن نتائج ہمیں بھگتنا پڑیںگے۔