لاک ڈائون کا تیسرا مرحلہ | بقاء کی جنگ کو لاپرواہی کی نذر نہ ہونے دیں

4 مئی 2020 (00 : 12 AM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

نیوز ڈیسک
آج سے ے شروع ہونے والے لاک ڈائون کے تیسرے مرحلہ کیلئے پہلے پورے ملک میں ریڈ ،اورینج اور گرین زونوںکا خاکہ مرتب کیاگیاہے اور کورونا انفیکشن کے خطرہ کی بنیاد پر ہی اس تیسرے مرحلہ کے لاک ڈائون میں نرمیوں اور سختیوںکا فیصلہ بھی ہوا ہے ۔گرین اور اورینج زون میں آنے والے اضلاع کے لئے کافی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ پورے ملک میں ریڈ زون میں لاک ڈاؤن کا سختی سے نفاذ کیاجائے گا اور ان میں میڈیکل ایمرجنسی اور ضروری سامان اور خدمات کو چھوڑ کر دیگر کسی طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہوائی، ریلوے اور میٹرو سفر کے ساتھ ساتھ سڑکوں سے بین ریاستی آمدورفت پر پہلے ہی کی طرح پورے ملک میں پابندی کا نفاذ رہے گا اور ان کے جاری رکھنے کی اجازت گرین زون میں بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسکول، کالج، تعلیم، ٹریننگ اور کوچنگ ادارے ، ہوٹل، ریستورا، سینما ہال، مال، جم، کھیل کے احاطے اور بھیڑ بھاڑوالی دیگر جگہیں بھی پہلے ہی کی طرح پوری طرح بند رہیں گی۔ساتھ ہی سبھی سماجی، سیاسی، ثقافتی جلسوں، عبادات کے مقامات اور دیگر طرح کے جلسوں کے انعقاد پر بھی پابند عائد رہے گی۔ وزارت داخلہ کی اجازت سے کچھ چنندہ اور ضروری معاملوں میں ہی ہوائی، ریلوے اورسڑک کے راستے سفر کیا جاسکے گا۔لاک ڈائون کا یہ تیسرا مرحلہ انتہائی نازک اور اہم ترین ہے کیونکہ یہی مرحلہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ ہمارا ملک کس سمت میں جائے گا ۔پہلے دو مرحلوں کے دوران ملک کے عوام نے بحیثیت مجموعی تعاون کیا اور ہر ایک کی جانب سے اس لاک ڈائون کو کامیاب بنانے کی کوشش ہوئی تاہم اب تیسرا مرحلہ بھی اسی طرح کامیاب بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس مرحلہ پرسُستی اور لاپرواہی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں کورونا کے معاملات کافی حد تک قابو میں ہیںلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معاملات بدستور بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں اور اب روزانہ کورونا کے دوہزار سے زائد معاملا ت سامنے آرہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔بے شک کورونا کے زیادہ تر معاملات مہاراشٹرا سے آرہے ہیں اور اس کے علاوہ جہاں سے یہ معاملات آرہے ہیں ،ان کی نشاندہی ہوچکی ہے اور اطمینان بخش امر یہ ہے کہ کمیونٹی ٹرانسفر کے اب تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ابھی تک اس وائرس کو لوگوںمیں منتقل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوچکی ہے ۔یہ ایک اطمینان بخش صورتحال ہے اور اس کیلئے یقینی طور پر لاک ڈائون اور حکومتی اقدامات ذمہ دار ہیں تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کے تعاون کے بغیر یہ سب ناممکن تھا اور یہ لوگوںکا مکمل تعاون ہی تھا کہ لاک ڈائون کامیاب رہا اور کورونا وائرس کی کمیونٹی منتقلی تاحال روکی گئی ہے ۔تصور کریں ،اگر بھارت جیسے گنجان آبادی والے ملک میں یہ وائرس کمیونٹی میں داخل ہوجاتا ہے تو کتنی تباہی مچ سکتی ہے اور پھر یقینی طور پر یہ بے قابو ہوسکتا ہے ۔اس لئے ابھی بھی وقت ہے ۔جس طرح عوام نے لاک ڈائون کے پہلے دو مرحلوں میں صبرسے کام لیکر حکومت کیساتھ تعاون کیا،اسی طرح اس تیسرے مرحلہ میںبھی انسانی زندگی کیلئے تعاون کیاجانا چاہئے۔لاک ڈائون کے تیسرے مرحلہ میں گرین زونوں میں کئی قسم کی نرمیوں کا اعلان کیاگیا ہے جس سے یقینی طو ر پر مزدور اور محنت کش طبقہ کو سہارا ملے گا اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں ۔اسی طرح اورینج زونوںمیں بھی کئی طرح کی نرمیوںکا اعلان کیاگیاہے جو یقینی طور پر عوام کی راحت رسانی اور محنت کش و کام گار طبقہ کیلئے سود مند ثابت ہونگیں تاہم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ جہاں حکومت ان مشکل ترین حالات میں ہماری راحت رسانی کا کم وبیش اہتمام کررہی ہے ،وہیں ہم بھی ذمہ دار شہریوں کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر جائے گا۔وقت کی پکارہے کہ جہاں ہم وزیراعظم نریندر مودی کے قول ’جان بھی ،جہان بھی‘پر عمل پیرا ہوجائیں وہیں ہم اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ دنیا کے لوازمات پورا کرنے کے دوران ہم موت کو دعوت نہ دیں۔بے شک روزی روٹی کمانا لازمی ہے اور معیشت کو ہم یوں تباہ ہونے نہیں دے سکتے ہیں لیکن انسانی زندگی مقدم ہے اور جب انسانی زندگی ہوگی تو پھر معیشت کو بھی پٹری پر لایا جاسکتا ہے ۔اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ گرین اور اورینج زونوں میں جن نرمیوں کا اعلان کیاگیا ہے ،لوگ وہاںسماجی دورریوں کے اصول پرمکمل طور عمل پیرا رہیں گے اور فیس ماسک کے استعمال کو معمول بنائیں گے تاکہ ہم کورونا کو بھی شکست دے سکیں اور معیشت کو بھی بحالی کی جانب گامزن کرسکیں۔