تازہ ترین

معاملات ِ ملازمت کی چنڈی گڑھ منتقلی

فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں،نظر ثانی کی ضرورت

2 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

بالآخر وہی ہوا ،جس کا ڈر تھا۔دیگر معاملات کی طرح جموںوکشمیر اور لداخ میں ملازمت سے متعلق تمام تنازعات بھی نپٹارے کیلئے جموںوکشمیر سے باہر لئے گئے اور اس کیلئے چنڈی گڑھ میں شمالی ہند کیلئے قائم مرکزی انتظامی ٹریبونل ادارہ تصفیہ نامزد کیاگیا ہے۔چونکہ جموںوکشمیر اور لداخ دونوںمرکزی زیرانتظام علاقے بن چکے ہیںتو جموںوکشمیر تنظیم نو قانون 2019کی رو سے مرکزی حکومت کو ایسے فیصلے لینے کا اختیار حاصل ہے۔اس ضمن میں 29اپریل کوباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیاگیا ہے جس کے بعد مرکزی انتظامی ٹریبونل کی چنڈی گڑھ شاخ کو جموں کشمیر کے علاوہ لداخ،چنڈی گڑھ ،پنجاب،ہماچل پردیش اور ہریانہ تک دائرہ حدود ہوگا۔
جب جموںوکشمیر ریاست تھی اور آئین ہند کی دفعہ370کو اس کو خصوصی پوزیشن حاصل تھی تو مرکزی انتظامی ٹریبونل کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا تھااور ریاستی ملازمین کے ملازمت سے متعلق مسائل ریاستی عدالت عالیہ میں ہی حل کئے جاتے تھے کیونکہ ریاستیں اس طرح کے ٹریبونلوں کا قیام آئین ہند دفعہ323کی شقB کے تحت عمل میں لاتی ہیںتاہم جموں کشمیر میں پہلے آئین ہند کی دفعہ323کی شقB کا اطلاق نہیں تھااور یہاں صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کے معاملات ہی انتظامی ٹریبونل کو ریفر ہوتے تھے تاہم اب جبکہ خصوصی پوزیشن کے خاتمہ اور ریاستی درجہ کی تنزلی کے بعد دفعہ323کی شقB کا اطلاق جموں کشمیرپر ہوگیا ہے اور چنڈی گڑھ  میں ٹریبونل بھی پہلے سے موجود ہے تواس لئے ملازمت کے تمام مسائل کو چنڈی گڑھ منتقل کیا گیاہے۔ 
یہ قانون بھارت میں مرکزی،ریاستی یا مقامی و دیگر حکام کے خلاف انتظامی ٹریبونل میں بھرتیوں و پبلک سروس کمیشن کی طرف سے تعینات کئے گئے کسی بھی ملازم کی ملازمت سے متعلق شرائط کے حوالے سے تنازعہ یا شکایات کی سماعت کا حق فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کی شق 4کے مطابق’’ کسی بھی ریاستی حکومت کی درخواست پر مرکزی حکومت اس ریاست کیلئے انتظامی ٹریبونل کا قیام ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل میں لاکر اس قانون کے تحت انتظامی ٹریبونل کو حدود اور اختیارات تفویض کرسکتی ہے‘‘۔اب جموں وکشمیر کے ملازمین کے 29ہزار781مختلف معاملات ،جوعدالتوں میں زیر کاروائی ہیں،کوچنڈی گڑھ ٹریبونل منتقل کردیاجائے گا۔کشمیر کے 14 ہزار 781 جبکہ جموں صوبہ کے 14سے15ہزار معاملات سنگل بنچ کے پاس زیر التوا ہیںجنہیں چنڈی گڑھ منتقل کیاجائے گا۔ 
 اس نئی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب سرکاری ملازمین کو اپنے مسائل کے نپٹارہ کیلئے چنڈی گڑھ کا سفر کرناپڑے گا جو بہرحال دور ہی نہیں بلکہ دِقت طلب اور اخراجات کا متقاضیسفر بھی ہے حالانکہ کل تک یہ معاملات سرینگر یا جموں میںہی حل ہوتے تھے ۔وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت اور انتظامی ٹریبونلوں کے قیام کی ذمہ داری رکھنے والے جموںوکشمیر کے وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ بار بار جموںمیں کہہ رہے تھے کہ انتظامی ٹریبونل کی شاخیں جموں وکشمیر میں قائم کی جائیں گی اور اس ضمن میں انہوںنے کئی دفعہ نہ صرف بیانات دئے بلکہ دہلی میں میٹنگوںکے دوران اس کا اعادہ بھی کیا لیکن ’’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا…جو چیرا تو ایک قطرہ خون نکلا‘‘کے مصداق وہ صرف شور ہی تھا اور اس سے پھر ان خدشات کو تقویت مل گئی کہ شاید مرکزی حکومت جموںوکشمیر کے عوامی مسائل کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے ۔
نیا حکم نہ صرف جموں و کشمیر کے متاثرہ ملازمین کو تیز رفتار اور مؤثر انصاف کی فراہمی سے محروم کرے گابلکہ جموں و کشمیر کے ملازمت کے خواہشمند افراد کو ان حقوق سے بھی انکار کرتا ہے جو حکومت میں بھرتی کے عمل میں انصاف پسندی اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق اپنی شکایات کے ساتھ عدالتی نظام سے رجوع کرنا چاہیں گے۔فی الوقت جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی جموں اور سرینگرشاخوںمیں ملازمتوں سے متعلق30ہزار کیس زیر التوا ہیں،اوریہ معاملات متعدد دعوئوں سے متعلق ہیں۔ ایک بار جب ان معاملات کو چنڈی گڑھ ٹریبونل منتقل کردیا گیا تو ان تمام مقدمہ دہندگان کے لئے ایک تکلیف دہ اور مہنگا معاملہ ثابت ہوگا جس سے یقینی طور پر شہریوں کے لئے دہلیز پر آئینی طور انصاف کی فراہمی کے مقصد کو شکست مل جائے گی۔جموں و کشمیر کے زیادہ تر ملازمین معاشی طور کمزور طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ملازمت کے خواہشمند افراد چنڈی گڑھ میںاپنی قانونی چارہ جوئی کی پیروی میں رہائش و سفری اخرجات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ 
چنڈی گڑھ ٹریبونل کے ساتھ پنجاب وہریانہ کا جوڑنا حیرانگی کی بات نہیں کیونکہ چنڈی گڑھ ان دونوں ریاستوںکادارالحکومت ہے اور دونوں ریاستوںکیلئے ہائی کورٹ بھی یہیں پر قائم ہیں جبکہ ہماچل پردیش چنڈی گڑھ کے انتہائی قریب بھی ہے لیکن جموںوکشمیر اور لداخ کو چنڈی گڑھ مرکزی انتظامی ٹریبونل سے جوڑنا قرین انصاف نہیں لگتا ہے کیونکہ کشمیر اور لداخ کے جغرافیائی حالات انتہائی کٹھن اور مشکل ہیں اور کشمیر یا لداخ سے چنڈی گڑھ کا سفر نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ مہنگا بھی ہے جس کے شاید ہی ہمارے ملازمین متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وہ بیروزگار نوجوان ،جو حالات کے تھپیڑوںکی مار کھا رہے ہیں اور سرکاری نوکریوںکے حصول کیلئے مقامی عدالت عالیہ سے انصاف کی فراہمی ان کی واحد امید تھی ۔امید کی جانی چاہئے کہ ڈاکٹر جتندر سنگھ چونکہ مقامی ممبر پارلیمنٹ ہیں،تو وہ اپنی وزارت کے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرینگے اور انتظامی ٹریبونل کو جموںوکشمیر میں قائم کرکے سرینگر اور جموںمیں اس کی دو شاخیں قائم کریںگے تاکہ ہمارے ملازمین اور ملازمت سے جڑے مسائل کے حل کیلئے لوگوںکو چنڈی گڑھ نہ جانا پڑے۔