سرحدی آبادی کی حالت زار

کورونا بے بسی میں بھی نہ تھمنے والی گولہ باری

1 مئی 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عالمی قیادت اس وبائی بیماری سے جان چھڑانے کے جتن کررہی ہے ،جموںوکشمیر کی سرحدی آبادی کا سکون غارت ہوچکا ہے کیونکہ سرحدیں خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔زندگی سے لڑائی کا ایک عجیب و غریب منظر سرحدی بستیوں میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں حکام کی طرف سے ایک طرف سماجی دوریوں پر زور دیاجارہا ہے اور فاصلے بنائے رکھنے کو ترجیح دی جارہی ہے تو دوسری جانب آتشی گولہ باری سے جان بچانے کیلئے کسی زیر زمین بنکر کے ایک کونے میں سبھی لوگوں کا ایک جگہ جمع ہوکر دبک کے بیٹھناان کا مقدر ٹھہرا ہے۔ایک عجیب کشمکش ہے ۔ایک طرف کورونا وائرس کا وار ہے اور دوسری جانب توپوں کے گولے ۔سرحدی آبادی کے لوگ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ وہ کس کا شکار بنیںگے ۔جان کی امان پانے کیلئے مکانوںسے ہجرت کریں تو آگے سرکاری عہدیدار روکیں گے اور انہیں جمع ہونے نہیں دینگے اور گھروں میں رہیں گے تو ہر دم موت کا سایہ سروں کے اوپر چھایا رہتا ہے ۔
یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان مشکل ترین ایام میں بھی کوئی دن ایسا نہیںگزرتا ہے جب جموںوکشمیر کے کسی نہ کسی سرحدی علاقہ میں بھارت اور پاکستان کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہ ہوں۔گولہ باری کون شروع کرتا ہے اور ا سکے پیچھے کیا مقاصد ہوتے ہیں ،اس کی تاویلات دونوں جانب سے پیش کی جارہی ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ اس گولہ باری کے نتیجہ میں سرحدی آبادی کو کس بحران کا سامنا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کہ حالیہ ایام میں دراندازی کی کوششوںکے دوران سرحدی علاقوں میں کئی عسکریت پسندوںکو مارا گیا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دراندازی کے علاوہ بھی سرحدوں پر آگ و آہن کا کھیل اب معمول بن چکا ہے ۔
کون نہیں جانتا کہ اب سرحدی گولہ باری معمول بن چکی ہے اور جنگ بندی معاہدے کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے ۔اشتعال انگیزی کس طرف سے ہوتی ہے ،اس بحث میںپڑے بغیر یہ کہنا ضروری ہے کہ اس اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں دونوں جانب انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور سب سے زیادہ اس مخاصمت کا خمیازہ بے گناہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے کیونکہ بیشتر اوقات دونوں جانب فوجی اپنے زیر زمین بنکروں میںہوتے ہیں اور گولے یا تو عام لوگوںکے مکانوں پر گرتے ہیں یا پھر وہ گولیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
2003میں جب سرحدی جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا تو کئی سال تک سرحدی آبادی نے سکون کی زندگی بسر کی تھی اور انہیںبھی مدتوں بعد پیر پسارنے کا موقعہ ملا تھا لیکن ان کی یہ خوشیاں دیر پا ثابت نہ ہوسکیں اور پہلے وقفہ وقفہ سے اور اب متواتر گولہ باری کا جوسلسلہ شروع ہوچکا ہے ،وہ ان علاقوں کو تباہی کی طرف ہی لے جائے گا ۔اس بات سے انکار نہیں کہ حکومت کی جانب سے سرحدی آبادی کیلئے انفرادی اور کمیونٹی بنکروںکی تعمیر جاری ہے تاکہ گولہ باری کے دوران وہ جان بچانے کیلئے ان بنکروں کا استعمال کرسکیں تاہم یہ بنکر کوئی مستقل علاج نہیں ہے اور انہیں صرف احتیاطی اقدام کے طور استعمال کیاجاسکتا ہے۔سرحدی آبادی کی سلامتی یقینی بنانے کی ایک ہی صورت ہے کہ سرحدوںکا سکو ن واپس لوٹایا جائے گااور اس کیلئے دونوں جانب سے گولہ باری کا سلسلہ فوری طور بند کیاجانا چاہئے۔
بھارت کا مسلسل اصرار ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کا احترام کیاجائے اور مرکزی قیادت کا ہمیشہ سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ جنگ بندی خلاف ورزیوںکی شروعات پاکستان کی جانب سے ہوتی ہے اور ہمارے فوجیوں کو مجبوراً اس اشتعال انگیزی کا جواب دینا پڑتا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی بالکل ایسی ہی دلیل پیش کی جاتی ہے ۔
اب وقت آچکا ہے جب دونوں جانب کی قیادت کو بھی یہ احسا س کرنا چاہئے کہ اس مخاصمت سے کسی کا بھلا نہیں ہورہا ہے بلکہ دونوں جانب عام شہری اس مخاصمت کا تر نوالہ بن رہے ہیں۔آخر اس دشمنی میں کیارکھا ہے ۔آج دیکھئے کس طرح کورونا کے سامنے ہم سب بے بس ہوچکے ہیںاور ایسا لگ رہا ہے کہ موت ہم سب کا پیچھا کررہی ہے ۔اگر ہماری اتنی سی ہی اوقات ہے کہ ہم ایک ایسے جرثوم کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں جس کو ہم دیکھ بھی نہیں سکتے ہیں تو خوامخواہ کا یہ ٹکرائوکیا معنی؟ فی الوقت دنیا بھر میں تصادم آرائیوں کےخاتمے اور کورونا سے نمٹنے کیلئے متحدہ لائحہ عمل پر زور دیا جارہا ہے ۔ کیا یہ بات برصغیر کیلئے صادق نہیں آتی؟کتنا ہی اچھا ہوتا!اگر ہم مل جل کر ایک دوسر ے کی بہبود کیلئے کام کرتے ۔کورونا وائرس کی وباء نے ہمیں یہی سبق سکھایا ہے کہ ہمیں طاقت اور ٹیکنالوجی کے غرور میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ ایک قادر مطلق کے قہر سے ڈرنا چاہئے جس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور اُن کے بندوں سے پیار کرنا چاہئے کیونکہ انسانیت او ر پیار ومحبت و اخلاص ہی ہمیں ان مصیبتوں سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔