تازہ ترین

حوا کی بیٹیوں کے ساتھ سلوک

برائیاں بُرے سماج کی پیداوار

30 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ثناء نثار
 
انسان بھی عجیب ہے، اپنے غلط فیصلوں اوررویوں پر فطرت کا ٹیگ لگاتا ہے اور خودبری الزمہ ہوجاتا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا وہ تو عین فطرت ہے اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اپنے غلط فیصلوں کو خدا کی مرضی کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے خدا کی بنائی ہوئی اس خوب صورت کائنات پر نظر دوڑائی جائے تو اس خدا کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے جو انسان سے ایک ماں کے مقابلے میں بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور یہ حقیقت روشن ہوکر سامنے آتی ہے کہ اتنی خوب صورت کائنات کا بنانے والا بدصورت فطرت کا خالق کیسے ہوسکتا ہے؟
فطرت کا ٹیگ لگانے کے جس عمل کی میں نے بات کی اس کا سب سے زیادہ شکار ہمارے معاشرے میں عورت ہوتی ہے۔ عورت جسے دین اسلام نے عزت دی، حقوق دیے، وہ اپنوں سے ہی آج حوا کی بیٹی کی عزت کو پیروں تلے روندا جا رہا ہے۔ کبھی اس کے دوپٹے کو تار تار کیا جاتا ہے۔ تو کبھی اس کی روح کو معاشرے کے طعنے چھلنی کر دیتے ہیں۔ ہم تو یہ بات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کچھ ہوتا ہے، لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ یہاں ہر دن کہیں نہ کہیں حوا کی بیٹی اپنی عزت اور وقار کو بچائے اپنے اندر ہی سسک سسک کر مر رہی ہے۔ اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں اور اگر کوئی سن بھی لے تو ہمارا معاشرہ ایسی خواتین کو برداشت ہی نہیں کرتا جو اپنے اوپر ہونے والی ظلم کی روداد معاشرے کے سامنے لائیں۔ اگر ایک عورت اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے ازالے کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے اور انصاف کی متلاشی ہو تو اسے بے شرمی کا طعنہ اور چپ رہنے کا درس دیا جاتا ہے، ایسی خواتین کو ہماری سوسائٹی قبول نہیں کرتی۔
مرد اگر عورت کے ساتھ کچھ غلط کرے تو اسے عین فطرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور ان ’’عین فطرت‘‘ اعمال میں سڑکوں اور دفاتر میں خواتین کو ہراساں کرنے سے گھروں میں انھیں تشدد کا نشانہ بنانے تک ظلم کا ہر عمل شامل ہے۔
صرف غریب اور ناخواندہ گھروں میں خواتین پر تشدد نہیں ہوتا بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں میں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے پیچھے عورت کو کمتر، عزت سے محروم اور باندی سمجھنے کی سوچ کارفرما ہے۔
یہ مکروہ سوچ گھروں میں تشدد اور تذلیل کی صورت میں سامنے آتی ہے تو گھر سے باہر خواتین کو ہراساں کرنے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ہراساں کرنا بھی تشدد کا ایک خوف ناک عمل ہے، جس میں جسم پر کوئی نشان نظر نہیں آتا لیکن دل سے روح تک پورا وجود زخمی ہوجاتا ہے۔ صرف کسی راہ چلتی عورت پر آواز کس دینا یا اس سے جان بوجھ کر ٹکرا جانا ہی ’’ہراسمنٹ‘‘ نہیں، روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو بڑے مہذب انداز میں معاشی مسائل حل کردینے کی پیشکش کرنا، نہ ماننے کی صورت میں اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، کسی خاتون کی مجبوری دیکھ کر اس کی ناموس خریدنے کی کوشش کرنا۔۔۔یہ سب ’’ہراسمنٹ‘‘ ہی ہے، اور اس سب کے لیے ہراساں کرنا بھی بہت چھوٹا لفظ ہے، یہ ایک عورت کی توہین ہے، یہ بہ حیثیت انسان عورت کی تذلیل ہے، حواکی بیٹی کو غلیظ گالی دینے اور اس کی روح پر تیزاب پھینک دینے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جسے کسی مرد کو پیسے دکھا کر غلام بن جانے یا اپنی بیٹی کا سودا کرلینے کی پیشکش کی جائے۔ ورکنگ ویمن کو قدم قدم پر اس ذہنی اور روحانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے یہاں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا شکار ہونے والی عورت ثبوت کہاں سے لائے؟ گواہ کہاں ڈھونڈھے؟ اگر اس حوالے سے کوئی شکایت درج کرائی بھی جائے تو جواب میں الزامات اور بہتان اسے مزید گھائل کردیں گے اور ہراساں کرنے کے خلاف قوانین متاثرہ عورت کی بے بسی دیکھتے رہ جائیں گے۔ ان قوانین کو کس طرح مؤثر بنایا جاسکتا ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال خواتین کی تنظیموں، وکلاء اور منتخب نمائندوں کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔
عورت کو محض اپنی ناپاک خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنے والوں کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ مجبوری کل ان کے گھر پر بھی دستک دے سکتی ہے اور ان کی بہن بیٹیوں کو بھی سڑکوں پر اور کارگاہوں کی طرف معاش کے لیے سفر کرنا پڑسکتا ہے۔