یہ آنسو دل کی زبان ہے

کہانی

تاریخ    26 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
میں نے زلیخا کو ایک ہی نظر دیکھا اور دیکھتا رہی رہ گیا ۔ وہ بلاکی خوب صورت تھی۔ حسن وشباب کا بہتا سمندر تھی۔ اس کی چال، اس کی زُلفیں ، اس کی سرمئی آنکھیں، اس کا گلابی چہرہ سب کچھ بے مثال تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کی اس صناعی کو دیکھ کردنگ رہ گیا۔
میں ہروقت اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتاتھا۔ اُس سے دوباتیں کرنے کی تمناتھی۔ وہ ہر وقت اپنی نظریں جھکائے اِدھر اُدھر کے ماحول سے لاتعلق رہتی تھی۔
میں جب بھی اس کے قریب جانے کی ناکام کوشش کرتا تو وہ چپکے سے وہاں سے کھِسک جاتی۔ اسکے اس برتاؤ سے مجھے بہت کوفت ہوتی تھی۔ میں ہر وقت اسی کے خیالوں میں ڈوبا رہتا ۔ نہ دِن کو چین اور نہ رات کوآرام۔ کئی بار تو یہ بھی خیال نہ رہتاکہ کیا کھارہاہوں۔ کبھی کبھی تو لقمہ منہ کے نزدیک لے جاتے جاتے ہاتھ وہیں رُک جاتا ۔ گھر والے کہتے بھئی!کس سوچ میں ڈوبے ہو۔
میں کوئی جواب نہ دیتا ۔ اِدھر اُدھر کی کہہ کر ٹال دیتا ۔
رات کو نیند بھی نہیں آتی، کروٹیں بدل بدل کر رات کا وقت گزارتا۔ کبھی ریڈیو سنتا۔ کبھی ٹیلی ویژن دیکھتا۔ اکثر موبائل فون پر گانے اور کہانیاں سنتا مگر کسی طورآرام نہ ملتا۔نیند کی کمی کی وجہ سے آنکھیں اندر کو دھنسنے لگیں، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنے لگے۔ ہر ایک پوچھتا؟الطاف ! آج کل کیوں بجھے بجھے رہتے ہو۔ نہ کسی سے بات اورنہ کوئی پڑھائی کی بات۔ کلاس میں بھی کھوئے کھوئے رہتے ہو۔ کچھ تو بتاؤ؟ کیا پریشانی ہے ۔ شاید ہم آپ کی کچھ مدد کرسکیں۔
نہیں! کچھ نہیں!! بس یونہی کوئی بے وجہ سکون ڈھونڈ رہا ہوں۔
 میں لگاتار زلیخا کی تلاش میں گھومتا پھرتا کہ کہیں اسکی ایک جھلک مل جائے ۔ وہ کلاس میں بھی مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرتی، جس سے  مجھے اور زیادہ تکلیف ہوتی، بہت بار اس سے ملنے کی کوشش کی اور بات کرناچاہی مگر وہ موقع ہی نہیںدیتی تھی۔ زلیخا یہ سب کچھ نوٹ کرکے خود بھی پریشان ہورہی تھی۔
اس کی حرکتوں سے صاف ظاہر ہوتاتھاوہ مجھے نظرانداز کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی پڑھائی پر پورا دھیان دیناچاہتی تھی۔
اِدھرمیری پڑھائی برُی طرح متاثر ہوگئی۔ نہ کلاس میں دلچسپی، نہ گھر پر پڑھائی، نہ نیند اور نہ کھانا پینا۔ صرف کالج میں اِدھراُدھر زلیخا کی تلاش میں رہ کر  وقت گذارنا۔
آخر ایک دن زلیخا نے مجھے کالج گراؤنڈ کے ایک کونے میں اکیلا پاکرپوچھ ہی لیا کہ جناب!! کیا بات ہے؟
کیوں پریشان کررہے ہو مجھے؟ ہر وقت پیچھا کرتے رہتے ہو۔ میری پڑھائی متاثر ہورہی ہے۔ میںایک یتیم لڑکی ہوں۔ میں کسی صورت میں اس سب کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ میں اپنے ماموں کے ہاں رہتی ہوں۔ وہی میری پرورش کررہے ہیں اور میرے اخراجات برداشت کررہے ہیں۔
مجھے اپنی غربت سے مقابلہ کرنا ہے۔
ٹھیک ہے۔ 
تمہارے ساتھ تمہاری کی غربت کامقابلہ کروں گا میں جواب دیتا۔
نہیں! مجھے یہ کام خود اکیلے کرنے دو ۔ بس! تم مجھ سے دور رہو ۔ زلیخا کہتی ۔
تم صرف میری التجا سنو۔ اس پر غورکرو۔ جب اطمینان ہو۔ تب میری خواہش پر اپنی رضامندی کی مہرثبت کرو۔
 تم آرام سے سوچ لو۔ کوئی جلدی نہیں ہے ۔ جتنا وقت چاہئے لے لو۔ تم ہر طرح سے مجھے پرکھ لو ۔ جانچ لو۔ہرکسی سے پوچھ لو ۔ کہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کس قماش کا ہوں۔ کس کردارکاہوں میں نے جلدی جلدی سب کچھ سنادیا۔
پھر جب ہرطرف سے تسلی بخش جواب ملیں تب اس وقت مجھے جواب دینا۔
تب تک میں تم سے دور رہوں گا ۔ میںنے مزید کہا ۔
ٹھیک ہے۔ میں ایسا ہی کروں گی اور جب پورا یقین ہوگا پھراگلا قدم اٹھاؤں گی، تب تک تم مہربانی کرکے دور رہو۔ زلیخا نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ میں یتیم ہوں۔میں اپنے ماموں کے گھررہتی ہوں۔وہی میری دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میں انکے لئے کوئی پریشانی نہیں پیداکرنا چاہتی ۔ اگر ان کو کسی نے صرف اتنا کہا کہ زلیخا فلاں لڑکے سے بات کررہی تھی تو وہ میرا کالج آنا بند کردیں گے اور اس طرح میری پڑھائی ختم ہوجائے گی۔ پڑھائی ختم ہوگی تو میری زندگی خراب ہوجائے گی اور پھر یہی زندگی ایک بھکارن کی زندگی ہوکرہ رہ جائے گی۔ اسکے بعد ہماری ملاقاتیں بالکل بند ہوگئیں۔ صرف کبھی کبھار موبائل پرالسلام علیکم تک محدود ہوکر رہ گئی۔ میں نماز میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کے حضور دعائیں مانگتا کہ میرے اللہ اگر میں اس معاملہ میں ایماندارہوں اوریہ سب کچھ میرے لئے بہتر ہے تو ہم دونوںکو آپس میں ملادے ۔
جب زلیخا کاBAکانتیجہ نکلا، جس میں وہ کامیاب قراردی گئی، تو میںنے مبارک دینے کے بعد جھجکتے جھجکتے پوچھ لیا کہ زلیخا جی ! آج پور ے چھ ماہ گذر گئے۔ اگرمیرے متعلق تفتیش مکمل ہوگئی ہوتو مجھے بتائیں۔ میں بڑا بے تاب ہوں۔اگر میںپاس ہوگیا ہوں تو بڑے مبارک کی بات ہے اور اگر خدانخواستہ فیل ہوگیا ہوں تو پھر میں تمہارے کے راستہ سے دور چلاجاؤں گا۔ پھر تم بھی اور میں بھی اللہ کے حوالے ۔
وقت اور آگے گذر گیا۔ میری نوکری لگ گئی ۔ ایک بڑی کمپنی میں چیف سپروائزر کے عہدے پر تعینات ہوا۔تنخواہ اچھی خاصی تھی اور باقی مراعات بھی ٹھیک ٹھاک ۔ میں نے ڈرتے ڈرتے زلیخا کو کہاکہ اب میں بڑے آرام سے تمہارے کے تمام اخراجات برداشت کرسکتاہوں۔
بس تمہاری ہاں کا انتظار ہے۔
میں موقع ملتے ہی اپنی ممانی سے کسی طرح ساری بات بتاؤں گی پھر…… زلیخانے جواب دیا۔
 بالکل ٹھیک ۔ مگر یہ کام ذرا جلدی کرنا، میں نے کہا
دل کو قدرے سکون ملا۔اللہ کا شکرادا کیا۔ امید کی کرن نظر آئی۔
 صبح سہانی تھی۔ میں اشراق کے دونفل پڑھ کر دعا سے فارغ ہوا ہی تھا کہ زلیخا کا فون آیا۔
دیکھئے !ممانی جی تم سے خود ملنا چاہتی ہے۔
بہت بہتر ۔ میں حاضر ہوں ۔ میں نے جواب دیا
ممانی صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ مجھ سے بات کرکے بہت متاثر ہوئیں۔جس سے میری اور امید بندھی۔مزید دوتین ملاقاتوں کے بعد زلیخا کے ماموں جان والے راضی ہوگئے۔ مختصرمگرشرعی طریقوں سے نکاح اور شادی کی رسومات ہوئیں۔ہم سبھی بہت پر سکون اور خوش تھے۔ ہم دونوں کی ازدواجگی زندگی بڑے مزے سے گذرنے لگی۔ ہم دونوں سکون سے رہنے لگے ۔ اپنا مکان بنایا ،گاڑی خریدی ، اللہ نے بچے بھی دیئے ۔ ہم دن رات اللہ اور اس کے رسولؐ کا شکرادا کرکے تھکتے نہ تھے ۔اسی طرح زندگی کے پینتالیس سال بیت گئے ۔ میری ریٹائرمنٹ ہوئی گریچوٹی اور جی پی فنڈ کا ڈھیر سارا روپیہ ملا۔ اب اور بھی مزے کی زندگی گذرنے لگی۔
 جیسا ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے ہمارے ساتھ بھی ہونے لگا ۔ کبھی یہ تکلیف تو کبھی وہ تکلیف ، کبھی نیند کی کمی تو کبھی معدہ کی گڑبڑ۔ آج اس کلنیک تو کل اس کلنیک۔آجNeurologistکلCardiologist۔اب آنکھ کی نظر کمزور عینک فٹ کرائی۔ یہ میراحال تھا ۔ ادھر زلیخا کا بھی وہی حال تھا۔
بلڈپریشر بھی ظاہر ہوا۔
 شوگر کا عارضہ بھی لاحق گیا۔ سب سے زیادہ کمردرد نے پریشان کیا۔ دوائیاں کھا کھا کرمعدہ جواب دے گیا۔ گردوں پر اثرہونے لگا۔جب کمر دردنے شدت اختیارکی توآپریشن کے بغیر چارہ نہ رہا۔ آپریشن کروایالیکن وہ خاص کامیاب نہ رہا۔ 
میرے گھٹنے میں درد نے مجھے معذور کردیا ۔ میںنے گھٹنا بدلوا دیا۔ اب چھڑی لیکر ادھراُدھر چلتا ہوں۔
زلیخا کو وہیل چیئر کواپنا ہمدرد بنانا پڑا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔ اس نے اپنے آپ کو کبھی کسی کامحتاج ماننا بالکل نہیں چاہا تھا مگر اب اس وہیل چیئر کی محتاج ہوگئی۔ ہم دونوں نے حالات سے سمجھوتا کرلیا۔ اللہ کا پھربھی شکرادا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے رویوں کی کمی نہ تھی مگر بچوں کی پڑھائی پریشان کرتی تھی۔ آج یہاں کل وہاں۔ آج سکول کالج بند۔ پھر وہ نوکریوں کے سلسلے میں شہر شہر بھٹکنے لگے۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کردیتے۔ 
ہم دونوں کاگاڑی چلانا بھی بند ہوگیا کیونکہ اس کو کمرکاآپریشن اور مجھے بھی گھٹنا بدلنا پڑا تھا، لہٰذا ڈرائیونگ سے زیادہ تکلیف ہوئی تھی۔
مختصراًزندگی میں جوآرام اور سکون پہلے دیکھا تھا وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا۔ پھربھی ہم اللہ کے شکرگذار تھے ۔
ایک رات میں انہی خیالات کو لے کرسوگیا کہ کیا آرام تھا اور اب کیا سہنا پڑ رہا ہے۔
 مجھے اپنی کم اور زلیخا کی تکلیف اورلاچارگی بہت زیادہ ستانے لگی۔ مجھ سے دیکھا نہ جاتا تھاکہ زلیخاکیا تھی اور اب کیا بن کر رہ گئی ہے ۔
بہت دیر بعد نیند آئی۔ اورگہری نیند آئی ۔بہت خوبصورت خواب دیکھا۔میں نے زلیخاکو شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی زلیخا دیکھا۔ میں نیند میں ہی ہنستامسکراتا تھا۔
پھرجب زلیخا مجھے نیند سے جگانے آئی کیونکہ میں اشراق کے بعدتھوڑی دیر کے لئے سونے کا عادی ہوں۔
بولی! اٹھو۔ کافی دیر سولئے ۔ میں ہڑبڑاتاہوا بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔سامنے زلیخاتھی۔ وہیل چیئر پر دُبلی پتلی ۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ۔چہرے پرکمزوری کے آثار لئے تھر تھراتے ہاتھوں میں چائے کا کپ لئے جو ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک کرتا تھا۔ اس نے چائے میز پر رکھی۔ بولی !
پیئو۔ٹھنڈی ہورہی ہے۔
میں اس کے چہرے کو دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا کہ یہ چہرہ کیاتھا ور اب کیا ہوگیاہے ۔ابھی میں کیا دیکھ کر جاگا اور ابھی سامنے کیا ہے ۔ یہ سوچ کر میری آنکھوں سے چند آنسو ٹپک کر گرے ۔ یہ دیکھ کر زلیخا بولی! یہ کیا ہے؟
کیاہوگیا تمہیں۔ بس یونہی میں نے جواب دیا۔
 میں نے دل ہی دل میں کہاآج پتہ چلا کہ آسمان سے گرنا کیا ہوتاہے؟اور یہ بھی سمجھ آیا کہ خواب اورحقیقت میں کتنا بڑا اور کتنا تھوڑا فرق ہوتاہے۔
 
���
رابطہ؛جموں، موبائل؛8825051001 | 9906111091
 

تازہ ترین