قدرت کا لاک ڈائون

کہانی

تاریخ    19 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
   ہم تین دوست ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور کمپنی کے رہائشی فلیٹ میں ہی رہتے ہیں۔یہ تین منزلہ فلیٹ شہر کے نزدیک ایک صحت افزاء مقام پر واقع ہے۔میں پہلی منزل میں اور وہ دونوںباقی دو منزلوں میں رہتے ہیں۔اب تو کئی برس سے ایک ساتھ رہ کر دوستی کا بندھن اور بھی مضبوط ہوگیا ہے‘اس لئے  ہم ایک دوسرے کی سوچ‘ رہن سہن اور فکرو خیال سے بخوبی واقف ہیں ۔اتوار کو چونکہ چھٹی ہوتی ہے اس لئے دن کا زیادہ تر وقت فلیٹ کے سامنے والے خوبصورت لان میں بحث و تمحیص میں گزرجاتا ہے۔ موضوعِ بحث کی کوئی قید نہیں ہوتی ۔کبھی سیاست تو کبھی معشیت‘کبھی مذہب تو کبھی عالمی امن وامان اور خوف وہراس وغیرہ۔ لیکن اکثر مذہبی معاملات میں بحث طول پکڑتی ہے۔ویسے بھی ہم لوگ اگر کسی موضوع پر بات کرنا آسان سمجھتے ہیں تو وہ مذہب کا ہی موضوع ہوتا ہے‘ چاہئے کوئی ان پڑھ ہی کیوں نہ لیکن وہ بھی خود کو بڑا عالم جتلاکر کج بحثی کرتا رہتا ہے۔میں تو عبادات میں سستی سے کام لیتا ہوںلیکن دوسرا دوست عبادات کا سخت پابند ہے۔صوم و صلواۃ کے علاوہ ذکرواذکار کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے اور تیسرا دوست ‘ جو کہ مغرب سے پڑھ لکھ کر آیا ہے ‘ہمیشہ مارکس اور ڈارون کے بندروں کی کہانیاں سناتا رہتا ہے۔ جب بھی خدا کے بارے میں یا تخلیق آدم کی بات ہوتی ہے تو اس کے دماغ میںڈارونی بندروں کا نقارہ ہی بجتا رہتا ہے اور وہ کھل کر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔کئی بار ہم نے اسے سمجھایا کہ یا ر اتنا پڑھا لکھا  اور تجربہ کار سائنٹسٹ ہونے کے باوجود کیا کبھی اپنے ہی وجود کی سائنس پر غور کیا ہے کہ کس طرح ایک معمولی  قطرے سے اتنا خوبصورت انسان بن گیاہے تو یہ سن کر وہ بس وہی مرغے کی ایک ہی ٹانگ کے مثل بتاتا ہے :
’’ یہ سب مذہبی لوگوں کاپروپیگنڈا ہے جس سے وہ انسان کی زندگی کو چند رسوم ورواج کے اندر قید کردیتے ہیں۔انگریز اسی لئے ترقی کررہے ہیں کیونکہ وہ ان مذہبی باتوں کی کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے ۔‘‘
میں تو اس کی اوٹ پٹانگ باتوں پر صبر کرتا ہوں لیکن کبھی کبھی تیسرا دوست اس کو کھری کھری سناتا ہے اور میں اسے صبر کی تلقین کرتے ہوئے مسکرا کر کہتا ہوں کہ:
’’ یہ تو کوئی معقول دلیل سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا‘ اسلئے اس کی گمراہی کے وائرس کا علاج کوئی وائرس ہی کرسکتا ہے۔‘‘
  ایک دن ایسا ہوا کہ تیسرے دوست کا چھوٹا بیٹا سخت بیمار ہوا۔چند روز کے بعد اسے جب گھر لایا گیا تو ہم لوگ بھی خیر وعافیت کی خاطر وہاں پرچلے گئے۔باتوں باتوں میں علاج معالجہ کی بات چلی تو اس  نے کہاکہ اسپتال میں ہر قسم کی سہولت دستیاب تھی ۔اللہ کا شکر ہے کہ اب بیٹا بہت حد تک صحت یاب ہوا ہے ۔  ہم دونوں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا اور چائے پی کر لان میں چلے آئے۔لان میں کرسی پر بیٹھتے ہی وہ طنز کرتے ہوئے بولا کہ دیکھو یار اب میں کیا کہوں‘ہمارا دوست پورا مولوی بن گیا ہے۔بچہ تو اسپتال کی دوائیوں سے ٹھیک ہوا ہے اور یہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔میں اس کے چہرے کو تکتے ہوئے دل ہی دل میں افسوس کرتا رہا کہ اس کی عقل پر شاید پتھر پڑگئے ہیں‘ اسی لئے یہ اناپ شناپ بکنے کو بھی اپنی عقلمندی سمجھتا ہے۔
  اس کا بیٹا یورپ میں ڈاکٹری کی ڈگری کرتا ہے۔بڑا ذہین بچہ ہے۔دو سال یورپ میں رہ کر وہ بھی کئی دوسرے لوگوں کی طرح گھر لوٹ آیاتھاکیونکہ اب کرونا وائرس چین سے منتقل ہوکر دوسرے ممالک میں پھیل رہا تھا۔ساری دنیا عجیب قسم کی گھٹن میں مبتلا تھی ۔اس لئے بیشتر لوگ اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹ رہے تھے۔ہر ملک پریشان تھا۔اب سرکاری طور پر اعلانات ہورہے تھے کہ اس وائرس کا ابھی تک کوئی مناسب طبی علاج نہیں نکلا ہے‘ اس لئے لوگ احتیاطی تدابیر سے کام لیں اور زیادہ تر گھروں کے اندر ہی رہیں۔ اس کا بیٹا دوچار دن تک ٹھیک ہی رہا لیکن پھراچانک اسے بخار چڑھنے کے ساتھ ساتھ کھانسی کا دورہ بھی پڑنے لگا۔ہم سب لوگ پریشان ہوگئے کیونکہ ان نشانیوں کے پیش نظر یہ کرونا وائرس کی علامت تھی۔ اسے شہر کے سرکاری اسپتال لے کرچلے گئے ۔کئی گھنٹوں تک طبی چیک اپ کرنے کے بعد جب ڈاکٹروں نے اسے کرونا وائرس کی علامت بتایا تو سبھی لوگوں کے سر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔کیونکہ اب تک اس وائرس نے سینکڑوں انسانوں کو نگل لیا تھا۔ اب اسے کورانٹائن میں رکھا گیا۔ساری رات پریشانی کے عالم میں گزرگئی۔دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وارڈ سے باہر نکل آئی تو ہم لوگ بھی ان کے ساتھ او۔پی۔ڈی میں چلے گئے۔ہم سب پریشان تو تھے ہی لیکن ہمارے دوست کی حالت کچھ زیادہ ہی خراب ہورہی تھی۔ڈاکٹروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہوگیااور کہنے لگا کہ جتنا بھی پیسہ چاہئے‘ میں دینے کے لئے تیار ہوں لیکن میرے بیٹے کو بچالو۔سبھی ڈاکٹر ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔اس نے جب دوبارہ اپنی بات دہرائی تو ان میں سے ایک ڈاکٹر بولا کہ جناب پیسوں کی بات نہیں ہے۔ہم اپنی معلومات اور تجربے کی حد تک علاج کررہے ہیں لیکن ابھی تک اس وائرس کے لئے کوئی مخصوص دوا نہیں آئی ہے۔ ہم اس کو ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کریں گے‘باقی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے دوست کی بے چینی دیکھ کر ہم بھی اسے دلاسہ دینے لگے ۔ تھوڑی دیر کے بعد نزدیکی مسجد سے اذان کی آواز آئی اور ہم دونوں دوست یہ کہتے ہوئے مسجد کی جانب نکل پڑے کہ گھبرانا نہیںہم بھی مسجد میں سلامتی کی دعا کریں گے۔مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب نے خصوصی طور پر کروناوائرس کے مریضوں کے لئے دعائے شفا مانگی۔ دعا کے بعد ہم لوگ جب مسجد سے نکلنے لگے تو ہم نے دیکھا کہ ہمارا دوست پچھلی صف میں گڑگڑا تے ہوئے خدا تعالیٰ سے اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا مانگ رہا ہے۔
���
وڈی پورہ، ہندوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛7006544358

تازہ ترین