تازہ ترین

لاک ڈائون کے دوران دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے:حسن میر

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر// جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سینئر رہنما غلام حسن میر نے جمعرات کو جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈون کے دوران دیہی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔جے کے این ایس کے مطابق اپنی پارٹی کے سینئر لیڈرغلام حسن میر نے موجودہ وبائی حالت کے بیچ کہا کہ جب لوگوں کو گھر کے اندر ہی رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ، تو ان کے لئے بجلی کی عدم فراہمی سے صحت کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ مرکزی حکومت کا دعوی ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ میں بہتری آرہی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بجلی کی صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہوچکی ہے۔میر نے لیفٹیننٹ گورنر جی ایس مرومو سے اس  معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی حکومت کو ایک ایسے وقت میںدیہی علاقوں میں لوگوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنی چاہے جب وہ کسی مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے گھر وں میںسختی سے رہنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر صوبہ کے بیشتر دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں مسلسل خلل جاری ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر طلبا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ان کی تعلیم کووڈ -19-وبائی مرض کی وجہ سے پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔غلام حسن میر نے شمالی و جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ گھروں میں رہنے کے لئے متبادل ذرائع کا بندوبست کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں بھی اس وبائی مرض کے دوران بجلی کے بدترین بحران کا سامنا ہے جبکہ شہروں اور قصبوں میں لوگوں کو کم وولٹیج اور غیر یقینی بجلی کی فراہمی کا سامنا ہے ۔‘‘جے کے اے پی رہنما نے کہا کہ محکمہ بجلی مختلف دیہات میں خراب ٹرانسفارمروں کے منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی اور صوبائی سطح پر بجلی  ٹرانسفارمروں کا معقول اسٹاک جمع کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’دیہات میں نصب اسٹیپ ڈاون ٹرانسفارمروں میں تیکنیکی خرابیاں پیدا ہوگئی ہے اور جب تک ناقص ٹرانسفارمر وں کی مرمت کر کے اُنہیںدوبارہ نصب کرنے کا عمل شروع نہیں کیا جاتا صارفین اندھیرے میں رہی رہیں گے۔میر نے انتظامیہ کو وبائی مرض کے پیش نظر بلیک مارکیٹنگ ، منافع بخش اور ضروری سامان کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی بھی اپیل کی جس کے نتیجے میں لازمی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔