تازہ ترین

کوروناوائرس

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

  بالن ، گچھیوں اور دیگر اشیاء کیلئے جنگلات کا رخ نہ کریں

وائلڈ لائف محکمہ کی جنگلاتی علاقوں کے لوگوں سے اپیل

 
نمائندہ عظمیٰ 
 
سرینگر //محکمہ وائلڈ لائف نے جنگلوں کے نزدیک رہائش پذیرآبادی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بالن اور دیگر جڑی بوٹیاںکو جمع کرنے سے گریز کریں ۔ جموں و کشمیر خاصکر وادی میں کورونا وائرس کے معاملات میں تیزی آنے اور امریکہ کے نیو یارک شہر میں ایک چیتے کے اس وائرس میں مبتلا پائے جانے کے بعد تمام وائلڈ لائف علاقوں اور چڑیا گھروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ جنگلی جانوروں کی مکمل نگرانی کی جاسکے۔ وائلڈ لائف واڈن کشمیر راشد نقاش نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہوں نے امریکہ کے نیویارک شہر میں ایک چیتے کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گوشت خور جانورجیسے تیندوے وغیرہ اور دیگر جنگلی جانوروں سے اس وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ لاک ڈائون کے باوجود وائلڈ لائف اور جنگلات کے نزدیک رہنے والے لوگ بالن، گچھیوں اور دیگر جنگلاتی پیداوار جمع کرنے کیلئے جنگلات کا رخ کرتے ہیں۔انہوں نے تمام عوام بالخصوص جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ اور جنگلات کے نزدیک رہنے والوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جنگلات میں جانے سے گریز کریں تاکہ اس وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔
 

شمالی کشمیر میں پولیس کی  امدادی کارروائیاں

 
سرینگر//پولیس نے کپوارہ میںضرورتمند لوگوں تک غذائی اجناس کو پہنچانے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔کپوارہ پولیس نے سوگام میں ضرورتمند لوگوں خاصکرغیر مقامی مزدوروں میں کھانا اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کیں۔اس دوران پولیس نے کورنا وائرس سے محفوظ رہنے  کیلئے عوام کو جانکاری بھی دی اور اپیل کی کہ سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔اس دوران  ایس ایچ او شیری سجاد احمد کی قیادت پولیس ٹیم اور ایک رضاکار تنظیم نے جمعرات کو شیری مین بازار میں صفائی مہم عمل میں لائی۔اس دوران شیری کے لوگوں نے پولیس کی کوششوں کو سراہا۔ 
 
 

 کووِڈ19سے وابستہ ملازمین 

حکومت کا طبی نگہداشت یقینی بنانے کیلئے نظام قائم

 
جموں//ہائی کورٹ کی طرف سے حال میں جاری کردہ حکمنامے کی تعمیل میں حکومت نے کووِڈ ۔19 کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے عمل میں مصروف سرکاری ملازمین کے کنبوں کی طبی نگہداشت یقینی بنانے کے لئے ایک باقاعدہ نظام کیا ہے۔اِس سلسلے میں سماجی بہبود کے پرنسپل سیکرٹری شیلندر کمار نے مشن ڈائریکٹر آئی سی پی ایس شبنم شاہ کو یونین ٹریٹری سطح پر اس طرح کے معاملات کی نگرانی کرنے کے لئے بطور نوڈل آفیسر تعینات کیا ہے۔اُنہوں نے ضلعی سطح پر ایسے لوگوں کے کنبوں ، بزرگوں اور جسمانی طور ناخیز اَفراد کو ضروری سہولیات پہنچانے کے لئے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر افسروں کو بطورِ نوڈل آفیسر نامزد کیا۔ پرنسپل سیکرٹری نے( 112)کے ذریعے درج کی جارہی تمام شکایتوں کے فوری ازالے کی بھی ہدایات جاری کیں۔پرنسپل سیکرٹر نے بچوں کے تحفظ اور انہیں کونسلنگ فراہم کرنے کے لئے ضلع سطح پر چائیلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کے چیئرپرسنوں کو بطور نوڈل اَفسران نامزد کیا۔
 

کشمیر یونیورسٹی کاانتظامیہ کو تعاون فراہم 

۔3ہزاراین ایس ایس رضاکاروادی میں سرگرم:وائس چانسلر 

 
سرینگر//کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کشمیر یونیورسٹی نے انتظامیہ کوتعاون فراہم کرتے ہوئے نیشنل سکیم سروس (NSS)کے3000رضاکاروں اور82پروگرام افسروں پر مشتمل ٹیم کو سینٹی ٹائزیشن مہم پر لگایا دیا ہے ۔این ایس ایس کے یہ رضا کار وادی کشمیر کے 10اضلاع میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹوں کے تحت کام کریں گے اور ماسکوں اور دستانوںکی تقسیم کاری کے علاوہ ادویات کے چھڑکائو مہم میں شریک ہوں گے۔یہ قدم یوتھ اینڈ سپورٹس کی مرکزی وزات کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے ۔اس حوالے سے کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے این ایس ایس کے پروگرام کارڈی نیٹر کے ساتھ میٹنگ کی جس دوران یہ فیصلہ لیا گیا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کو تعاون دیا جائے گا اور رضا کاروں کو مختلف اضلاع میں بھیجا جائے گا ۔اس مہم کیلئے پہلے مرحلہ پر رضا کاروں کے 5گروپوں کو وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں بھیجا گیا اور ہر گروپ میں 15رضا کار اور ایک پروگرام آفیسر ہے ۔دریں اثناء این ایس ایس کے پروگرام کارڈی نیٹر ڈاکٹر مصور احمد نے بتایا کہ انہوں نے بدھ اور جمعرات کو کشمیر یونیوسٹی کے نزدیک بٹہ پورہ ،تیل بل ،شالیمار اور دیگر علاقوں میں جاکر لوگوں کو سماجی دوری اپنانے کی اپیل کی اور اس کے علاوہ یہاں ادویات کا چھڑکائو کیا گیا جبکہ ماسک اور دستانے بھی لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔
 

 قرنطینہ مرکز وسن میں لاکھوں کا نقصان

ایچ ٹی ترسیلی لائن بجلی ٹرانسفارمر پر گرگئی

 
ارشاد احمد
 
گاندربل//وسن گاندربل میںہائی ٹینشن ترسیلی لائن اچانک ایک ٹرانسفارمر پر گرگئی جس کے نتیجے میں ایک قرنطینہ مرکز میں لاکھوں روپے مالیت کے الیکٹرانک آلات جل کر راکھ ہوگئے جبکہ درجنوں دکانوں میں بجلی پر چلنے والے آلات ناکارہ ہوگئے۔اس واقعہ سے پورے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ پبلک ہیلتھ سینٹر وسن جسے انتظامیہ کی جانب سے قرنطینہ مرکز میں تبدیل کیا گیا ہے، میں موجود لاکھوں روپے مالیت کے الیکٹرانک آلات جل کر راکھ ہوگئے۔اس مرکز کے انچارج ڈاکٹر اعجاز احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہائی ٹینشن  بجلی لائن گرنے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیںاورہسپتال میں موجود عملہ فوراً باہر آیا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں موجود بجلی پر چلنے والے آلات مکمل طور پر ناکارہ ہوگئے۔وسن سٹاپ پر موجود دکانداروں نے بھی کہا کہ اُن کی دوکانوں میں بجلی پر چلنے والے آلات جل گئے۔ ایس ڈی ایم کنگن اورمحکمہ بجلی کے حکام قرنطینہ مرکزمیں ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا ۔