تازہ ترین

کوئی بھی آسٹریلیائی کھلاڑی وراٹ کے تئیں نرم نہیں تھا

ٹم پین کی مائیکل کلارک کے الزامات کی تردید

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

میلبورن؍ آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ٹم پین نے سابق کپتان مائیکل کلارک کی آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی پر سلیجنگ کرنے سے ڈرنے کے الزامات کی تردید کی ہے ۔کلارک نے ایک متنازعہ بیان دیا تھا کہ آئی پی ایل میں اچھی قیمت حاصل کرنے کی وجہ سے آسٹریلوی کھلاڑی ہندستانی کپتان وراٹ کے تئیں نرم رہتے ہیں اور ان کی سلیجنگ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ پین کی ٹیم کو اپنی زمین پر ہندستان کے خلاف گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہندستان کو اگلے موسم گرما میں ٹیسٹ سیریز کے لئے آسٹریلیا کا دورہ کرنا ہے ۔سابق کپتان کلارک نے دراصل ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ وراٹ کے تئیں نرم رویہ کی وجہ سے ٹم کی قیادت والی آسٹریلوی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں ہار گئی تھی۔ کلارک نے کہا تھا کہ یہ ایسا دور تھا جب آسٹریلوی کھلاڑی وراٹ کی سلیجنگ کرنے سے بچ رہے تھے کیونکہ وہ شاید آئی پی ایل میں اچھی قیمت حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ٹم نے کلارک کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ میں نے اس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں کہ کون وراٹ کے ساتھ نرمی سے پیش آ رہا تھا یا کون وراٹ کو آؤٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے لگتا ہے جس کے ہاتھ میں گیند تھی یا جو بلے بازی کر رہا تھا، سب کا ایک مقصد اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر تے ہوئے آسٹریلیا کے لئے مقابلہ جیتنا تھا۔ ٹم نے حال ہی میں 'دی ٹیسٹ' دستاویزی فلم میں ٹیم کو بات چیت کے دوران وراٹ کو زیادہ نہ اکسانے کی صلاح دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندستانی کپتان کو پرسکون رکھنے کے علاوہ اور کوئی بہتر متبادل نہیں تھا اور کلارک نے بھی یہی مشورہ دیا تھا۔ٹیسٹ کپتان نے کہاکہ موجودہ حالت میں آئی پی ایل میرے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ میرے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ ہمارے کھلاڑی جتنی بار بھی میدان پر کھیلنے کے لئے جاتے ہیں، ہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی وراٹ کے سامنے کھیلتے ہوئے آئی پی ایل کے بارے میں نہیں سوچتا ہے ۔ پین نے کہاکہ آپ جو میدان پر ایک دوسرے کے خلاف جو بولتے ہیں وہ زیادہ تر 99 فیصد غلط ہوتا ہے ۔ کبھی کبھار آپ کسی کھلاڑی کی توجہ بھٹکانے میں کامیاب ہو جاتے ہو لیکن اگر آپ اچھی بولنگ یا بیٹنگ نہیں کر رہے ہو تو کسی بھی بات کا کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہماری اولین ترجیح اپنی صلاحیت کو میدان پر لاگو کرنا اور اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد میدان پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا یا ایک دوسرے کا کچھ کہنا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 12-18 ماہ کے دوران ہم دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے اور اب بھی یہی کرتے ہیں۔ ہم آسٹریلوی ٹیم کی طرح سخت ٹکر دیتے ہیں لیکن کبھی کبھار ہمیں حالات کے مطابق آگے بھی بڑھنا ہوتا اور جس طرح ہم نے کرکٹ کھیلا ہے مجھے اس پر بہت فخر ہے ۔ یو این آئی