کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال:۔ کشمیر میں بہت ساری خواتین نماز پڑھتی ہیں مگر بلا عذر بیٹھ کر پڑھتی ہے ۔بیماری کی وجہ سے مرد حضرات و خواتین بیٹھ کر نماز پڑھیں، تو اس کا مسئلہ اپنی جگہ ہے ۔ مگر ہم نے ایسی بہت ساری خواتین کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے، جو صحت مند اور تندرست ہوتی ہیں اور سارے کام کھڑے ہو کر کر پاتی ہیں۔ چلنا پھرنا سب کچھ آرام سے ہوتا ہے مگر نماز پڑھنی ہو تو بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔اس نماز کا کیا حکم ہے؟
جمیل الرحمٰن

بلاوجہ بیٹھ کر نماز پڑھنا

جواب:۔نماز میں جو امور فرض ہیں اُن میں سے ایک اہم امر قیام بھی ہے۔ اگر کسی نے بلا عذر قیام چھوڑ دیا۔ مثلاً بیٹھ کر نما زپڑھی تو وہ نماز ادا نہ ہوگی۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ پائے تو اُسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرم ﷺ نے اس پورے عرصہ میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی جب وہ گھوڑے پر درخت سے ٹکرانے کی بنا پر زخمی ہو کر گھر میں قیام پذیر رہے۔ بخاری و مسلم وغیر ہ میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اکریم ﷺ   ایک گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے اور وہ گھوڑا تیز دوڑا اور آپ ؐ کا دایاں پہلو درخت سے ٹکرا گیا اور اس سے اتنی چوٹ لگی کہ آپ ؐ نے ایک ماہ تک بیٹھ کر نما زادا فرمائی۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص چاہئے مرد ہو یا عورت وہ اس طرح کے عذر جس میں وہ کھڑا نہ ہو پائے تو بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے۔ اب جو خاتون بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے۔ اگر اُسے کھڑا ہونا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا یقیناً مشکل محسوس ہو تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرسکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی مرد یا عورت صرف سسُتی ، کاہلی اور سہولت پسندی کی وجہ سے بیٹھ کر نماز ادا کرے، اس کی نماز ادا نہ ہوگی۔ اس لئے اس نے بلا کسی عذر کے نماز کا ایک رکن یعنی قیام چھوڑ دیا یہ نماز واجب الادا ہے۔ اور آئند ہ کھڑے ہو کر نما زپڑھنا اُس کےلئے لازم ہے۔ جیسے رکوع و سجدہ لازم ہیں۔
سوال:۔ ہمارے علاقہ میں یہ سوال بہت زیادہ زیر بحث ہے کہ کیا جمعہ کے دن زوال ہوتا ہے اور کیا زوال سے پہلے سنت نماز ادا ہوسکتی ہے ، زوال کیا ہے اور اس کےلئے حکم کیا ہے اور کیوں ہے؟
سائل اُذیب

زوال کا وقت اور نماز جمعہ

جواب:۔حدیث مبارک کی واضح تصریح کے مطابق تین اوقات میں نما پڑھنا ممنوع ہے۔ ایک طلوع آفتاب ، دوسرے زوال آفتاب تیسرے غروب آفتاب، ان تینوں اوقات کا ہر روز آنا یقینی ہے یعنی جس طرح ہر روز طلو ع آفتاب ہوتا ہے اسی طرح ہر روز زوال آفتاب بھی ہوتا ہے۔ اسلئے کہ زوال کے معنیٰ یہ ہیں کہ سورج نے بلند ہونے کا سفر پورا کر لیا اور اب وہ ڈوبنے کے لئے ڈھلنا شروع ہوگیا۔ یہاں کشمیر میں بہت سارے لوگ ان تینوں اوقات کو زوال کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تینوں اوقات ممنوع تو ہیں مگر تینوں زوال نہیں۔ ان میں سے صرف دوپہر کا وقت زوال کا وقت ہے۔ زوال جیسے ہر روز ہوتا ہے اسی طرح جمعہ کو بھی زوال ہوتا ہے اور جیسے ہفتہ کے دوسرے ایام میں زوال کے وقت نما ز پڑھنا منع ہے ، جمعہ کے دن بھی یہ منع ہے ۔اس لئے کہ جن احادیث میں ان تین اوقات میں نما ز ممنوع کی گئی ہے اُن میں جمعہ کے دن کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے۔ وہ مطلق ہے اور ہفتہ کےہر دن ہوتا ہے۔ اب جن مساجد میں جمعہ کے دن زوال سے پہلے جمعہ کی اذان پڑھی جاتی ہے یا زوال سے پہلے جمعہ کی سنتیں پڑھی جائیں تو نہ وہ اذان ادا ہوگی اور نہ وہ سنتیں ہی ادا ہونگی۔
اس لئے کہ وہ وقت سے پہلے ادا کی گئی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص غروب آفتاب سے پہلے مغر ب کی اذان پڑھے یا غروب سے پہلے سنت کی نیت سے نمازادا کرےیا پھرغروب شفق سے پہلے کوئی عشاء کی اذان یا سنتیں پڑھے تو یہ ادا نہ ہوگی۔جمعہ کے دن کا وقت زوال اُسی طرح میقات الصلوۃ وغیرہ سے معلوم ہوجائے گا جیسے دوسرے ایام میں ہوتا ہے وقت زوال شروع ظہر سے چند منٹ پہلے ہوتا ہے جمعہ کی نماز اور جمعہ کی اذان زوال کے بعد ادا کی جائے۔ اُس سے پہلے نہ اذان پڑھی جائے نہ سنت پڑھی جائے۔ بخاری کتاب الجمعہ، مسلم کتاب الجمعہ،ترمذی کتاب الجمعہ میں صاف اور واضح حدیث ہے کہ جمعہ کی نماز سورج ڈھلنے یعنی زوال کے بعد ہوتی تھی اس کے بعد آج تک امت کا عمل یہی ہے۔

 
سوال:۔ اگر کسی شخص کو کوئی کہیں پڑی رقم ملے تو اُسی رقم کا کیاکرنا چاہئے ؟
محمد اقبال

راستے سے اُٹھائی ہوئی رقم کا مصرف

جواب :راستے میں اگر کسی عوامی جگہ مثلاً بازار، دفتر، مسجد، پارک ، سکول، اسپتال وغیرہ میں کوئی رقم کسی شخص نے اُٹھائی ہو تو اس کو شریعت میں’’ لقطہ‘‘ کہا جاتا ہے اس کے متعلق شریعت کا حکم ہے کہ یہ رقم ملک تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اس لئے اولا رقم اُٹھاتے ہوئے یہ نیت کی جائے کہ میں اصل مالک تک ضرور یہ رقم پہونچانے کی کوشش کروںگا۔
اب اگرمالک آگیا اور اچھی طرح یقین ہوگیا کہ یہی مالک ہے تو رقم اُسے دے دی جائے۔ اگر مالک نہ آیا تو پھر دو صورتیں ہیں ۔ اگررقم اٹھانے والا شخص خود غریب و مفلس اور مستحق صدقہ و زکوۃ ہو تو یہ لُقط کی رقم وہ خود استعمال کرسکتا ہے۔ اور اگر وہ خود مستحق زکواۃ غریب نہیں تو پھر یہ رقم کسی غریب کو بطور صدقہ دے دی جائے اور نیت یہ کی جائے کہ جو شخص اس رقم کا اصل مالک ہے اس کی طرف سے یہ رقم صدقہ کی جارہی ہے تاکہ وہ اگر دنیا میں اس رقم سے فائدہ نہ اُٹھا سکا تو آخرت میں اُسے اجر و ثواب کا نفع ملے گا۔
جس شخص کے گھر میں پچھلے پانچ چھ ماہ سے گائے وہ خود اپنی سمجھ لے اور بطور مالک اُسے فائدہ اُٹھائے اگر آئندہ کبھی مالک آگیا تو اس گائے کے گھاس وغیرہ پر جو خرچہ آیا ہو وہ اُس سے وصول کرکے گائے اُسے دے دی جائے۔
اگر یہ شخص خود غریب نہیں تو پھر یہ گائے کسی غریب کو اصل مالک کی طرف سے صدقہ نیت سے دے دی جائے ۔ اگر اُس کے بعد ملک آگیا تو اُسے یہ کہہ دیا جائے کہ شریعت کے ضوابط کے مطابق میں نے انتظار کیا اور پھر گائے صدقہ کر دی اور تمہاری طرف سے صدقہ کر دی ہے۔


مساجد کو آباد رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری اور طبی و انتظامی ہدایات کی پابندی لازمی

جواب: اذان، جماعت اور جمعہ یہ تینوں اسلام کے شعار ہے اور ان تینوںکی ادائیگی اہل ایمان کی مخصوص علامت ہے اور یہ تینوں مسجد میں ادا ہوتے ہیں۔ اس لئے مسجدوں کو مکمل طور پر مقفل کر دینا اسلامی اصولوں کے مطابق درست نہیں ہے۔ نہ ہی یہ درست ہے کہ اذان ،جماعت اور جمعہ کو مکمل موقوف کر دیا جائے۔ اگر لوگ ان تینوں چیزوں کا اہتمام اپنے گھروں میں کریں اور مسجدیں اذان اور جماعت اور جمعہ سے خالی رہیں تو اسلام اس کی بھی اجازت نہیں دیتا  اس لئے کہ اس صورت میں مساجد کو اس مقصد سے خالی کر دیا گیا جن مقاصد کے لئے مساجد کی تعمیر ہوئی ہوتی ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ بلا شبہ مسجدوں کو آباد رکھتے ہیں وہ لوگ جن کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں ۔ گویا مسجدوں کو آباد رکھنا ہر حال میں ایمان والوں کی ذمہ داری ہے ورنہ اس بات کا خدشہ ہے کہ علاقوں کے علاقے کلمہ تکبیر اور کلمہ شہادت کی صداؤں سے محروم ہو جائیں گے اور کفرستانوں جیسی حالت طاری ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ جن احتیاطوں کے ساتھ لوگ اپنے گھروں میں اور مختصر خاندان یا بڑے خاندانوں کے ساتھ کتنے ہی افراد احتیاطوں کے ساتھ اپنے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ اُن ہی احتیاطوں کے ساتھ مسجدیں آباد رہیں۔ اتنے ہی افراد مسجد میں جمع ہوں اس سے زیادہ نہیں۔ اس طرح اذان ہوتی رہے ،جماعت کی نماز اور جمعہ بھی پابندی اور اہتمام کے ساتھ ادا ہوتا رہے تو اس طرح مساجد آباد رہیں گی اور جم غفیر کی بناء پر جو خطرہ ہے اس سے بھی تحفظ ہوگا۔ اس کے لئے جن احتیاطوں کو طبی ماہرین اور انتظامیہ کے ذمہ داران لازم کریں ان تمام احتیاطوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ اس میں صفائی کا اہتمام پہلی چیز ہے۔ صفائی میں اپنی ذاتوںکی صفائی اور مسجدوں کی صفائی دونوں چیز لازم ہے۔ جراثیم کش ادویات جو بھی طب کے ماہرین طے کریں ان کا استعمال ضرور کیا جائے۔ مساجد میں صفائی کے لئے اگر AntiVirusکا چھڑکاو ٔ  کیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ پھر تمام لوگ اپنے گھروں سے اچھی طرح سے وضو کر کے نماز کے لئے حاضر ہوں، کم سے کم وقت مسجد میں گذاریں ، صفوں کے بیچ میں فاصلہ قائم کریں اور مختصر وقت میں ملاقات کو صرف سلام دعا تک محدود رکھ کر واپس اپنے گھروں کو جائیں۔ خلاصہ یہ کہ اذان جماعت اور جمعہ کو موقوف کرنا ہرگز درست نہیں۔ مساجد کو اذان جماعت اور جمعہ کے ساتھ آباد رکھنا مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور کچھ لوگ اس ذمہ داری کو پورا کریں تو بقیہ سب کی طرف سے ادا ہو جائی گی۔البتہ طب کے ماہرین اور انتظامیہ کے طرف سے مقرر کردہ خطوط کی پابندی بھی ضرور کی جائے۔ قرآن کریم کا ارشاد: ترجمہ: مسجدیں اللہ ہی کا گھر ہے پس اللہ کے علاوہ کسی اور کو مت پکارو، دوسری جگہ ارشاد ہے: ترجمہ: اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کے گھر آنے سے روکے تاکہ اللہ کا نام اس میں لیا جائے۔
 یہ جو کچھ لکھا گیا وہ اس مسئلہ کے متعلق بے شمار مقامات اور ملکوں کے مستند علماء ماہر ڈاکٹر حضرات کی تحقیقات اور ان کی فتاویٰ  کے مطابق لکھا گیا۔
 

تازہ ترین