شعبان المعظم کی فضیلت اور اہمیت

یہ ماہِ رمضان المبارک کا ابتدائیہ و مقدمہ ہے

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

اے ایف احمد ۔حاجن سوناواری
اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کے لیے کھلے رہتے ہیں۔اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو،اُس کی فضائوںمیں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا پردہ ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے۔ان خاص لمحوں، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ،ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب، شعبان، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آسمان سے برکتیں اْتاری جاتی ہیں، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں۔ اسی لیے شعبان کو گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ا?للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں۔‘‘
الشیخ عبدالقادر جیلانی رَحِمہ اللہ’غنی?الطالبین‘ میں بیان فرماتے ہیں: لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے: ش، ع، ب، الف اور ن۔ ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اْلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔‘‘
امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں:’’بے شک شعبان رسول ا?للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی۔‘‘(قسطلانی، الموا?ب اللدن?ۃ، 2/ 650)
یہ آیت ماہِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے، لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے۔
حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔‘‘(الندی، کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ رجب کی آمد پر حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرمایا کرتے:’’اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما۔‘‘(طبرانی، المعجم الاوسط، رقم 3939)
اْم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہِ شعبان میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے۔
’’رسول ا?للہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔‘‘
(احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589)
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کے لئے ہیں۔‘‘( السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)
ماہِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال ا?تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔حضرت اْسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں۔ (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اْٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔‘‘(نسائی، السنن، کتاب الص?ام، 4/ 201، رقم: 2357)
اس حدیث مبارکہ میں خود حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال ا?للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے، زیادہ عبادات کرتا ہے، روزے رکھتا ہے، صدقات و خیرات کرتا ہے۔ اسے اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاہِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے۔
سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان تو ایسا مہینہ تھا جس کے روزے فرض تھے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا کا پورا مہینہ روزے رکھتے لیکن بقیہ گیارہ مہینوں میں سب سے زیادہ روزوں کا اہتمام آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں فرماتے تھے۔ آخر کار کوئی سبب اور وجہ تو ہوگی اور کوئی تو خیر اور برکت کا پہلو ایسا ہوگا جو ماہِ شعبان کو ایسی فضیلت و بزرگی عطا کی گئی۔اس مہینے کی فضیلت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی ماہِ مبارک میں وہ مبارک رات بھی آتی ہے جسے ’’شب برات‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ امام بیہقی ’شعب الایمان‘ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جبریل  علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا: (یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم!) یہ رات، پندرھویں شعبان کی رات ہے اور اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے۔‘‘( شعب الا?مان، رقم: 3837)
اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو بعض پرفضیلت دی ہے، یوم جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر، ماہ رمضان کو تمام مہینوںپر، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، لیلتہ?القدر کو تمام راتوں پر اور شب برات کو دیگر راتوں پر۔ اَحادیث مبارکہ سے اس بابرکت رات کی فضیلت و خصوصیت ثابت ہے جس سے مسلمانوں کے اندر اتباع و اطاعت اور کثرت عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
شبِ برات کی وجہ تسمیہ:اس فضیلت و بزرگی والی رات کے کئی نام ہیں:لیلتہ?المبارک: برکتوں والی رات،لیلتہ?البرات: دوزخ سے آزادی ملنے کی رات،لیلتہ?الصَّک: دستاویز والی رات،لیلتہ الرحم: رحمت خاصہ کے نزول کی رات۔(زمخشری، الکشاف، 4/ 272)
عرفِ عام میں اسے شبِ برات یعنی دوزخ سے نجات اور آزادی کی رات بھی کہتے ہیں۔ لفظ ’’شبِ برات‘‘ اَحادیث مبارکہ کے الفاظ عتقاء  من النار کا بامحاورہ اْردو ترجمہ ہے۔ اس رات کو یہ نام خود رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا کیوں کہ اس رات رحمتِ خداوندی کے طفیل لاتعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں۔
ابن جریر طبری (م 310ھ) ’جامع البیان‘ میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ کے فرمان:  ’’اس شب میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔‘‘(الدخان) کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:’’فرمایا: یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس میں ایک سال کا حال لکھ دیا جاتا ہے۔ اور زندوں کا نام مردوں میں بدل دیا جاتا ہے اور حج کرنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے پھر (سال بھر) اس میں کمی ہوتی ہے نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے۔‘‘(ابن جر?ر طبری، جامع الب?ان، 25/ 109)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’ایک آدمی لوگوں کے درمیان چل رہا ہوتا ہے، حالانکہ وہ مردوں میں درج کیا ہوا ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی:ترجمہ’’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتاہے۔‘‘(الدخان: 3، 4)
پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔‘‘(طبری، جامع الب?ان، 25/ 109)
شب برات رحمتِ خداوندی کے طفیل لا تعداد انسان دوزخ سے نجات پاتے ہیں۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔
اْم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ’’ایک رات میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب گاہ میں) نہ پایا تو میں (آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں) نکلی۔ میں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت البقیع میں مسلمان مردوں، عورتوں اور شہداء  کے لئے استغفار کرتے پایا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ نا انصافی کریں گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔‘‘(احمد بن حنبل، المسند، 6/ 238، رقم: 26060)
دوسری روایت میں ہے کہ:’’بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پہ نگاہِ التفات فرماتا ہے تو بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، اور بغض و کینہ رکھنے والوں کو ویسا ہی رہنے دیتا ہے (ان کی حالت کو نہیں بدلتا)۔‘‘
اس مبارک مہینہ میں پائی جانے والی اس بابرکت رات کی فضیلت اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’اے عائشہ! تمھیں معلوم ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) اس رات میں کیا ہوتا ہے؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رات سال میں جتنے بھی لوگ پیدا ہونے والے ہیں سب کے نام لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ فوت ہونے والے ہیں ان سب کے نام بھی لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سارے سال کے) اَعمال اٹھالیے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی روزی مقرر کی جاتی ہے۔‘‘(ب??قی، الدعوات الکب?ر، 2/ 145)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں:’’ا?للہ تعالیٰ چار راتوں میں (خصوصی طور پر) بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 1۔ عید الاضحیٰ کی رات، 2۔ عید الفطر کی رات، 3۔ شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔
 
(جاری)
 
 
afayazdar@gmail.com
 

 

تازہ ترین