تازہ ترین

ہلاکت خیزوبائی صورت حال کے اسباب

اللہ کی نافرمانی اور ہمارے جرائم و گناہ

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی بدر الدین
احکام خداوندی کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر عذاب الٰہی کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا ہے لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پوری دنیا کے لئے رحمت ہے ، اس لئے اس اُمت کو اتنے وسیع عذاب سے محفوظ رکھا جو پوری بنی نوع انسان کو تباہی سے دوچار کردے ، گویا کہ اس امت محمدیہ پر باری تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد عوام الناس قہر خداوندی سے بالکل محفوظ ہوگئے اور نافرمانوں کو انتہائی گھناونی حرکتیں کرنے کے لئے آزادی مل گئی…!
یاد رکھنا چاہئے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ آخرت میں تو ضرور ملے گا لیکن دستور خداوندی کے مطابق بعض گناہوں کی سزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہیں جس کا مقصد عذاب دینا نہیں بلکہ انکی غلطیوں پر تنبیہ کرنا اور آخرت کے بھیانک عذاب سے بچانا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کی یہ آیت اس مقصد پر واضح دلیل ہے:  وَلنذیقنھم منَ العذابِ الادنٰی دونَ العذابِ الاکبر لعلَّھم یَرجِعون۔ (سجدہ /۲۱)(ترجمہ: اور چھکادیں گے ہم ان کو تھوڑا عذاب بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ باز آجائیں)
اس آیت کریمہ میں عذاب ادنی سے مراد دنیا کے مصائب و آفات اور امراض وغیرہ ہیں اور عذاب اکبر سے مراد آخرت کا عذاب ہے، اب مطلب یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں ان پر امراض اور مصائب و آفات مسلط کردیتے ہیں تاکہ یہ متنبہ ہوکر اپنے گناہوں سے باز آجائیں، اور آخرت کے عذاب اکبر سے نجات پائیں گویا یہ معمولی جھٹکا غافلوں کے لئے ایک تازیانہ ہے، اسی سورت میں ایک جگہ : انا من المجرمین منتقمون (سجدہ /۲۲)آیا ہے ۔ لفظ مجرمین میں ہر قسم کے مجرم شامل ہیں اور انتقام بھی عام ہے خواہ دنیامیں بصورت امراض وغیرہ یا آخرت میں یا دونوں میں ، گویا اللہ تعالیٰ نے اس ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کرکے مجرموں اور گناہگاروں کو انتقام لینے سے ڈرایاہےتاکہ انسان کو اس کی موت یادآجائے۔ 
دنیا کی ہر مصیبت ،ہر غم،اور ہر تکلیف وہ موت ہے جس کے بعد سنبھلنے کا بھر پور موقع ملتا ہے گو یا ملک الموت نے ان امراض و تکالیف کی شکل میں اپنے قاصدوں کو پھیلارکھا ہے تاکہ وقت موت آنے کے بعد کسی کو یہ کہنے کے لئے عذر باقی نہ رہے کہ میں نے ابھی اس کے لئے کچھ تیاری نہیں کی ہے۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ موت کے کتنے ہی قاصدین آئے اور غافلوں کو جگاکے چلے گئے کبھی زلزلوں نے جھنجھوڑا کبھی مصائب و آلام نے شام کی بہاریں لوٹیں، تو کبھی مہلک اور خطرناک امراض نے گھروالوں سے چھن کر ہسپتالوںکی کوٹھریوں میں بند کردیا اور اب پھر کرونا کی شکل میں نمودار ہوکر دستک دے کرہمیں جگا رہا ہے۔
کرونا وائرس کے باعث جو وبائی بیماری چین میں پیدا ہوئی تھی ، اس وقت اس کی لپیٹ میں نہ صرف امریکہ سمیت بیشتریورپی ممالک آچکے ہیں بلکہ اس وقت جموں کشمیر سمیت ہندوستان کی لگ بھگ تمام ریاستوں میں پھیل چکی ہے اور پھیلنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس سے مرنے والوں کی تعداد روز افزوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور نت نئے مشینری وسائل کے دعوؤں کے باوجود اس نومولود بیماری کا معقول حل اب تک کیوںنہیں دریافت کرلیا گیا؟ ماہرین اس بیماری کے سامنے ہاتھ جوڑ کے بے بس کیوںنظر آرہے ہیں…؟ ان کی عقل کی بلندی اور سائنسی ارتقا کہاں چلی گئ ؟ سانٹفک اور جدید ٹکنالوجی یہاں اپنا اثر کیوں نہیں دکھا پارہی ہے…؟ 
دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل فرماتا تو ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی قدرتی طور پر ڈاکٹروں کے علم میں آجاتا ہے لیکن جب کوئی بیماری عذاب الٰہی کی شکل میں اترتی ہے تو اس کا علاج لوگوں کے دل و دماغ سے اٹھا لیاجاتا ہے ، اب انسان لاکھ تدابیر اختیار کرے علاج و معالجہ کے لئے ہاتھ پاؤں مارے، بہر صورت عذاب الٰہی کا اثر ظاہر ہوکے رہتا ہے، بعینہ یہی صورتحال کورونا وائرس کے ساتھ ہے ۔ حد سے زیادہ احتیاتی تدابیر اور انتھک کوشش کے باوجود مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، یہ بھی نہیں کہ اس کی روک تھام کی کوشش نہیں گی گئی بلکہ اس پر قابو پانے کی کوشش ہر سطح پر کی گئی لیکن ناکامی کا اعتراف بھی ہر محکمہ والے کھلے الفاظ میں کرتے ہیں۔
درحقیقت دنیاوی اداروںنے اس بیماری کاجو سبب قرار دیا ہے وہ ظاہر ی سبب ہو تو ہو، لیکن حقیقی سبب وہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں آج بنی نوع انسان جس طرح جرائم ، بے حیائی، او ر فحاشی میں نظر آرہے ہیں اور ترقی کے نام پر نظام قدرت میں جس بڑے پیمانے پر دخل اندازی کی جاری ہے وہ قہر خداوندی کا بنیادی اور حقیقی سبب ہے۔ 
تاریخ انسانی میں کئی بار ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے پوری بنی نوع انسانیت متاثر ہوئی انتہائی بڑے پیمانے پرہلاکتیں واقع ہوئیں اور کبھی خطرناک قسم کی بیماریوں نے آناً فاناً لاتعداد انسانوں کولقمہ اجل بنادیا ۔ چونکہ ان ہلاکت خیز واقعات کے حقیقی اسباب رب کائنات کی کھلی نافرمانی اور انسانوںکے اپنے سنگین جرائم و گناہ تھے اس لئے انہیں عذاب الٰہی کہا گیا۔ قوم نوح اور قوم لوط کا جو حشر ہوا قرآن کریم میں اس کا تذکرہ رہتی دنیا تک کی انسانیت کے لئے درس و عبرت ہے۔ کیا جن گناہوںکی بنیاد پر قوم نوح پر پانی کا عذاب آیا اور جن بے حیائیوں کی وجہ سے قوم لوط پر پہاڑ گرا دیا گیا وہی گناہیں آج عام لوگوں کی روزمرہ کی عادت سی نہیں بن گئی…؟ بے حیائی اور بے پردگی کی کونسی کسرچھوڑی ہے؟ عریانیت اور فحاشی کا وہ کونسا رقص رہ گیا کہ آج دھڑ لے انجام نہیں دیاجاتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسے میں اگر قہر خداوندی نازل نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا…؟ حقیقت یہ ہے کہ چند اہل اللہ کی آہ سحر گاہی کی وجہ سے بڑے بڑے عذاب ٹل جاتے ہیں ورنہ انسانی اعمال خود عذاب الٰہی کی دعوت دیتے ہیں۔ یاد رکھئے ! اللہ کا قہر مختلف صورتوںمیں نازل ہوسکتا ہے ، انفرادی صورت میں بھی اور اجتماعی صورت میں بھی علاقائی سطح پر بھی اور صوبائی و ملکی سطح پر بھی۔
بے شک امت محمدیہ کو اتنے شدید و وسیع عذابوں سے محفوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ پچھلی امتوں پر نازل ہوئے تھے تاہم بالکلیہ اور مطلقاً عذاب سے مأمون بھی نہیںہے ، بلکہ انسانوں کو عبرت کا سامان فراہم کرنے کے لئے قہر خداوندی کی جھلکیا ں جہاں تہاں آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں کہیں سیلاب و بیماری کی شکل میں کہیں سمندری طوفان کی شکل میں کہیں سخت آندھیوں کی شکل میں اور کہیں عام زلزلوں کی شکل میں ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے جماعت مہاجرین پانچ خصلتیں ہیںجن کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تمہارے اندر پیدا ہوجائیں:  ایک یہ ہے کہ جب کسی قوم میں بے حیائی پھیلتی ہے تو ان پر طاعون اور وبائیں اور ایسے نئے نئے امراض مسلط کردئے جاتے ہیں جو ان کے آباو اجداد میں سنے بھی نہ تھے، اور دوسرے یہ کہ جب کسی قوم میں ناپ تول کے اندر کمی کرنے کا مرض پیدا ہوجائے تو ان پر قحط اور گرانی اور مشقت و محنت اور حکام کے مظالم مسلط کردیئے جاتے ہیں اور تیسرے یہ کہ جب کوئی قوم زکوٰۃ ادا نہ کرے تو بارش بند کر دی جاتی ہے، اور چوتھے یہ کہ جب کوئی قو م اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کو توڑ ڈالے تو اللہ ان پر اجنبی دشمن مسلط فرمادیتے ہیں جو ان کے مال بغیر کسی حق کے چھین لیتا ہے، اور پانچویں یہ کہ جب کسی قوم کے ارباب اقتدار کتاب اللہ کے قانون پر فیصلہ نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام ان کے دل کونہ لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں منافرت اور لڑائی جھگڑے ڈال دیتے ہیں .رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جن گناہوں کے امت میں پیدا ہونے کا خطرہ ظاہر فرمایا ہے وہ سب گناہیں آج عروج پر ہیں اور اس پر مرتب ہونے والی وبائیں اور سزائیں بھی کچھ کم نہیں ، ایسے میں اسوۂ نبیﷺ یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیاجائے کثرت سے استغفار کیاجائے ،ا نفرادی طور پر بھی ہر ایک اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کرے اس لئے جہاں کثرت سےاستغفارہووہاں سےعذاب الٰہی اٹھالیاجاتا ہے ۔
اگر انسان مختلف قسم کی قدرتی آفتوں اور وبائی بیماریوں سے تحفظ چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال کو درست کرے،بے حیائی اور فحش کاریوں سے توبہ کرےاپنے مالک حقیقی کا شکر گزار بن کررہے باغی نہ بنے ، خلق ِخدا کے ساتھ اس کا برتاؤ اچھا رہے حقوق العباد اور حقوق اللہ کی تکمیل کرے ہر وقت یہ دھیان رہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ مجھے ضرور دیکھ رہا ہے۔