کورونا کیخلاف جنگ

اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں!

تاریخ    10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


 کورونا وائرس کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے ۔ملک اور باقی دنیا کی طرح جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں کورونا متاثرین کی تعداد تشویشناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور یہ تعداد اب دو سو کا ہندسہ چھونے والی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لڑائی مستقبل قریب میں ختم ہونے والی نہیں ہے تاہم ہمیں ہار بھی نہیں ماننی چاہئے۔ ایک ہی آپشن بچا ہے کہ ہم یہ جنگ لڑیں اور جیتیں بھی لیکن سرخرو ہونے کیلئے صبر و تحمل سے کام لینے کے ساتھ ساتھ ایک منظم طریقہ کار اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔منظم طریقہ کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ آپ میں تھکان کے عنصر کو پنپنے نہیں دیتا ہے اور یہ ہمیشہ ایک نئے ولولہ کے ساتھ نئے سرے سے سوچنے اور نئی حکمت عملی مرتب کرنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے ۔اس جنگ میں جو انفرادی ،خانگی ،ہمسائیگی اور انتظامی سطح پر بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جارہی ہے ،ہر محاذ کو اپنا کردار نبھانا ہے اور باضابطہ ایک منصوبہ بنا کر اس پر من وعن عمل بھی کرنا ہے ۔انفرادی سطح پر ہمیں جوش میں ہوش رکھنے ضرورت ہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے بلکہ انتہائی ٹھنڈے دل کے ساتھ گھبرائے بغیر متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا رہنا ہے۔ خانگی سطح پرہمیں ایک دوسرا کا مدد گار بننا ہے اور گھروں میں کسی بھی منفی سوچ کو داخل ہونے نہیں دیناہے بلکہ اکٹھے رہ کراس وباء کا مقابلہ کرناہے۔اس کیلئے ہمیں کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کرنا ہے کہ ہم ٖغیرضروری طور اپنے گھروںسے باہر نہ نکلیں اور حفظان صحت کا مکمل خیال رکھیں۔ہمسائیگی کے محاذ پرہمیں اس با ت کو یقینی بنانا ہے کہ سماجی فاصلہ بنا رہے اور کسی بھی طور ان فاصلوںکو ختم نہیں کرنا ہے۔فی الوقت خوش نصیبی یہ ہے کہ بیشتر آبادیوں میں ابھی تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم لاپرواہ بنیں بلکہ ہمیں احتیاط جاری رکھنی چاہئے اور ایسا کرتے وقت ہمیں ایک دوسرے کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے، جو ہم بخوبی محلہ کی سطح پر کرسکتے ہیں اور آج تک کرتے آئے بھی ہیں۔تیسرا اور سب سے اہم محا ذانتظامی سطح کا ہے ۔ہم انتظامی افسروں اور دیگر سرکاری عملہ کی کاوشوں کو اس حساس مرحلہ پر نظر انداز نہیں کرسکتے جو میدان عمل میں اس بحران سے نبرد آزما ہیں۔انکی کاوشوں کااعتراف کرنے کی ضرورت ہے ۔خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ حالات میں انتظامی مشینری کے تمام کل پرزے جس تال میل کے ساتھ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر عوامی مسائل کو سنبھالنے میں منہمک ہے ،وہ قابل ستائش ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔تاہم انتظامی مشینری سے جڑے افراد کو بھی اسے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی تصور کرکے اس کو عوام الناس پر کوئی احسان تصور نہیں کرنا چاہئے اور انہیں چاہئے کہ وہ دوران ڈیوٹی تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا رہیں۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی پورے نظام کو ہی تہہ وبالا کرسکتی ہے ۔ سب سے آخر پر اس لڑائی کی پہلی صف میں جو لوگ کھڑے ہیں ،وہ ہمارا طبی و نیم عملہ ہے جنہیں براہ راست کورونا متاثرین کا سامنا ہے اور وہ اس وائرس کو شکست دینے میں اپنی جان کی بازی تک لگا رہے ہیں۔یہ انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جنگ میں پہلی صف کے ان سپاہیوں کو وہ تمام ساز وسامان مہیا رکھے جس کا استعمال کرکے وہ پہلے خود محفوظ رہ سکیں کیونکہ جب وہ خود محفوظ رہیں گے تو جبھی وہ متاثرین کے کام آسکتے ہیں۔پوری دنیا میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح ڈاکٹر او ر نیم طبی عملہ اس بحران سے متاثر ہورہے ہیں۔اب تک عالمی سطح پر کورونا کے متاثرین کی علاج کے دوران کم و بیش دو سو سے زیادہ ہیلتھ ورکر خود کورونا کا شکار ہوکرہم سے جدا ہوکے دائمی سفر پر روانہ ہوچکے ہیں۔یہی وہ وقت ہے جب انتظامیہ کو صف اول کے ان سپاہیوں کا مکمل خیال رکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انہیں کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو۔اگر اس نازک ترین مرحلہ پر صاحب ثروت خضرت اور سماج کے بااثر لوگ ہمارے طبی نظام کی کچھ مدد کرسکتے ہیں تو اُس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ جتنے بڑے پیمانے کا یہ بحران ہے،شاید ہی حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اس بحران سے نمٹ سکے لیکن بنیادی طور پریہ انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وسائل بروئے کار لاکر طبی شعبہ کو موجودہ وقت کی ضرورتوں سے کسی حد تک ہم آہنگ کرے ۔ 
 

تازہ ترین