تازہ ترین

کورونا بے قابو ہوا تو؟

۔ 57ہزار نفوس کیلئے ایک وینٹی لیٹر، 70لاکھ کی آبادی کیلئے صرف 123 دستیاب

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پر ویز احمد

 بانڈی پورہ،شوپیان اور پلوامہ میں ندارد

 
سرینگر // قریب 70لاکھ کی آبادی کیلئے وادی کشمیرمیں صرف 123 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جن میں97 میکنکل اور 24پورٹیبل وینٹی لیٹر شامل ہیں۔گزشتہ 70 برسوں سے جموں کشمیر کی متواتر حکومتوں نے طبی شعبے پر جو زر کثیر خرچ کی ہے یہ اسکا جیتا جاگتا ثبوت ہے جو کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔فی الوقت وادی کشمیر میں کورونا نے اپنے پنجے گاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور روز کسی نہ کسی علاقے سے اس وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہورہا ہے بلکہ امواتیں بھی رونما ہورہی ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام اس بات کا دعویٰ کررہے ہیں، جو انہوں نے 3روز قبل بھی کیا تھا، کہ انکے پاس وادی کشمیر میں 123وینٹی لیٹر ہیں۔ محکمہ کے حکام اُن وینٹی لیٹروں کو بھی گنتی میں شمار کررہے ہیں جو ناکارہ ہوچکے ہیں۔وادی میں اگر کورونا میں مبتلا مریضوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی گئی جس طرح فی الوقت بڑھ رہی ہے تو اسپتالوں میں نازک مریضوں کے لئے وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہونگے۔وادی میں آبادی کے تناسب سے اگر دیکھا جائے تو یہاں57ہزار لوگوں کے لئے صرف ایک وینٹی لیٹر دستیاب ہے۔یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے اوراگر کورونا کے مریضوں کی کچھ تعداد کو انتہائی نگہداشت والے وارڈوں میں داخل کرنا پڑے گی تو وادی میں گھمبیر صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس یں طبی عملے کو بھی اپنی دیوٹیاں انجام دینے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔70لاکھ کی آبادی کیلئے صرف 97میکنیکل اور 24پورٹیبل وینٹی لیٹر دستیاب ہونا محکمہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی قلعی کھول دیتی ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ یہاں کے حکام نے طبی شعبے کو استوار کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا، صرف اپنی تجورہاں بھردیں، کارکنوں کے جیب بھر لئے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کا کام کیا۔ کورونا کی وجہ سے صورتحال اگر موجودہ نوعیت تبدیل کر لیتی ہے اور زیادہ مریض اسپتالوں میں بھرتی کرنے پڑیں گے تو موجودہ حالت دیکھتے ہوئے طبی سسٹم مفلوج ہوکر رہے گا، کیونکہ طبی سسٹم اس قدر مضبوط ہی نہیں کہ مریضوں کے بھاری رش کو برداشت کرسکے۔فی الوقت وادی کے سب سے بڑے اسپتال شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 40وینٹی لیٹر ہیں جن میں 20نئے لائے گئے ہیں۔سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انکے پاس پہلے 20وینٹی لیٹرتھے لیکن اب 20نئے لائے جاچکے ہیں۔ انکاکہنا تھا کہ جو 20 نئے وینٹی لیٹر فراہم ہوئے ہیں وہ پورٹیبل ہیں، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتے ہیں۔ سکمز کے نوڈل آفیسر غلام حسن ایتو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انکے پاس کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے صرف 6وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔سکمز کے دوسرے اسپتال جے وی سی بمنہ کی خاتون سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شفا دیوا کا کہنا ہے’’ بمنہ کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں صرف  4وینٹی لیٹر موجودہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ بمنہ کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں کل 24بیڈ ہیں جن کیلئے 4وینٹی لیٹر ہیں‘‘۔وادی کے دوسرے بڑے اسپتال ایس ایم ایچ ایس میں 18وینٹی لیٹر کام کرنے کی حالت میں ہیں۔امراض چھاتی اسپتال(سی ڈی) درگجن میں 16وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جبکہ مزید 4بھی لائے گئے ہیں۔سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سی ڈی اسپتال میں پہلے 16وینٹی لیٹر تھے لیکن اب تعداد 20ہوگئی ہے‘‘۔بچوں کے اسپتال جی بی پنتھ میں 10وینٹی لیٹر دستیاب رکھے گئے ہیں جبکہ امراض خواتین کے اسپتال لل دید میں 2وینٹی لیٹروں کو دستیاب رکھا گیا ہے۔ہڈیوں کے اسپتال بون اینڈ جوائنٹ برزلہ میں 2وینٹی لیٹر دستیاب رکھے گئے ہیں۔جی ایم سی اننت ناگ ضلع اسپتال میں 2وینٹی لیٹر رکھے گئے ہیں۔ جبکہ میڈیکل کالج اسپتال بارہمولہ میں 4وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جن میں ایک پورٹیبل ہے۔جموں کشمیر محکمہ صحت و طبی تعلیم کے زیر تحت کام کرنے والے وادی کے اسپتالوں میں صرف 8وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔چیف میڈیکل آفیسر سرینگر ڈاکٹر طلعت جبین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انکے زیر نگرانی کام کرنے والے سرینگر کے دو اسپتالوں رعناواری میں 3وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جبکہ غوثیہ اسپتال خانیار میں بھی اتنی ہی تعداد میں وینٹی لیٹر کام کررہے ہیں۔محکمہ صحت کے زیر نگرانی دیگر اسپتالوں ضلع اسپتال بڈگام میں 8وینٹی لیٹر کام کررہے ہیںگاندربل ضلع اسپتال میں ایک پورٹیبل وینٹی لیٹر،جبکہ کولگام اور کپوارہ میں بھی ایک ایک پورٹیبل وینٹی لیٹر دستیاب رکھے گئے ہیں۔ شوپیان اور پلوامہ ضلع اسپتالوں میں کوئی وینٹی لیٹر موجود نہیں ہے۔اسی طرح شمالی کشمیر کے ضلع اسپتال ہندوارہ میں 4وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جبکہ بانڈی پورہ میں اس طرح کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثاالحسن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اسپتال انتظامیہ کو کورونا وائرس کیلئے مخصوص وینٹی لیٹر دستیان رکھنے چاہئیں۔انکا کہنا ہے’’ ائیسولیشن وارڈ میں موجود ہر ایک بیڈ کیساتھ وینٹی لیٹر ہونا چاہیے، جو اور کوئی مریض استعمال نہ کرے، آپ کورونا کے مریضوں کو دوسرے انتہائی نگہداشت وارڈوں میں موجود عام مریضوں کیساتھ نہیں رکھ سکتے،آپکو وبائی بیماری کی شدت کا اندازہ کبھی نہیں ہوسکتا لہٰذا آپکو اسکے لئے تیار رہنا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ طبی شعبے میں موجود عملہ، جس میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں، کیلئے سب سے پہلے حفاظتی بندوست کیا جانا چاہیے اور اسی طرح کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کیلئے بھی ایک طرح کا طبی سسٹم ہونا چاہیے تاکہ ایسے مریضوں کو الگ تھلگ بھی رکھا جاسکے اور انکے لئے وینٹی لیٹر بھی دستیاب رہیں ۔
 

مہاراشٹرکی پرائیویٹ فرم کو آردڑ دیا گیا،5مئی تک وینٹی لیٹر فراہم کئے جائیں

پر ویز احمد
 
سرینگر //جموں کشمیر حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے پیدا شدہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کس قدر ہنگامی نوعیت کے اقدامات  تیار ہیں( جن کے بارے میں انتظامیہ کے افسران بیانات داغتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں)کہ ممبئی کی ایک فرم کو وینٹی لیٹر فراہم کرنے کیلئے 40دن کی مہلت دی گئی ہے۔جموں کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن کی جانب سے میسرز ڈرائیگر انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ مہاراشٹرا کو24مارچ کو ایک خط کے ذریعہ مطلع کردیا گیا کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں جموں کشمیر انتظامیہ تیاری کی حالت میں رہنے کیلئے  وینٹی لیٹروں کی دستیابی یقینی بنانے کی خواہاں ہے۔ لہٰذاجس طرح مذکورہ فرم نے آل انڈیا میڈیکل انسٹی چیوٹ نئی دہلی کو (High End ICU ) وینٹی لیٹر فراہم کئے، اسی طرح، قہی قیمت والے اور انہیں قواعد و ضوابط کے تحت جموں کشمیر کیلئے بھی 50وینٹی لیٹر فراہم  کئے جائیں جو 5مئی تک سرینگر پہنچنے چاہئیں۔پرائیویٹ فرم کو یہ بھی مطلع کردیا گیا کہ  50وینٹی لیٹروں کی فی کس قیمت 17لاکھ ہے جس کی کل رقم8کروڑ 50لاکھ بنتی ہے۔وینٹی لیٹروں کی سرینگر میں فراہمی کیلئے  22ہزار 400روپے کا کرایہ بھی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔جو کل رقم کے علاوہ ہے۔