تازہ ترین

کورونا وائرس؛مزید 24متاثر ،تعدادبڑھ کر184

کشمیر میں 152اور جموں میں 32،جمعرات کو 197افراد کی رپورٹ منفی آئی

10 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر //جمعرات کو جموں کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید 24افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 184تک پہنچ گئی ہے۔ابھی تک وادی میں 3جبکہ جموں میں ایک مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔سرکاری ترجمان روہت کنسل نے4بجکر 29منٹ پر اپنے ٹویٹ میں لکھا ’’ کشمیر میں مزید 24مشتبہ مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں اور اب متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد 184ہوگئی ہے جن میں جموں صوبے کے 32 اور کشمیر صوبے کے 152مریض شامل ہیں۔ کشمیر صوبے میں جمعرات کو مثبت قرار دئے گئے 24مریضوں میں سے 21 کے نمونوںکو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں مثبت قرار دیا گیا جبکہ مزید3کے نمونے سی ڈی اسپتال میںمثبت قرار دیئے گئے۔

سکمز

 سکمزصورہ میں مثبت قرار دئے گئے 21افراد کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’127نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 21مثبت جبکہ 106نمونے منفی قرار دئے گئے ‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ بانڈی پورہ سے 39نمونے حاصل ہوئے تھے جن میں 12مثبت قرار دئے گئے جبکہ 27منفی قرار پائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بارہمولہ سے 23نمونے حاصل ہوئے جن میں 8نمونے مثبت قرار دئے گئے ہیں جن سبھی کا تعلق ٹنگمرگ سے ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ گاندربل سے 26نمونے موصول ہوئے جو سبھی منفی قرار پائے گئے جبکہ کپوارہ سے 23نمونے حاصل ہوئے جن میں ایک مثبت قرار دیا گیا ۔ ڈاکٹر جان نے بتایا’’ ضلع بڈگام کے 6نمونے موصول ہوئے جو سبھی منفی قرار دئے گئے ۔ انہوں نے کہا ’’ 21میں سے 20 مثبت قرار دیئے گئے  افرادمختلف کورونا وائرس مریضوں کے اہلخانہ، رشتہ دار اور رابطے میں تھے جبکہ کپوارہ میں مثبت قرار دئے گئے مریض نے دلی کا سفر کیاہے ‘‘۔ ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ بانڈی پورہ میں مثبت قرار دئے گئے 12مریضوں میں سے 11ایک ہی کنبے کے ہیں ۔ چیف میڈیکل آفیسر بانڈی پورہ ڈاکٹر تجمل نے بتایا ’’ بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے 12مشتبہ مریضوں کی رپورٹیں جمعرات کو مثبت آئیں جن میں 11ایک ہی کنبے سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ گنڈ جہانگیر میں  چند روز قبل فوت ہونے والے 55سالہ شخص کے 11 اہلخانہ  متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک کا تعلق نائد کھے علاقے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سبھی افراد کورونا وائرس مریضوں کے رابطے میں آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گنڈ جہانگیر میں مذکورہ اہلخانہ کے تمام افراد کے رابطوں کے کا پتہ لگایا جارہا ہے‘‘۔ ڈاکٹر تجمل نے کہا کہ اس طرح بانڈی پورہ میں کل کورونا وائرس مریضوں کی تعداد 32ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ گنڈ جہانگیر میں ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم کو سیل کردیا گیا ہے جہاں فوت ہوئے شخص کو داخل کیا گیا تھا جس کے بعد اسکی حالت نازک ہوئی تھی اور وہ فوت ہوا۔شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میدیکل سائنسز کے شعبہ عوامی رابط کی جانب سے جاری کئے گئے ا عدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ لیبارٹری میںابتک کل 989نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 86مثبت جبکہ 884کی رپورٹ منفی آئی ہے۔ ابھی بھی 19افراد کی رپورٹ آنا باقی ہے۔ 

سی ڈی اسپتال درگجن

سی ڈی اسپتال میں مشتبہ مریضوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’ 3مریضوں کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا ہے جبکہ بدھ کو داخل کئے گئے 3مشتبہ مریضوں کی رپورٹ آنا باقی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’آئیسولیشن وارڈ میں رکھے گئے مریضوں کی تعداد 30ہوگئی ہے کیونکہ جمعرات کو صدر اسپتال میں مثبت قرار دی گئی 70سالہ خاتون کو سی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘‘۔اسپتال میںقائم لیبارٹری میں جمعرات کو 94نمونوں کی تشخیص کی گئی ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’94مشتبہ مریضوں میں سے 3کی رپورٹ مثبت آئی جبکہ 91افراد کی رپورٹوں کو منفی قرار دیا گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ مثبت قرار دیئے گئے 3مریضوں میں سے ایک صدر اسپتال سرینگر میں زیر علاج ہے جبکہ2نمونے جی ایم سی بارہمولہ سے موصول ہوئے تھے جن میں ایک اننت ناگ اور ایک کولگام سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ تینوں کورونا وائرس مریضوں کے رابطے میں آئے ہیں اور اب محکمہ صحت کی ٹیمیں ان کے رابطوں کی تلاش میں جٹ گئی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم نے بتایا ’’مختلف اسپتالوں سے بھیجے گئے 98نمونے زیر تشخیص ہیں جبکہ مزید 150نمونے موصول ہوئے ہیں۔     

رعنا واری

جے ایل این ایم رعناواری میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد 22ہوگئی ہے۔ نوڈل آفیسر ڈاکٹر بلقیس نے بتایا ’’ جمعرات کو مختلف قرنطینہ مراکز سے ہم نے 84مشتبہ مریضوں کے نمونے حاصل کرکے سی ڈی اسپتال بھیج دئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ رعناواری سے بھیجے گئے 150نمونے زیر تشخیص ہیں‘‘۔ ڈاکٹر بلقیس نے بتایا ’’بدھ کو مثبت قرار دئے گئے  10مریضوں کو جے ایل این ایم منتقل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں چھتہ بل کے ایک کنبے کے چار جبکہ عید گاہ کے ایک کنبے کے 5افراد بھی شامل ہیں۔  

حکومتی بیان

حکومت نے کہا ہے کہ آج تک کووِڈ ۔19 کے 184 مثبت معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے  174سر گرم معاملات ہیں جبکہ 6مریض شفایاب ہوئے اور چار کی موت واقع ہوئی ہے ۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 184 مثبت معاملات میں سے152 کشمیر جبکہ 32جموں صوبے میں ہیں۔علاوہ ازیں اب تک ایسے 43,798 اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا یا تو سفری پس منظر ہے یا وہ مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اب تک8,157 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہیجس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ478 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔174کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 25,975 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق9,010اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 2,649نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 2465 نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے اور184معاملات مثبت پائے گئے۔
 
 

فوت ہوئے شخص کے 11اہل خانہ بھی متاثر

بھائی، اسکی اہلیہ سمیت7خواتین اور دو بچے شامل

پرویز احمد 
 
سرینگر// صدر اسپتال سرینگر میں منگل کو کورونا وائرس سے فوت ہوئے گنڈ جہانگیر بانڈی پورہ کے 54سالہ شخص کے 11اہلخانہ وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ایک ہی کنبہ کے 11افراد میں چھوٹے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل سرینگر کے عیدگاہ علاقے میں ایک ہی کنبے کے 5جبکہ چھتہ بل میں ایک ہی کنبے کے 4افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔منگل کو محکمہ صحت کی مختلف ٹیموں نے فوت ہونے والے کورونا وائرس مریض کے اہلخانہ اور اسکے رابطوں کاپتہ لگا کر 39نمونوں کو تشخیص کیلئے بھیجا تھا جن میں 12افراد مثبت قرار دئے گئے ۔چیف میڈیکل آفیسر بانڈی پورہ ڈاکٹر تجمل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فوت ہونے والے شخص کی کوئی سفری تفصیل نہیں تھی اور نہ ہی کسی کے رابطے میں آیا تھا لیکن موت ہونے کے بعد ہم نے اس کے اہلخانہ اور رابطوں کا پتہ لگاکر 39نمونے حاصل کئے جس میں اس کے گھر کے 11افراد اور نائد کھے کے رہنے والے اسکے دوست کے نمونے مثبت قرار دئے گئے ۔  انہوں نے کہا ’’ اہلخانہ میں 6خواتین ،بھائی، اسکی اہلیہ اور3 بچے شامل ہیں‘‘۔متاثرہ کنبے کی جانب سے نجی اسپتال کے خلاف الزامات پر بات کرتے ہوئے چیف میڈیکل آفیسر نے بتایا ’’ کسی نجی اسپتال کے خلاف کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی نجی اسپتال کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر نے بتایا ’’12مثبت مریضوں کے رابطوں کے بارے میں پتہ لگانے کا عمل جاری ہے کیونکہ اس کنبے اور فوت ہوئے شخص نے کئی لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا کیونکہ کسی کو بھی اسکے کوروناوائرس کا شکار ہونے کی کوئی علمیت نہیں تھی، اسلئے اس کے کنبے کے علاوہ نائید کھے کا ان کاایک دوست بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ منگل کو مثبت قرار دئے گئے16افراد میں سے سرینگر کے 10افراد شامل تھے جن میں چھتہ بل میں ایک ہی کنبے کے 4افراد وائرس کا شکار ہوئے تھے جبکہ عیدہ گاہ میں ایک ہی کنبے کے 5افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔  
 
 
 

لداخ میں ایک رپورٹ مثبت

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //مرکزی زیر انتظام  لداخ میں ایک ہفتے کے بعد ایک مشتبہ مریض کی رپورٹ مثبت قرار دی گئی ہے اور اس طرح لداخ میں وائرس سے متاثرہ افرادکی کل تعداد 15ہوگئی ہے جن میں 11افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔  ولداخ میں حکومتی ترجمان رگزن سیمفل نے اپنے ایک ٹوئٹ میںلکھا’’'لداخ کے لیہہ سے کورونا وائرس کا ایک نیا مثبت کیس سامنے آیا ہے'‘۔ انہوں نے مزید لکھا ’’کورونا سے متاثرہ ایک اور مریض کی رپورٹ منفی آئی ہے اور اب تک صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 11 ہوگئی ہے'۔
 
 
 

برطانیہ میں سولنہ سرینگرکاشہری چل بسا

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //سولنہ سرینگر کا ایک شخص برطانیہ کے کینٹ شہر میں کورونا وائرس کا شکار ہوکر فوت ہوگیا ہے۔محکمہ سیلز ٹیکس کا ایک سابق ملازم اپنی اہلیہ کے ہمراہ نومبر کے مہینے میں بر طانیہ چلا گیا جہاں انکے دو بیٹے رہائش پذیر ہیں ،جو دونوں ڈاکٹر ہیں۔ڈینٹل سرجن ڈاکٹرضیاء رسول بٹ نے بتایاکہ اُن کے ماں باپ27نومبرکوبرطانیہ پہنچے تھے۔ گزشتہ دنوں اُن کے والد اوروالدہ اس وجہ سے کووڈ19میں مبتلاء ہوئے ،کیونکہ اُن کاایک ڈاکٹربیٹااسپتال میں ایسے مریضوں کاعلاج ومعالجہ کرنے کے دوران خود بھی اس خطرناک وائرس کی لپیٹ میں آیا۔ڈاکٹر بیٹے سے یہ وائرس باپ ماں میں منتقل ہوا،اورتینوں برطانیہ کے شہرکینٹ کے ایک اسپتال میں زیرعلاج تھے ۔ڈاکٹر ضیاء رسول بٹ نے بتایاکہ اُنکے والد اسپتال میں تقریباً12دن اس وائرس سے لڑتے رہے لیکن بدھ کے روزوہ اسپتال میں زندگی کی جنگ ہارگئے ۔انہوں نے کہاکہ فوت ہوئے والد کی آخری رسومات اُن کی خواہش کے مطابق وہیں انجام دی گئیں ۔انہوں نے تاہم کہاکہ اُن کے ڈاکٹر بھائی اوروالدہ کوکووڈ19سے نجات مل چکی ہے اوردونوں روبہ صحت ہورہے ہیں ۔
 
 
 

کرناہ میں 810افراد کی سکریننگ 

۔18افراد سرکار ی اور 765ہوم قرنطینہ میں 

اشفاق سعید 
 
سرینگر //کرناہ انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پھلائو کو روکنے کیلئے  بیرون ریاستوں  سے یہاں پہنچنے والوں میں سے 810افراد کی سکریننگ کی۔ انتظامیہ کے مطابق سب ڈویژن کرناہ میں 765افراد گھروں میں ہی ہوم قرنطینہ میں ہیں ،جبکہ 18افراد کو انتظامیہ کی جانب سے قائم کئے گئے ڈگری کالج قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ان افراد میں سے کئی ایک کے نمونے بھی صورہ ہسپتال بھیجے گئے ہیں ۔کرناہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں 96ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے ہوم قرنطینہ کی مدد مکمل کر لی ہے ۔انتظامیہ نے بتایا کہ کرناہ سے صرف 6افراد کو فلو جیسی علامت پیش آنے کے بعد بارہمولہ منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد ایک شہری کا ٹسٹ مثبت آیا ۔شہری کا ٹسٹ مثبت آنے کے بعد انتظامیہ نے باغ بالا علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جبکہ آس پاس کے علاقوں کو بفر زون قراردیکر لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی لگا دی گئی ۔محکمہ ہیلتھ کی جانب سے صفائی مہم بھی ریڈ زون میں چلائی گئی ۔ایس ڈی ایم کرناہ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں ۔ 
 
 
 

جے کے آئی  نے ریلیف فنڈ میں 10لاکھ روپے کا عطیہ دیا

نیوز ڈیسک
 
جموں//جموںاینڈ کشمیر انڈسٹریز لمٹیڈ ( جے کے آئی ) نے جموںوکشمیر یونین ٹریٹری میں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے سلسلے میں اِنتظامیہ کی طرف سے کی جارہی کوششوں کو مزید استحکام بخشنے کے لئے جے اینڈ کے ریلیف فنڈ میں 10لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔منیجنگ ڈائریکٹر جے کے آئی جاوید اقبال نے جنرل منیجر جے کے آئی سنجے ہنڈو کے ہمراہ کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت منوج کمار دِویدی کو 10لاکھ روپے کی چیک پیش کی۔یہ رقم کارپوریشن کے ملازمین نے رضاکارانہ طور پر اکٹھی کی ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریشن نے بڑی براہمنا جموں میں قائم سلک ووینگ اینڈ سلگ ریلنگ کارخانوںمیں غیر مقامی ورکروں میں ماسکس اور سینٹائرزر تقسیم کئے ۔ 
 

جموں میں 4بڑی کالونیاں سیل 

سید امجد شاہ 
 
جموں //جموں میں 4بڑی کالونیوں کو سیل کیاگیاہے ۔کورونا وائرس کی روک تھام کے مقصد سے بٹھنڈی ، سنجواں ، جانی پور اور سروال کالونیوں کو پوری طرح سے سیل کردیاگیاہے اور ان کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کے کڑے پہرے لگادیئے گئے ہیں ۔سنجواں میں بیرون جموں وکشمیر کے متعدد افراد اورایک ڈاکٹر و اس کے اہل خانہ کے وائرس میں مبتلا پائے جانے کے بعد ان چاروں کالونیوں کا رابطہ بقیہ ضلع جموں سے منقطع کردیاگیاہے اور کسی کو نہ آنے کی اجازت ہے اور نہ ہی باہر نکلنے کی ۔قابل ذکر ہے کہ صوبہ جموں میں اب تک 32افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اوران میں سے 1خاتون کی موت واقع ہوئی ہے ۔جموں ضلع میں اب تک 19افراد کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں جبکہ ضلع راجوری میں 3افراد کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں۔ضلع اودھمپور میں 10معاملات مثبت پائے گئے ہیں ، ابتدائی طور پراس ضلع میں دو مثبت معاملات سامنے آئے تھے جنہوں نے انڈونیشیا کا سفر کیاتھاجس کے بعد ضلع میں 10کیس ہوگئے ہیں ۔اس طرح سے اب تک صوبہ جموں میں 32نمونے مثبت پائے گئے ہیں ۔