تازہ ترین

عورت کا میدانِ عمل اس کا گھر

گرہستی وپاکدامنی بہترین زیور

9 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

سید جلال الدین
        عورت کا میدان کار اس کا گھر ہے البتہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائرہ کار جدا جدا ہے۔ عورت کا میدان عمل اس کا گھر ہے اور گھر سے باہر کی دنیا مرد کی آماجگاہ ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم ؐکی ازواجِ مطہرات کو قرآن نے ہدایت کی اور یہی ہدایت ان تمام عورتوں کے لئے ہے جو خدا اور رسولؐ پر ایمان رکھتی ہیں۔ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو‘‘ اسلام نے دو وجوہ سے عورت اور مرد کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت ہوتی ہے۔ جب بھی دونوں ایک میدان میں کام کریں گے با عفت زندگی گزارنا ان کے لیے دشوار ہو گا۔  موجودہ دور میں جہاں کہیں اختلاط مرد و زن کی اجازت دی گئی وہاں اس کا بڑا بھیانک تجربہ ہوا ہے۔ عفت و عصمت اجڑ گئی اوربے راہ روی وبائے عام کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب اس کی اصلاح بھی اتنی دشوار بن گئی ہے کہ اسے ایک ایسی سماجی برائی کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے جس سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے اور اس کے نتائج بد کو بھی چار و نا چار برداشت کیا جا رہا ہے۔ عفت و عصمت بظاہر ایک اخلاقی قدر ہے لیکن اس سے پورے معاشرے کا رخ متعین ہوتا ہے جس معاشرہ میں عفت و عصمت کی کوئی اہمیت نہ ہو وہ آدمی کو ہر طرف سے کھینچ کر بد کاری کی طرف لے جاتا ہے اور ایک خاص قسم کا کلچر ، تہذیب ، معاشرت ، ادب اور اخلاق پیدا کرتا ہے۔ اسلام عفت و عصمت کے معاملہ میں بڑا حساس واقع ہوا ہے۔ اس نے عورت اور مرد کے آزادانہ میل جول اور اختلاط سے سختی سے منع کیا ہے ، وہ اس بات کو غلط سمجھتا ہے کہ عورت اور مرد ایک ساتھ مل کر کام کریں خود کو ایسی آزمائش میں ڈال دیں کہ اس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے۔ عورت اور مرد کے لئے دو الگ میدانِ کار تجویز کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دونوں کی قوتیں اور صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت جسمانی طور پر مرد سے کمزور ہے اور زیادہ محنت و مشقت برداشت نہیں کر سکتی۔ پھر اس کے ساتھ ایسے عوارض بھی لگے ہوئے ہیں جو اسے مسلسل اور سخت محنت سے روکتے ہیں۔ اس کی جوانی کا آغاز ہی ماہواری سے ہوتا ہے اور جب تک وہ بڑھاپے کی حدود میں داخل نہ ہو جائے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے حمل و رضاعت کے سخت اور جاں گسل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ساری کیفیات اس کی صحت ، وقتِ کار اور مزاج پر اثر انداز ہوتی ہیں اور لگاتار جدوجہد اور محنت کی راہ میں مانع ہیں۔ اس لیے فطرت کا تقاضا اور عدل و انصاف سے قریب تر بات یہی ہے کہ عورت پر اس سے کچھ کم بوجھ ڈالا جائے جتنا بوجھ مرد پر ڈالا جاتا ہے۔ محنت و مشقت کے کام مرد کے سپرد کیے جائیں اور عورت کو ان کاموں میں لگایا جائے جو زیادہ محنت طلب نہیں ہیں۔ اسلام نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ عورت گھر سنبھالے اور مرد باہر کی خدمات انجام دے۔ عورت کا مزاج ، رجحان اور نفسیات بھی اسی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عورت کے اندر محبت ، دلداری ، ہمدردی و غم خواری ، ایثار و قربانی ، صبر و تحمل ، حلم و بردباری اور خدمت کے جذبات مرد سے زیادہ ہیں، ان کی وجہ سے وہ اپنے ماحول کو مسرت اور خوشی ، راحت اور سکون دلجوئی اور محبت سے بھر سکتی ہے۔ لیکن زندگی کے شوائد اور مشکلات کا سامنا کرنے اور ہر طرح کے نشیب و فراز میں ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں جفا کشی ، عزم و ہمت ، پامردی اور شجاعت جیسی صفات پائی جائیں۔ یہ صفات مرد میں زیادہ ہیں۔ گھر اور خاندان نسبتاً پرُ سکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس میں عورت کی خوبیاں زیادہ نکھر کر سامنے آسکتی ہیں اور ان سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔ زندگی کے پیچیدہ اور دشوار مسائل کا سامنا مرد کر سکتا ہے۔ گھر چھوڑنے میں عورت کا نقصان ہے۔ عورت کے ساتھ یہ ہرگز کوئی خیر خواہی نہیں ہے کہ اسے اس فطری دائرہ کار سے نکال کر غیر فطری دائرہ میں پہنچا دیا جائے۔ اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ عورت جب تک عورت ہے وہ ماں بننے ، حمل و رضاعت کی تکلیفیں برداشت کرنے اور حیض و نفاس کی کیفیات سے گزرنے پر مجبور ہے۔ ان مشکلات اور پیچیدگیوں میں مرد اس کا ساتھ بالکل نہیں دیتا۔ اس کے ساتھ مرد کی ذمہ داریاں بھی اس پر ڈال دینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ دوسری بات یہ کہ عورت گھر کی ملکہ ہے۔ وہاں اسے باپ، بھائی ، شوہر ، اولاد اور خاندان والوں کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کے حقوق و اختیارات بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ عورت اگر گھر کی ذمہ داری نہ اٹھائے تو وہ ان حقوق کا دعویٰ نہیں کر سکتی اس کے بعد اسے زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسے میدان میں کام کرنا ہو گا جو حقیقت میں اس کا میدان نہیں ہے اور جہاں اسے اپنے سے زیادہ طاقتور حریف کا قدم قدم پر مقابلہ کر نا پڑے گا۔ اس میں اس کی توقع کم ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ مرد سے آگے نکل سکے گی۔ عورت کے لیے عزت و شرف کا مقام اس کا گھر ہے ، بازار نہیں ہے۔ لیکن موجودہ دور میں گھر اور خاندان کی اہمیت پوری طرح محسوس نہیں کی جاتی۔ اس لیے جب اسے عورت کا دائرہ کار کہا جاتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے ، اس کے لیے معاشرہ کا بہت ہی حقیر و ذلیل کام تجویز کیا جا رہا ہے ، اسے وہ حق نہیں دیا جا رہا ہے جو فی الواقع اسے ملنا چاہئے۔ اس طرح اسے مستقل نچلی سطح پر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ خاندان کسی بھی سوسائٹی کی بنیاد ہے۔ گھر کی اہمیت بازار اور دفتر سے کم نہیں ہے۔ عورت گھر کی تعمیر کی جو خدمت انجام دیتی ہے وہ ان بہت سے کاموں سے زیادہ اہم ہے جو وہ گھر سے باہر انجام دیتی یا دے سکتی ہے۔ یہاں اس کے بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔
        انسان بے شمار سیاسی ، سماجی ، اور تہذیبی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ صحت ، مرض ، دولت ، غربت ، تکلیف اور آسائش بھی لگی ہوئی ہے۔ بسا اوقات معاش کے لیے اسے سخت جدوجہد اور محنت کرنی پڑتی ہے ، اپنی اور خاندان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں اسے سب سے زیادہ ضرورت ذہنی سکون اور اطمینان کی ہے۔ گھر یہی سکون اور راحت اسے فراہم کرتا ہے۔ اگر گھر بھی اسے سکون نہ فراہم کرے تو اس کے لیے جینا دو بھر ہو جائے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورت گھر کو راحت کدہ اور سکون کا مرکز بنا دے تاکہ یہاں پہنچ کر مرد اپنی ساری تکلیفیں اور پریشانیاں بھول جائے۔ اور تازہ دم ہو کر کشمکش حیات میں اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بچہ کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی دوسری غذا نہیں ہے۔ اگر ماں گھر پر نہ رہے اور باہر کی مصروفیات اسے دن بھر گھیرے رہیں تو وہ اس کا اہتمام نہیں کر سکتی۔ اس طرح شیر خوارگی کی عمر میں بھی اور اس کے بعد بھی عرصہ تک بچہ کی صحیح پرورش ماں ہی کے ہاتھوں میں ہوسکتی ہے۔ بچے کی صحیح نشو و نما کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ اسے مناسب اور متوازن غذا ملتی رہے بلکہ اس کے لئے محبت ، ہمدردی ، اور ممتا بھی ضروری ہے۔ اگر اسے اپنے قریب ترین ماحول میں یہ جذبات نہ ملیں تو اس کی شخصیت مرجھا کر رہ جائے گی اور ابھرے گی تو بالکل غلط رخ پر ابھرے گی۔ ان جذبات کا مخزن ماں ہی کا سینہ ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص اس کا بدل نہیں بن سکتا۔ جب ماں دن بھر گھر سے باہر رہے گی تو بچہ ان جذبات کے لیے تڑپتا رہے گا اور وہ اسے نہ مل سکیں گے۔
       بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے بھی ماں سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس لیے کہ بچے کی صحیح تعلیم اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ استاد بے حد شفیق اور مہربان ہو، اس کی نفسیات اور مزاج سے واقف ہو، اس کی شرارتوں کو برداشت کرے اور صبر و تحمل سے ان کی اصلاح کرے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بچہ خود بھی اس سے محبت کرے ، اس کی کڑوی باتوں کو بھی خلوص اور خیر خواہی پر محمول کرے اور اس کی سختی بھی اس کے لیے گوارا ہو۔ یہ جذبات ماں اور بچے کے درمیان جیسے ہوتے ہیں کسی بھی دوسرے دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتے۔ ماں چند بچوں کو جس طرح تعلیم دے سکتی ہے اس طرح ان کی تعلیم اسکول میں نہیں ہو سکتی۔ یہاں ایک ضمنی لیکن ایک مسلمان کے نقطہ نظر سے اہم بات یہ ہے کہ آج کل دینی تعلیم کا رجحان کم ہے۔ چند ہی بچے دینی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچہ جب اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ پھر اسے دین کی موٹی موٹی باتیں جاننے اور سیکھنے کا بھی موقعہ نہیں ملتا۔ چنانچہ بہت سے نیک اور خدا ترس لوگوں کے بچے بھی دین کی ابتدائی باتوں سے نا واقف رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ کو گھر پر انہیں تعلیم دینے کی فرصت نہیں ہوتی اور ماں یا تو جاہل ہوتی ہے یا اس میں اس کا ذوق نہیں ہوتا۔ اگر ماں اس قابل ہو اور اسے اس کی فکر ہو تو اسکولوں میں تعلیم پانے کے باوجود بچہ دین سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ تربیت کے نقطہ نظر سے بھی ماں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بچہ کے لیے اصل نمونہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہ اس کے اخلاق و عادات کا شب و روز مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور اس کے رویہ کو دیکھ کر اپنا رویہ متعین کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ گھر کی تعمیر کے بغیر معاشرہ کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ اسی وجہ سے اسلام نے عورت کو اس کی تعمیر کے لیے بالکل فارغ کر دیا ہے۔ وہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا بوجھ اس پر ڈالنا نہیں چاہتا۔ حتیٰ کہ معاش کی ذمہ داریوں سے بھی اسے سبک دوش کر دیا ہے۔ اس کے نزدیک گھر کی تعمیر جہاد سے کم اہم نہیں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کی روایت ہے کہ کچھ عورتوں نے رسول اللہ ؐسے عرض کیا کہ مرد تو فضیلت والے اعمال اور جہاد کا ثواب حاصل کرتے ہیں ، ہم کیا کریں کہ ہمیں بھی وہ ثواب ملے جو راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں کو ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عورت گھر میں بیٹھی رہے گی وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ثواب پائے گی۔
           گھر میں مسلمان عورت کی حیثیت گھر کی تعمیر میں لگنے کی وجہ سے عورت کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کسی طرح مجروح نہیں ہوتی۔ اسلام نے ایک طرف تو اس کے سارے حقوق از روئے قانون محفوظ کر دیے ہیں اور دوسری طرف پورے معاشرہ کو اس کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کا حکم دیا ہے۔ اسلام ایسی فضا پیدا کرتا ہے کہ عورت جس حیثیت میں بھی رہے عزت و احترام کے ساتھ رہے۔ جب تک یہ فضا باقی ہے اس کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ گھر میں عورت کی تین نمایاں حیثیتیں ہیں۔ ماں ، بیوی ، اور بیٹی۔ اسلام نے ان تینوں حیثیتوں سے اسے بڑا اونچا مقام عطا کیا ہے۔
 

تازہ ترین