فرقہ پرستی بھول کر کورونا سے مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت

بُرائیوں سے نفرت کرو تاکہ تمہارے اچھے عمل برباد نہ ہوں

9 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

حنیف ترین
جو چاہتے تھے ملے ربطِ باہمی کو فروغ
ان ہی پہ آ گیا الزام شرپسندی کا
ملک کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔ دانشورطبقہ ہو یاعام آدمی،سبھی پریشان ہیں۔کورونا وائرس نامی بیماری نے اس وقت تمام عالم کو اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے، اس کا حملہ جیسے جیسے شدید ہو رہا ہے، اس کے خوف سے تمام ممالک کی دشواریاں بڑھتی جارہی ہیں اور یہ کہاں جاکر ختم ہوں گی، اس بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔مگر اس وقت بھی شیطانی قوتیںاپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہیں،وہ اس وقت بھی لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال تبلیغی جماعت ہے۔ ملک میں ایک خاص طبقے کو بدنام کرنے اوران کے خلاف اکثریتی طبقہ میں نفرت اورغم وغصے کوفروغ دینے کے لیے اس ایشوکا سہارالیاجارہاہے۔ اس گھناؤنے کام کے لیے ایک ایسی جماعت کا انتخاب کیاگیاجس کا نہ دنیا کی سیاست سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی ملکی سیاست سے انھیں کوئی دلچسپی ہے۔ آپ کویادہوگاجب بابری مسجد کی شہادت ہوئی تھی، اس کے چند دن بعد ہی تبلیغی جماعت نے بنگلور میںایک بڑااجتماع کیا تھا جب کہ اس وقت ملک کے مسلمان بابری مسجد کے غم میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اس واقعہ سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اس جماعت کو سیاسی اورملکی ایشوز سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔
تبلیغی جماعت کے لوگ سیرتِ نبویؐ پر چلنے والے مسلمان ہیں،وہ کسی مذہب، فرقہ اور نسل سے نفرت نہیں کرتے بلکہ وہ تو سبھی مذاہب کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ان کا مقصد مسلمانوں میں اسلام کی اصل تعلیمات کو رواج دیناہے۔یہ لوگ نیکی کی تعلیم دینے، برائیوں سے بچنے اور عبادات کی طرف لوگوں کو بلانے کے لیے گھرگھر جاتے ہیں۔ان لوگوں کی مثال اصحابِ صفّہ کی سی ہے۔ ایسے نیک صفات لوگوں پر اس طرح کے سنگین الزامات لگانا کہاں کا انصاف ہے؟خیال رہے تبلیغی جماعت کا یہ اجتماع 13 مارچ سے15 مارچ تک نظام الدین مرکز میں چلا۔ اچانک لاک ڈاؤن کے بعدان میں سے زیادہ تر لوگ مرکز میںٹھہرنے پرمجبور ہوگئے کیوں کہ یہ ملک کے دور دراز علاقوں یا پھر غیرممالک سے آئے ہوئے لوگ تھے،اس کے علاوہ یہ لوگ کربھی کیاسکتے تھے؟لاک ڈاؤن کے وقت وزیراعظم نے اعلان کرکے کہاتھاکہ جو جہاں ہے، وہیں رہے۔ لہٰذا جو لوگ یہاںپھنس گئے تھے وہ جماعت کی بلڈنگ میںمقیم رہے۔ حالانکہ اطلاعات کے مطابق جماعت کے ذمہ داران نے دہلی حکومت اور پولیس دونوں کو خط لکھ کراس بارے میں آگاہ کرایاتھا اورپھنسے ہوئے لوگوں کو یہاں سے نکالنے کی اپیل بھی کی تھی مگرپولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اوکھلا کہ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے 25 تاریخ کو دہلی کے ڈی ایم اور پولیس کمشنر کو فون کر کے ان لوگوں کے وہاں سے نکالنے کے لیے سواری کے بندوبست کرنے کے لیے بھی کہا تھا مگرایڈمنسٹریشن کے کانوں پرجوںتک نہیںرینگی۔
پھر اچانک میڈیا میں ایک ہنگامہ برپا کیاگیا۔ اس کے بعدحکومت نے وہاں پھنسنے ہوئے لوگوںنکالنا شروع کیا تاکہ انہیں کورانٹین کیا جا سکے۔ پھر کیاتھا قومی میڈیا نے کورونا وائرس کے ہندوستان پھیلنے کا الزام تبلیغی جماعت کے سرمنڈھنا شروع کر دیابلکہ ایک چینل نے تو یہاں تک کہا کہ یہ ’نظام الدین وائرس‘ ہے۔اورایک دوسرے چینل نے اسے ’کورونا جہاد‘ تک کالقب دے دیا۔ ان میڈیالوگوں نے کورونا وائرس کے پھیلانے کا ٹھیکرا تبلیغی جماعت کے سرپھوڑدیا اورحقیقت حال پرذرا بھی سنجیدگی نہیں دکھائی کہ جب ’لاک ڈاؤن‘ کا فیصلہ اچانگ لیاگیا اور ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگ یہاں پھنس گئے تووہ باہر یااپنے مقام تک واپس کیونکر جاسکتے تھے؟ 13 مارچ کو ہندوستان کی وزارتِ صحت نے کہا تھا کہ'coronavirus is not a health emergency'مگرتبلیغی جماعت کانام سامنے آنے کے بعدسارامنظرنامہ ہی تبدل ہوگیا۔
یہ واقعات کچھ کم دلچسپ نہیںہیں کہ16 مارچ کو ہندومہاسبھا نے ’گائو متر اور گوبر پارٹی‘ منعقدکی، جس میں سیکڑوں لوگوں نے حصہّ لیا۔  16مارچ کو حکومت نے سبھی مذہبی اداروں اور اسکولوں کو بند کرنے کا آرڈر جاری کردیالیکن 18 تاریخ کو چالیس ہزار لوگوں نے ’تروپتی مندر‘ میں جمع ہو کرایک ساتھ پوجاکی۔ 19مارچ تاریخ کو ’جتنا کر فیو‘ کا اعلان کردیا گیااور22مارچ کو ’جنتاکرفیو‘ کے بعد ہزاروں لوگوں نے تھالیاں اور تالیاںبجائیں۔ گجرات میں جگہ جگہ گربھاڈانس کی پارٹیاں منعقد کی گئیں، اس دوران ہزاروں لوگ جمع ہوئے، جہاں سماجی دوری بنانے رکھنے کی حکومت کی پالیسی پوری طرح سے فیل ہوگئی۔اس میں نہ صرف عام لوگ شریک ہوئے بلکہ آئی اے ایس، آئی پی ایس اور پولیس افسر ان تک نے حصہ لیا۔ اس کی ویڈیوز بھی بنائی گئیںجسے تمام دنیا نے دیکھیں۔پھر24 تاریخ کو پورے ملک میں تالابندی کر دی گئی مگر25 تاریخ کو یو پی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں رام للا کا مجسمہ پرانی جگہ سے ہٹا کر اس کی اصلی جگہ پرنصب کردیاگیا، جہاں پر اصل رام مندرتعمیر ہونی ہے۔اس تقریب میں سیکڑوں لوگوں نے حصہّ لیا۔اسی دوران مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ نے سی ایم عہدہ کاحلف لیا۔ اس میں بھی سیکڑوں لوگوں نے حصّہ لیا تھا۔
کیاان پروگراموں میں سوشل ڈسٹنسنگ کومینٹین کیاگیا؟کیا یقین کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ اتنی بڑی بھیڑ میں کوئی بھی کورونا سے متاثرشخص شامل نہیں ہوا ہوگا، ان سارے واقعات وشواہدکے بعدبھی کیا کوروناوائرس کاذمہ دارتبلیغی جماعت کو قراردینا،انصاف پرمبنی ہوگا؟قومی میڈیا اور ملک کے انصاف پسندلوگوں سے میرایہ بھی سوال ہے کہ جب پورا ملک ایک خطرناک بیماری سے لڑ رہا ہے، ایسے میں ہندومسلم میں تفریق کرنا ملک کے مفادمیں ہے؟یہ تو آگ پر تیل ڈالنے جیسا ہو گا۔کیوں کہ ملک کے زیادہ ترمیڈیانے جس میں انگریزی اور ہندی خاص طورپرشامل ہیں، کوروناسے متاثر 25 فیصد افرادکوتبلیغی جماعت سے منسوب کیاہے،ان فرقہ پرستوں سے کون پوچھے کہ باقی 75فیصد مریض کہاںسے آئے؟
آخر میں تمام مسلمانوں کی طرف سے میری ان فرقہ پرستوںسے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کے خدارا اس وقت صرف اورصرف ملک کو کورونا سے بچانے کے لیے لڑیںاور جو کچھ حکومت کہتی ہے، اس پر صدق دلی سے عمل کریں،دلوں کو توڑیں نہیں جوڑیں اور جب تک بیماری ہے، فرقہ پرستی بھول جائیں!آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ ہم سب کو اس مرض سے نجات دے اور اپنے  حفظ و امان میں رکھے۔ 
مہنگی پڑیں گی پیار کو یہ بدگمانیاں
دل سجدہ گاہِ عشق ہے، اس کو نہ ڈھائیے 
صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
9971730422
tarinhanif@gmail.com
 
 

تازہ ترین