مادہ روسی سفیدوں کا کٹائو | کیا فی الوقت شاخ تراشی سے کام نہیں چل سکتا؟

9 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کے قہر نے پوری دنیاکو بے بس کرکے رکھ دیا ہے اور ٹیکنالوجی کے باوجود انسان نے قدرت کے سامنے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔جموںوکشمیر میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بتدریج بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور انتظامی مشینری اپنی طرف سے ہر طرح کے جتن کررہی ہے کہ کسی طرح اس کے پھیلائو کو روکا جائے۔گوکہ انتظامیہ کی کاوشیں مستحسن ہیں اور جموںوکشمیر کے عوام کو ذمہ دار شہریوں کا ثبوت پیش کرتے ہوئے حکومت کو پورا تعاون پیش کرنا چاہئے تاہم گزشتہ چند روز سے وادی کے یمین و یسار میں جس بے ہنگم انداز میں مادہ روسی سفیدوں کو کاٹنے کے نام پر سفیدوں کو کاٹنے کی مہم شروع کی گئی ہے ،اس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مادہ روسی سفیدوں سے نکلنے والے روئی کے گالوں کی وجہ سے پولن الرجی ہوتی ہے تاہم ایسا پہلی دفعہ نہیں ہورہا ہے بلکہ ہر سیزن میں اپریل کے وسط سے یہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہےاور اس کی بنیاد پر موجودہ حالات میںاحتیاط کی کافی ضرورت ہے ۔اگر چہ ریاستی عدالت عالیہ نے کئی سال پہلے یہ درخت کاٹنے کی ہدایت دی تھی تاہم تب عدالتی احکامات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا اور ان درختوں کے ساتھ ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔المیہ کا مقام ہے کہ عدالتی احکامات اور ماہرین کی رائے کے برعکس خود سوشل فارسٹری محکمہ کی نرسریوں میں بھی یہ درخت پائے جاتے ہیں۔اب جبکہ کورونا وائرس کی علامات روسی مادہ سفیدوں سے نکلنے والے روئی کے گالوں سے ہونے والی الرجی سے ملتے جلتے ہیں تو فوری طور حکم نامہ صادر کیاگیا کہ ان سفیدوں کوکاٹ دیا جائے۔چنانچہ اس کے ساتھ ہی سفیدوں کو تہہ و تیغ کرنے کا سلسلہ شروع کیاگیا۔اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ اس درخت سے جو پولن الرجی ہوتی ہے ،اس کے علامات بالکل کورونا وائرس سے میل کھاتے ہیں اورموجودہ صورت حال میںطبی عملہ ،جو وقت کی ضرورت کے تقاضوں کے حوالے پہلے سے ہی بہت کم ہے،کو ان علامات میں فرق کرنے میںدشواری ہوسکتی ہے ۔لہٰذا اس معاملے پر ایک منضبط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت تھی نہ کہ اس کا حل ان درختوں کا صفایا کرنا ہی تھا۔حکومت کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ صرف کشمیر وادی میں ہی اربوں روپے مالیت کے روسی سفیداں ایستادہ ہیں اور دیہی علاقوں میں کم و بیش ہر گھر کے پاس لاکھوں روپے مالیت کے یہ درخت پائے جاتے ہیں۔جو دیہی معشیت کا ایک انتپائی اہم حصہ ہے۔موجودہ حالات میں ،جب پورا ملک لاک ڈائون میں ہے اور نہ صرف کارخانے بند ہیں بلکہ زندگی کی رفتار ہی بالکل تھم چکی ہے تو ایسے میں ان درختوں کو کاٹ کر ہر سُو جو لکڑی کے ڈھیر جمع ہونگے،اُن کا کیا ہوگا؟۔دیہی علاقوں میں غریب لوگوں کی جمع پونچی یہی درخت ہوتے ہیں جو وہ مشکل وقت میں بیچ کر اپنے مسائل سے جان چھڑاتے ہیں لیکن جب ویرانی کے عالم میں یہ درخت کاٹے جائیں تو غریب لوگوں سے ان سے نکلنے والی لکڑی کون خریدے گا۔اور اس روسی سفیدہ کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس کی لکڑی انتہائی نرم ہے اور جلد ہی بل کھاتی ہے ۔جب یہ لکڑی کاٹ کر مہینو ں تک یوں ہی پڑی رہے گی تو اس قدر ٹیڑھی ہوجائے گی کہ یہ بے کار ہوگی اور پھر کسی کام کی نہیں رہے گی۔بلکہ اس میں کیڑے پڑیں گے اور ہر سُو گلی سڑی لکڑی ما حولیاتی آلودگی کے فروغ کا ایک نیا ذریعہ بن جائے گا ۔اس لکڑی سے زیادہ تر سیب کی پیٹیاں بنتی تھیں جبکہ کم و کاست یہ لکڑی پلائی ووڈ کے کارخانوں میں بھی استعمال ہوتی تھی لیکن فی الوقت میوہ صنعت کا بھی خدا ہی حافظ ہے اور پلائی ووڈ کارخانہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے شاید ہی اس سال کھل جائیں۔اب ا سکا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس لکڑی کا کوئی خریدار نہیں ہوگا اور اگر غریب کسان کو خریدنے پر آمادہ بھی کرے تو اس کو یہ لکڑی اونے پونے دام بیچنی پڑے گی جبکہ اس کو ان درختوں کو گرانے میںہی ا س سے زیادہ لاگت لگی ہوگی۔انسانی زندگی مقدم ہے لیکن جلد بازی میں کہیں ہم اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی تو نہیں مار رہے ہیں۔یقینی طور پر یہ بے ہنگم کٹائی آنے والے وقت میں ہماری معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہوگی۔دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سفیدے کاٹنے کے دوران اب کہیں بھی سماجی فاصلہ رکھنے کا کوئی خیال نہیں رکھاجارہا ہے کیونکہ ان کے کاٹنے میں ایک یا چند ہی نہیں بلکہ درجنوںکے حساب سے لوگ درکار ہوتے ہیں اور جب ایک جگہ اتنے سارے لوگوں کا ہجوم جمع ہوتو بھلا کورونا وائرس کو پھیلنے سے کون روک سکتا ہے ۔ا سطرح یہ خود حکومت کی کوششوں کوناکام بنانے کا بھی سبب بن سکتا ہے ۔بے شک مادہ روسی سفیدے کاٹ دیں لیکن اس کیلئے کوئی موزون حکمتِ عملیمرتب ہونی چاہئے،تاکہ اس کے اقتصادی اور ماحولیاتی نقصانات سے محفوظ رہا جاسکے ۔موجودہ حالات قطعی اس کیلئے موزون نہیں ہیں اور اگر ان حالات میںہم اپنے فیصلے غریب لوگوں پر تھوپتے رہیں تو ان کی معیشت کا جنازہ نکل جائے گااور جب انفرادی سطح پر لوگوں کی معیشت تباہ ہوجائے گی تو پھر ملکی معیشت کو کوئی بچا نہیں سکتا ہے ۔ارباب بست و کشاد کو فوری طور اسفیصلے پر سر نو غور کرکے کوئیمتبادل آپشن اختیار کرنے کے احکامات کا جائزہ لینا چاہئے۔۔متبادل آپشن محفوظ بھی ہے اور کام چلائو بھی ۔فی الوقت ان درختوں کی شاخ تراشی ہوسکتی ہے ۔اگر ان سبھی درختوںکی شاخیں کاٹ دی جائیں تو روئی کے گالے اُڑنے کے تمام امکانات ختم ہوجائیں گے اور درخت بھی بچ جائیں گے ۔پھر جب حالات بہتر ہونگے اور ہم کورونا وائرس کی وباء سے نکل جائیں گے تو عمومی حالات میں ان درختوں کو کاٹنے کی مہم چلائی جاسکتی ہے کیونکہ اُس وقت کارخانے بھی کھلیں گے اور مارکیٹ بھی کھلا ہوگا۔اس طرح ان غریب لوگوں کو اس عمر بھر کی کمائی کے دام بھی اچھے مل سکتے ہیں اور فضائی آلودگی کی اس وجہ کو بھی ختم کیاجاسکتا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ حکام بالا جاری مہم کے منفی اور مثبت پہلوئوں پر سرنوغور کریں گے تاکہ غریب آبادی کے اس سرمایہ کو یوں لٹنے سے بچایا جاسکے ۔
 
 

تازہ ترین