لیلتہ البرات کی فضیلت

اعمالِ صحابہ اور پندرہواں شعبان

9 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(   فائل فوٹو    )

صہیب قاسم ندوی: شعبہ عربی، یونیورسٹی آف کشمیر
اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو وجود بخشا تو تکمیل کائنات اور اسکی زیبائش کے لیے سروں پر سایہ فگن یہ بیکراں نیلگوں آسمان، حد نظر تک پھیلی ہوئی زمیں،ضو فشانی کرتا ہوا سورج، چاندنی میں نہایا ہوا چاند اور تاریکی میں اپنے وجود کا احساس دلاتے ٹمٹماتے ہوئے ستارے، ہواؤں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے بادل، فلک بوس پربت، بیکراں سمندر، روانی سے بہتی ہوئی ندیاں، یہ چمن زار اور بیاباںیہ اور ان جیسی دیگر بیشمار اشیاءکو وجود بخشا لیکن نظام کائنات کے پیش نظر خدائی اصول و ضوابط کے تحت ہر چیز کو اسکی حد میں مقید اور اپنے مقام پر مسخر کر دیا، جہاں وہ ازل سے اپنے کام کو انجام دیتے آئے ہیں اور ابد تک دیتے رہیں گے۔ نہ وہ اپنی جگہ سے تجاوز کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام سے تہی دست ہو سکتے ہیں۔ یقینی امر ہے کہ دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں، چاہے وہ بری ہوں یا بحری، زمینی ہوں یا آسمانی، فضائی ہوں یا خلائی ساری مخلوقات کی تخلیق کا مقصد صرف ایک ہے اور وہ ہے رب کائنات کی عبادت و بندگی اور اسکی تسبیح و تقدیس کرنا۔ بلا شبہ کائنات کی تمام اشیا  چاہے وہ جاندار ہوں یا بے جان رب کائنات کی تسبیح و تقدیس میں مگن و مشغول رہتی ہیں۔
        پھر اس پر کیف اور مزیّن کائنات میں انسان کو وجود بخشا اور اسے اشرف المخلوقات بنایا، اسے اپنے پیغام کا متحمل بنا کر اپنا نائب بنایا، جسکی تعریف خود ذات باری تعالیٰ نے ان الفاظ میں کی لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم’’ بلا شبہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا‘‘(سورہ التین،4)۔  اسی ذات واحد نے حیات انسانی کی بقا کے لیے اسکی قوت و توانائی اور دیگر مسائل کی تکمیل کے لیے شب و روز کا سلسلہ قائم کیا۔ ذات کریم نے دن بنایا تاکہ انسان اپنا رزق حاصل کر سکیں، تلاشِ معاش کی غرض سے نکلیں ا ور تجارت کر سکیں لیکن ساتھ ہی اْ س کا ذکر بھی کرتے رہیں۔ اس نے رات بنائی جس میں وہ آرام اورسکون حاصل کر سکیں اور بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز بھی ہو سکیں۔رات کی اہمیت اور ضرورت کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایاوجعلنا الیل لباسایعنی رات کو ہم نے چھپانے کی چیز بنادیا، اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کو فطرتاً نیند اْس وقت آتی ہے جب روشنی زیادہ نہ ہو، ہرطرف سکون ہو،شور و شغب نہ ہو، حق تعالیٰ نے رات کو لباس یعنی اوڑھنے اور چھپانے کی چیز فرماکراشارہ کردیا کہ قدرت نے تمہیں صرف نیند کی کیفیت ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ سارے عالم میں ایسے حالات پیدا کردئیے جو نیند کے لئے سازگار ہوں۔ اول رات کی تاریکی، دوسرے پورے عالم انسان اور جانور سب پر بیک وقت نیند کا مسلط ہوناکہ جب سبھی سوجائیں گے تو پورے عالم میں سکون ہوگاورنہ دوسرے کاموں کی طرح اگر نیند کے اوقات بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہواکرتے تو کسی کو بھی نیند کے وقت سکون میسر نہ آتا۔ گویا رات کا آرام اور سکون سے گذرنا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے لیکن کھبی کبھار ان راتوں کی ایسی فضیلتیں اور برکتیں روایات میں وارد ہوئی ہیں کہ ان کو شب بیداری کرکے قربان کرنا مؤمنین کے اعمال خیر میں بڑی حد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
      اللہ تعالی نے اسی طرح سال، مہینہ، ہفتہ، دن اور رات کو وجود بخشااور ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔اپنی خاص مصلحت اور حکمت بالغہ سے کچھ مخصوص مہینوں، دنوں اور راتوں میں بڑی فضیلت وسعادت، عظیم خیر و برکت اور بڑا بدلہ رکھا ہے، انہیں بابرکت مہینوں میں شعبان المعظم کا مہینہ اور اس کی پندرہ تاریخ کی رات اور دن بھی بڑی عظمت اور برکت والی ہیں۔اس متبرک مہینہ کو اپنی طرف نسبت کرکے اللہ کے رسولؐ ?نے فرمایا شعبان شھری شعبان میرا مہینہ ہے۔ شعبان المعظم کی پندرہ تاریخ کی رات کو عربی زبان میں لیلتہ?البراۃ  اور اردو میں شب براء ت کہا جاتا ہے، یقینا یہ رات برا  ت و نجات کی رات ہے کیوں کہ اسی مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمن بندوں کے لئے پروانہ ٔنجات لکھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ رات خیر و برکت، رحمت و مغفرت اور حکم و فیصلہ والی رات ہے ،اس لئے اس رات کو لیلتہ?المبارک?برکت والی رات، لیلتہ?الرحم?رحمت والی رات اور لیلتہ?الصک دستاویز والی رات کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔
     شبِ برا ت کی فضیلت کے تعلق سے ہمارے معاشرے میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک قسم جو اس کی افضلیت کے سرے سے ہی مخالف ہیں اور دوسرے جو اس رات کی فضیلت کی بناء  پر شرعی حدود سے تجاوز کرتے ہیں جو سراسر ناانصافی اور جہالت ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس میں اعتدال کی راہ اختیار کر لی جاتی اور جمہور کے مسلک کے عین مطابق اس پر عمل کیا جاتا۔حالاں کہ جمہور علماء  اس کی فضیلت کے قائل ہیں، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ ?فرماتے ہیں شب برات میں تو فضیلت ہے، سلف صالحین میں سے کچھ حضرات اس رات نماز پڑھتے تھے لیکن اس رات میں جاگنے کے لئے مسجدوں میں لوگوں کا اجتماع بدعت ہے۔(الفتاویٰ الکبرایٰ ج 4، ص824)۔چنانچہ اس رات میں پڑھی جانے والی نفل نماز شریعت میں مطلوب،محمود اور مستحب ہے۔ مشہور محدث علامہ تقی الدین ابن الصلاح نے علامہ عز الدین بن عبد السلام ?سے اس رات میں پڑھی جانے والی نفلی نماز پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اس نماز کی اصل شریعت میں موجود ہے‘‘۔(درس ترمذی، ج 2،ص 185)۔یہی وجہ ہے کہ بعض تابعین عظام ?اس رات میں نفل نماز کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے، چنانچہ عصر حاضر کے جید عالم دین علامہ ابن عثیمین ?نے فرمایا کہ ’’بعض تابعین سے اس موقع پر نماز اور ذکر و فکر کی صورت میں شب بیداری کا ثبوت ملتا ہے‘‘۔(فتاویٰ براے خواتین، ص 45)۔اسی طرح صاحب معارف القرآن حضرت مفتی محمد شفیع صاحب?معارف القرآن ج7, ص758 پر لکھتے ہیں کہ شبِ برات کی فضیلت کی روایات اگرچہ باعتبار سند کے ضعف سے کوئی خالی نہیں لیکن تعدد طرق اور تعدد روایات سے ان کو ایک طرح کی قوت حاصل ہوجاتی ہے اس لئے بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا ہے کیوں کہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کر لینے کی گنجائش ہے۔بہرحال اس ضمن میں یہاں پر چند ایک فقہاء  و محدثین کے اقوال آپ کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہنے پائے۔چنانچہ امام نووی ?النکت علی مقدم?ابن الصلاح،ج2، ص13 پر فرماتے ہیں ’’علماءحدیث و غیرہم نے فضائل اور ان جیسی چیزوں میں حدیث ضعیف پرعمل کے جواز کے بارے میں اجماع کیا ہے‘‘۔ ملا علی قاری مرقا?المفاتیح، ج2،ص411 پر رقمطراز ہیں کہ’’علماء نے فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے جواز پر اجماع کیا ہے‘‘۔اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی ?شرح ابن ماجہ ص89 پر لکھتے ہیں کہ  ’’علماء نے فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے جواز پر اجماع کیا ہے‘‘۔معلوم ہوا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنابالاتفاق جائز ہے۔حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں: ’’حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو، لیکن اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے، لہذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام?سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بالکل غلط ہے‘‘۔(اصلاحی خطبات،ج2،ص 722)۔  الغرض اب یہ بات واضح ہوگئی کہ شب برات کی حقیقت مسلم ہے، اگر کوئی شخص رات بھرعبادت و ریاضت، ذکر و اذکار، تلاوت و تسبیحات میں مشغول ہو، انفرادی طور پر قبرستان جاکر وہاں مدفون مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرے اور ان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کرے، نیز رات گذر نے کے بعد دن میں روزہ رکھے تو اسے منع نہ کیا جائے اور نہ کرنے والے پر کوئی نکیر نہ کی جائے۔اس ضمن میں یہاں کچھ احادیث ذکر کی جاتی ہے تاکہ مسئلہ اور واضح ہوجائے۔بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ ?بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ ?کو کسی مہینہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے رمضان کے اور میں نے آپؐ ?کو شعبان سے زیادہ کسی ماہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔(بخاری شریف،حدیث نمبر:8481)۔حضرت عائشہ?ؓسے دوسری روایت ہے کہ حضور پاکؐ ?کے نزدیک ماہ شعبان میں روزے رکھنا دیگر مہینوں کے بنسبت محبوب تھاپھر آپؐ ?اسے رمضان سے ملاتے۔(سنن نسائی،حدیث نمبر:2350)۔حضرت علی ?حضور اقدس ؐ?سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ?نے فرمایا پندرہویں شب میں نوافل پڑھو اور اس کے دن میں روزہ رکھواس لئے کہ اللہ تعالیٰ سورج ڈوبتے ہی ساری دنیا پر اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی ہے مجھ سے طالب رحمت کہ اس کی بخشش کروں، کوئی ہے روزی مانگنے والا کہ اسے روزی دوں، کوئی مصیبت کا مارا عافیت خواہ ہے کہ اسے عافیت دوں،اسی طرح کا اعلان طلوع صبح تک ہوتا رہتا ہے۔
 شعبان المعظم کے روزہ کے تعلق سے آپ ?صلی اللہ علیہ وسلم کے مسنون عمل اور آپؐ کی مؤثر ترغیب کا تقاضا ہے کہ اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھے جائیں لیکن آپ ?صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر شفقت و رحمت اور رمضان کے روزوں کے لئے قوت و طاقت کے پیش نظر پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے ممانعت فرمائی ہے، چنانچہ آپؐ ?نے ارشاد فرمایاہے کہ ’’پندرہ شعبان کے بعد تم لوگ روزے نہ رکھو‘‘۔(سنن ابی داود)
      شب برا  ت میں قبرستان دعائے مغفرت کرنے کے تعلق سے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ  ؐکو اپنے بستر پر نہیں پایاتو میں آپ کو تلاش کرنے نکلی، تو آپ ؐکو مدینہ منورہ کے قبرستان بقیع میں پایاتو آپؐ نے مجھے دیکھ کر فرمایا،کیا تجھے اس بات کا خطرہ گذرا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ تجھ پر ظلم کریں گے،یعنی تمہاری باری میں کسی اور بیوی کے پاس جائیں گے،حضرت عائشہؓ ?فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، تو آپؐ  نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات سماء  دنیاکی طرف خاص توجہ فرماتے ہیں اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔(سنن ترمذی، حدیث نمبر:937)
الغرض شعبان المعظم کی مناسبت سے جو بھی احادیث و آثار کتب احادیث میں موجود ہیں اور فقہاء  و محدثین نے اس پر جو تحقیق اور کلام کیا ہے وہ قابل تقلید ہے۔ نیز پندرہ تاریخ کی رات اور دن فضیلت، رحمت اور مغفرت والے ہیں، رات میں نوافل ادا کرنا، ذکر و اذکار کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، دعا و مناجات کہنا، اور اس سے منسلک دن میں روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا شب برا ت کی رحمتوں، برکتوں، اور سعادتوں کے حصول کا باعث ہیں، یہ اعمالِ خیر دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی اور نجات و سعادت کے ضامن ہیں اور بہت ہی اجر و ثواب کے موجب ہیں. آج کے تکلیف دہ حالات کے پیش نظر یہ کورونا وائرس جو وبائی شکل اختیار کر چکا ہے اور پورے عالم کو بغیر کسی ملک و ملت کی تفریق کئے بغیر اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور دن بدن حالات کو سنگین تر بنا رہا ہے اور  ہم اپنے اپنے گھروں میں ہی محصور ہوکر رہ گئے ہیں ایسی صورت حال کے پیش نظر ان عظمت اور برکت والے ایام میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اللہ سے گڑ گڑا کر گناہوں کی تلافی کی جائے، توبہ و استغفار کرتے رہے، موقع کو غنیمت جان کر خیر کے کام معلوم کرکے ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی جائے، بارگاہ ایزدی سے نا اْمید نہ ہوں، بلکہ اپنی ندامت اور شکستہ حالی کے آنسوؤں کے ذریعے رب کو منانے کے کوشش کریں۔ 
نہیں ہے نا اْمید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
suhaibqasim2009@gmail.com
9469033846  
 
 

تازہ ترین