تازہ ترین

یہ کس کی آہوں کا اثر ہوا ہے؟

خیالِ من

8 اپریل 2020 (25 : 02 AM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

شیخ خالد زاہد
ہم انسان بہت جلد یکسانیت کا شکار ہوجاتے ہیں ، ہم میں سے کچھ انسانوں نے اس بات کو سمجھ لیا اور اسے اپنے کاروبار کا حصہ بنا لیاجس کی وجہ سے جدیدیت کے اس دور میں مسلسل بدلائو آتا رہتا ہے۔ دریافت کی جانے والی اشیاء کے نئے نئے ورژن وقفے وقفے کے بعد شائع کئے جاتے ہیں ، یعنی انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔ انسان جب تک کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہوتا، اسے انسانیت کا خیال نہیں آتا، جیسے ہی وہ کسی برے وقت میں گرفتار ہوتا ہے ۔وہ دوسروں کو انسانیت کا ناصرف درس دیتا سنائی دیتا ہے بلکہ انسانیت کے نام پر مدد کی اپیل بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ٹھہرتا نہیں ہے ،جیسا بھی ہو، گزر جاتا ہے، بس ہمارے آس پاس رہنے والوں میں فرق کو واضح کرتا چلا جاتا ہے، ہماری آنکھوں سے پردے اٹھاتا چلا جاتا ہے۔
 آج دنیا پھر ایک ایسی ہیبت ناک یکسانیت کا شکار ہے ۔کرونا نامی وائرس نے ساری دنیا کو ویران کر کے رکھ دیا ہے۔ اب یہاں کرونا لکھا جائے یا پھر اپنے قدرت کی کاری گری لکھا جائے کہ کتنی آسانی سے ساری کی ساری دنیا کو ویران و سنسان کر کے رکھ دیا ہے اور محسوس ہورہا ہے کہ جیسے فضائوں میں صدائیں گونج رہی ہوں کہ بتائو کائنات کا بادشاہ کون ہے ،بتائو تمہاری اس رنگین دنیا کا بادشاہ کون ہے؟ ۔ لیکن یہ صدائیں کہاں سنائی دیں گی کیونکہ سب کو تو اپنی اپنی زندگیوں کی پڑی ہے اور ایسے حالات میں بھی انسان اپنے خالق سے رجو ع کرنے سے باز ہے ۔ 
یہاں ہم دنیا کی کیا بات کریں ،ہمارے مسلمان بھائی بھی ایسے وقت میں ، وقت کو بدلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف حالات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کہیں انسانیت ، ہادی انسانیتﷺ کی بیعت نا کرلے، کلمہ حق لاالہ اللہ محمد رسول اللہؐ نا پڑھ لے ،مختلف زاوئے پیش کئے جا رہے ہیں ۔انسان کو سچی توبہ کے قریب ہونے سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور دنیا کا دھیان بانٹنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیںجس کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ کرونا نامی وائرس کو اب وباء کی بجائے انسان کی تخلیق کردہ وائرس بتایا جارہا ہے جیساکہ کمپیوٹر وغیرہ کیلئے تیار ہوتا رہا ہے ۔ اہل نظر کیلئے قابل غور بات یہ ہے کہ مان بھی لیا جائے کہ یہ وائرس انسان نے بنایا اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کسی خاص مقصد کیلئے بنایا لیکن کیا وہ انسان یا ادارہ یا ملک اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا یا پھر خود بھی اس کی زد میں بری طرح سے آگیا ؟۔
گوکہ ابھی اس وائرس کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ ابھی تمام انسانوں کو اس بات پر مکمل دھیان دینا چاہئے کہ کس طرح سے اس وائرس کا زور توڑا جائے ۔کس طرح سے دنیا کو بدترین حالات کی نذر ہونے سے بچایا جائے اور کس طرح سے انسانیت کی بقاء کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ محسوس ہوتا ہے لوگ بغیر ہی کسی مقصد کے کوئی نیا مقصد گڑھ لیتے ہیں اور اپنی ذاتی رائے ،جوکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاسکتی ہے ،عام کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔ ایک عام انسان دنیا کے حصول میں اسقدر مگن ہے کہ اسے ایسے حالات میں بھی صرف اپنے لئے سہل پسند وقت گزاری کے سامان کی چاہ ہے ۔یہ بات بھی عام دکھائی دے رہی ہے کہ کوئی بھی مرنے کے خوف میں مبتلاء نہیں ہے۔ ایک وجہ تو ضرورتیں ہیں اور دوسری وجہ وقت کی نزاکت سے کیا فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
دنیا میں اپنے آپ کو طاقت کا منبع کہلوانے والے اور اپنی طاقت کمزوروں پر ظلم کرکے دکھانے والے ، جو سراٹھائے اس پر مختلف پابندیاں لگانے والے امریکہ کی حالت پر آج ذرا غور کر لیجئے۔ دنیا کے تمام تر وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھنے والا ملک اور جس نے دنیا کے تمام بین الاقوامی اداروں کو بھی اپنا پابند کر رکھا ہے، غرض یہ کہ زمیں سے لیکر کائنات کے دیگر سیاروں تک اپنی بادشاہت نما کا دعویدار آج گھٹنوں کے بل بیٹھا دکھائی دے رہا ہے ۔ 
گزشتہ دہائیوں میں زندگی اپنی بقاء کی جنگ لڑتی دکھائی دی جسکی سب سے بڑی وجہ دنیا میں طاقت کا عدم توازن ہے۔ جس نے اپنے آپ کو طاقت ور بنا لیا، اس نے اپنی بقاء کیلئے کمزور پر ظلم کرنا شروع کردیا اور مخصوص اہداف کے حصول کیلئے ظلم کی حدوں کو بھی پار لیا ۔ دنیا نے جاپان پر گرائے گئے ایٹم بم کو شائد بھلا دیا جس کہ نتیجے میں جاپان ابھی تک تقصان اٹھا رہا ہے یعنی یہ نقصان نسلوں میں منتقل ہوا ہے ۔ پھر اس سلسلے نے رخ بدلا اور طاقت کے نشے میں دھت ممالک نے فلسطین، شام ، افغانستان ، لیبیاء ، مصر جیسے ممالک کو بربریت کا نشانہ بنانہ شروع کیااور ان ملکوں میں اکثر کو تو کھنڈرات میں تبدیل کر کے رکھدیا ہے۔ اختیارات اور وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے کی جانے والی جنگیں انسانیت کو تہہ و بالا کئے جا رہی ہیں۔ شام میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم ، کشمیر میں کیا جانے والا بد ترین لاک ڈائون اور فلسطین میں نہتے فلسطینیوں کی زندگیاں اجیرن کرنے والے کیا اب سکون سے بیٹھے ہیں ۔ہم سب یہ خوب جانتے ہیں کہ مظلوم کی آہ ،دکھی دل کی آہ آسمانوں کو چیرتی ہوئی رب کائنات کے حضور پہنچتی ہے اور پھر ان آہوں کی سنوائی بھی خوب ہوتی ہے ۔ کچھ وقت پہلے دنیا میںہونے والے مظالم اپنی حدوں کو چھونے لگے تھے تو کتنی ہی آہیں ہر لمحے آسمانوں کی جانب اٹھتی رہیں، کسی نے ان کی پروا ہ نہیں کی ۔اب یہ کرونا وائرس ہے یا پر مظلوموں کی آہوں کا نتیجہ؟۔ شائد ابھی وقت باقی ہے اپنی کوتائیوں کی ،اپنی نافرمانیوں کی اور خالق کائنات کی حقانیت کو تسلیم کرنیکا۔کہیں ایسا نا ہوکہ یہ نا دکھائی دینے والا کرونا ہمیں بھی اس دار فانی سے ہی غائب کردے۔  
رابطہ: shzahid2010@gmail.com