! تبلیغی جماعت کیخلاف ہرزہ رسائی ؔ فرقہ پرستی کا کیڑاکورونا وائرس سے زیادہ خطرناک

تیشہ فکر

تاریخ    8 اپریل 2020 (25 : 02 AM)   


عابد انور
نئی دہلی میں واقع حضرت نظام الدین تبلیغی مرکز کے بارے میں میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور بدنام کرنے کی کوشش کے درمیان پرت در پرت کھلنے لگی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ جان بوجھ کر تبلیغی جماعت والوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی بسوں کے پاس مہیا کرائے جبکہ مسلسل تبلیغی جماعت کے ذمہ دار پولیس او ر انتظامیہ کے چکر لگاتی رہی ہے کہ ہمارے مرکز میں اتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کو نکالا جائے اور ہم نے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کرلیا ہے آپ صرف پاس مہیا کرائیں تاکہ یہ لوگ اپنی منزل تک پہنچ سکیںلیکن پولیس اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگیں۔ چوں کہ  انتظامیہ نے اپنا منصوبہ تیار کر رکھا تھا اس لئے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور کورونا کے معاملے کو سنگین ہونے دیا اور جب معاملہ سنگین ہوگیا اور معلوم ہوگیا ہے کہ کورونا سے متاثر لوگ موجود ہیں، پولیس نے کارروائی کی اور میڈیا میں اسے ویلن بناکر پیش کردیا۔ ساری تفصیلات پبلک ڈومین میں ہیں۔ ساری خط و کتابت میڈیا اور سوشل میڈیا میں گشت کر رہی ہے۔ اس میںجائے بغیر صرف تبلیغی جماعت کا سرکاری بیان پیش کرنے اور امتیازی سلوک کی بات پیش کر رہا ہوں۔  میڈیاکے ایک حلقہ کا یہ کہنا کہ تبلیغی جماعت والے چھپے ہوئے تھے، انتہائی بے ہودہ ، غلط بیانی اور غیر قانونی ہے۔ لوگ اپنے گھر میںیا اپنے ٹھکانے میں چھپتے نہیں ہیں رہتے ہیں۔ چھپا ہوا اسے کہا جاتا ہے جہاں دوسری جگہ پرجہاں ہونے کا کسی کو گمان نہ ہو اور وہ مجرم بھی ہو۔ جماعت والوں کا ٹھکانہ مسجد ہی ہوتا ہے۔ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں وہ مسجد میں ہی رہتے ہیں یہاں تک کے مسجد میں کھانا پینا، سونا، اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ ہندی میڈیا اپنی فطرت سے مجبور ہوکر  بدنام کرنے کے لئے ہر جگہ اسے چھپے ہوئے بتایا گیا۔ چھپتا وہ ہے کہ جو کوئی جرم کرتا ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنس گئے تھے، کہیں پھنس جانا جرم ہے؟ اگر کوئی پھنستا ہے کہ اسے نکالا جاتا ہے ۔ 
اب بھی ہندی میڈیا مسجد میں پھنسے تبلیغی جماعتوں کو چھپے ہوئے ہی لکھ رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عقل کے عاری یہ لوگ جھوٹ اور گمراہ کن باتوں پر گیتا سے بھی زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ پورے ملک میں وٹس ایپ کے ذریعہ یہ بات پھیلادی گئی کہ کورونا وائرس کو پورے ملک میں جماعت والوں نے پھیلایا ہے اور لوگوںنے اسے آسانی سے مان لیا ہے۔ماننے والوں میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، آئی آئی ایس اور پڑھا لکھا طبقہ شامل ہے۔ جاہلوں کی بات تو جانے دیجئے۔وہ گوبر گومتر کوامرت سمجھ کر پی لیتے ہیں۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ سب سے پہلا معاملہ 30جنوری کا ہے۔ اس کے بعد سے 15لاکھ افراد بیرون ملک سے ہندوستان آئے ہیں جس کی اسکریننگ نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی جانچ کی گئی ہے کہ وہ کورونا سے متاثر ہیں یا نہیں۔ تبلیغی جماعتوں کا معاملہ تو 25مار چ کے بعد کا ہے۔اس سے پہلے پانچ سو سے زائد کی تعداد میں متاثر پائے گئے تھے۔ ہندوستان میں ابھی ساٹھ ستر ہزار لوگوںکی ہی جانچ ہوئی ہے اگر سب کی جانچ ہوگی تو اصل میں پتہ چلے گا۔ اس وقت ساری توجہ سے تبلیغی جماعتوں پر ہے اور سب کو چھوڑ کر ان کی جانچ کی جارہی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ مثبت یا منفی یہی لوگ نکلیں گے۔
تبلیغی جماعت پر الزام ہے کہ لاک ڈاؤن کی ان لوگوں نے خلاف ورزی کی ہے۔ جب کہ وہ لوگ پہلے سے یہاں موجود تھے اور اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ یہاں رہنے پر مجبور تھے۔ اسے لاک ڈاؤن کا احترام کرنا کہتے ہیں نا کہ اس کی خلاف ورزی کرنا۔ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ممبران پارلیمنٹ نے کی۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے حلف لیکر کی، ان کے اراکین اسمبلی نے کی۔ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کی کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ اور بغیر سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) کا خیال رکھے رام کی مورتی نصب کی۔ انڈین ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے رسم و رواج کے ساتھ مہاراشٹر کے شولا پور میں رام نومی کا جلوس نکالا گیا۔ پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے پتھراؤ کردیا۔ اسی طرح کے پتھراؤ کا واقعہ مظفر نگر کا بھی ہے۔بی جے پی کے دہلی کے صدر منوج تیواری لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینکڑوں کے مجمع میں لوگوں کوماسک تقسیم کئے اور خواتین کو ماسک پہنائے۔کیا اس کے خلاف کوئی کاررورائی کی گئی؟۔اسی کے ساتھ تبلیغی جماعت کے لوگوں کا تھوک پھینکنے کا واقعہ بھی فرضی نکلا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ دو مارچ کا مہاراشٹر کا ہے۔ تھوکنے والا شخص کو پولیس نے اس کے گھر سے لایا ہوا کھانا کھانے نہیں دیا تو وہ غصے میں پولیس والے پر تھوک پھینک دیا ۔ اسی طرح ایک سازش کے تحت پورے اترپردیش سے تبلیغی جماعت کے بارے گمراہ کن خبریں جاری کی جارہی ہیں۔غازی آباد میں سی ایم اور تبلیغی جماعت والوں پر نرسوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے، گانے گانے،ننگا ہونے کا الزام لگادیاجو بعد میں بے بنیاد نکلا۔ کوئی مان سکتا ہے کہ نرسوں کے سامنے جماعت والے ننگا ہوسکتے ہیں،وہ بھی غیر ملکی جماعت جو یہاں کی زبان نہیں جانتے۔ اس کا جواب مشہور صحافی ششی بھوشن اپنے فیس بک پوسٹ میں جواب دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ’’ خواتین کے سامنے عوامی طور پر برہنہ گھومنے، فحش اشارے کرنے اور گانا سننے کے الزام جماعتیوں پر ۔۔۔ ہضم نہیں ہوتا۔۔۔ وہ ہر مسلم کو پکڑ پکڑ نمازی ہونے، ٹی وی نہ یکھنے، گانے نہ سننے کی صلاح دیتے رہتے ہیں۔ کوارنٹن وارڈ میں بغل میں کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہوئے فوٹو آسکتا ہے، تو اس فحش کے ویڈیو بھی آنے چاہئے نا۔۔؟ وہ پنچ وقتی نمازی ہوتے ہیں، ٹی وی، فلم سے بہت دور، ٹخنے کے اوپر پائجامہ پہنتے ہیں،نظر اٹھاکر بات تک نہیں کرتے،خواتین کو گندے اشارے کیا گھنٹہ کریں گے؟ اتنی سختی سے اسلامی قوانین پر عمل کرتے ہیںکہ دیگر مسلمان انہیں مذاق میں ’’اللہ میاں کی گائے‘‘ کہتے ہیں‘‘۔ اگر لاک کی ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مولانا سعد پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو اسی طرح شیو راج سنگھ چوہان، یوگی آدتیہ ناتھ، منوج تیواری اور اس کی طرح ہزاروںان لوگوںکے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہئے جنہوں نے مذہبی رسوم کی ادائیگی کی آڑ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی ہے۔
 تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کا مقصد جہاں کروڑوں کی تعداد بھوکے، مزدور، بے سہارا ،بے گھروں اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں مرنے والوں درجنوں لوگوں کی طرف سے توجہ ہٹانا تھا وہیں اس کامقصد مسلم قوم کو اجڈ، گنوار، جاہل، جانور، انسانیت کے قاتل ثابت کرنا تھا۔ شاہین باغ مظاہرے سے جو مسلمانو ںکے تئیں نظریے میں تبدیلی آئی تھی، اس کو ختم کرنا تھا۔ اس لئے میڈیا، انتظامیہ، ڈاکٹرس و دیگرفسطائی ذہن کے لوگ اس شرمناک مہم میں شامل ہوگئے۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے لوگ کہنے لگے ہیں کہ کورونا تبلیغی جماعت والوں کی وجہ سے ملک میں پھیلا ہے۔ اس سے بڑھ کر جہالت، ذہنی قلاشی،تعصب اور مسلم دشمنی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔فرقہ پرستی کی یہ آگ کورونا وایرس سے بھی خطرناک ہے ۔کورونا کی وباء سے ملک ایک بار پھر ابھر کر آئے گالیکن فرقہ پرستی کی یہ آگ نادانستہ طور اس ملک کو بھسم کرکے رکھ سکتی ہے جو کوئی اچھی صورتحال نہیں ہوسکتی ہے۔ 
 

تازہ ترین