عالمی وباء اور ہماری ملّی ذمہ داریاں

8 اپریل 2020 (25 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
کورونا وائرس کی وباء نے فی الوقت پوری عالم انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ہر گزرنے والے لمحہ کے ساتھ اس وائرس کی تباہ کاروں کی روح فرسا خبریں تواتر کے ساتھ موصول ہورہی ہیں۔پوری دنیا کا نظام تہہ و بالا ہوچکا ہے او ر عملی طور دنیاوی نظام ساکت ہوچکا ہے ۔معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہیں ،روزگار کے ذرائع مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں اس وقت دنیا میں اربوں کی تعداد میں انسان دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔دنیا کی نام نہاد عالمی طاقتوںکا غرور مٹی میں مل چکاہے اوراس ؎ قہر الٰہی کے سامنے سب بے بس نظر آرہے ہیں۔امریکہ میں حکومت کے پاس لوگوں کو دینے کیلئے ماسک نہیں ہیں جبکہ طبی ڈھانچہ کے اعتبار سے دنیا میں دو سرا پائیدان رکھنے والے اٹلی کے پاس کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے ونٹی لیٹر نہیں ہیں۔
عجب نفسا نفسی کا عالم ہے ۔انسان کو انسان سے ڈر لگنے لگا ہے ۔سماجی فاصلہ بنائے رکھنا زندگی کا اب نیا ضابطہ ٹھہرا ہے ۔بقاء کی اس جنگ میں یہ تمام احتیاطی تدابیر بر حق اور جائز ہیں اور ہمیں ان احتیاطی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے لیکن بحیثیت انسان ہمیں سماجی فاصلہ بناتے بناتے اس فاصلہ کو اس وسیع اور گہرا نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں اپنے پڑوسی کی خبر تک نہ ہو۔محدود رہنا واقعی محفوظ رہنا ہے لیکن اپنے آپ کو محفوظ بناتے وقت ہمیں اپنے اڑوس پڑوس میں اُس شخص یا کنبہ کو نہیں بھولنا چاہئے جس کی دلجوئی ہمارا فرض بنتا ہے ۔اپنے گھروں کے اندر محدود رہنا واقعی مستحسن اقدام ہے لیکن ہمیں اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے بھی جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ کہیں ہمارے پڑوسی کا چولہا ٹھنڈا تو نہیں پڑا ہے ۔
ہمارے سماج میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو ہماری امداد کے مستحق ہیں۔موجودہ وبائی صورتحال نے ہمارے یومیہ مزدوروں کو روٹی کے ایک لقمہ کیلئے بھی محتاج بنا دیا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ موجودہ حالت میں سماج کے ایک قلیل طبقہ کو چھوڑ کر باقی سب افراد کی حالت غیر ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ملّی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائیں۔یہ آفت ہمارے لئے کچھ مواقع بھی لیکر آئی ہے ۔گھروںکے اندر بیٹھے بیٹھے جہاں ہمیں خود احتسابی کا موقعہ ملا ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں وہیں ہمیں قربت الٰہی پانے کا بھی نادر موقعہ بھی ہاتھ لگا ہے۔بحیثیت انسان ہمارا عقیدہ ہے کہ انسانی رستے میں ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیںاور جب ہمارے مذہبی عقائد کی بات کی جائے توقر آن و حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کے حوالے سے قرآن و سنت میں واضح ہدایات موجود ہیں۔اللہ پاک اپنے حقوق بندے پر معاف کرسکتا ہے لیکن حقوق العباد یعنی لوگوں کے حقوق بندے پر معاف نہیں ہوسکتے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے پر ہمارے جو حقوق ہیں،ان کی عمل آوری اللہ کی ذات برحق کے نزدیک لازم ہے کیونکہ اس کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ اس سے نہ صرف باہمی اخوت کا جذبہ پیدا ہوگا لیکن سماج کا کوئی فرد بھوک و پیاس اور غربت سے افلاس سے نہیں جوجھے گا۔
آج کے یہ صبر آزماایام ہمیں اسی فلسفہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔قربت الٰہی صرف فرائض کی ادائیگی سے ہی ممکن نہیں ہوسکتی ہے بلکہ اللہ کے بندوں کی خبر گیری اللہ کو بہت پسند ہے اور یقینی طور پر اس طرح کے اعمال سے اللہ کی رحمت برجوش آسکتی ہے جو ہمیں اس وبائی بحران سے نکال سکتی ہے ۔وقت کی پکار ہے کہ جہاں ہم اپنے او ر اہل خانہ کیلئے ضروریات زندگی کی تمام سہولیات کا بندوبست کریں وہیں ہم اُن لوگوںکو نہ بھولیں جنہیں ان کٹھن ایام میں ہماری امداد کی ضرورت ہے ۔ضروری نہیں کہ آپ اعلانیہ طور اپنے حاتم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹیں بلکہ ان کے نزدیک مخفی خیرات و صدقات زیادہ مقدس اور معتبر ہیں۔بے شک اجتماعی سطح پر امدادی سرگرمیوں کیلئے فلاحی تنظیموں کا تعاون کریں لیکن ا س سے آپ پر آپ کے اقرباء اور پڑوسیوں کا حق ہے ۔ملی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے کبھی اپنے گھر سے باہر بھی جھانک لیں اور اپنے پڑوسیوں کی خبر پوچھیں اور دیکھیں کہ کیا انہیں روٹی کے چند لقمے میسر ہیں۔اپنے اڑوس پڑوس میں غریبوں ،محتاجوں ،مفلسوں ،ناداروں ،بیماروں کی ضرورتوں کا خیال رکھیں اور اس کے عوض اللہ کی ذات جلیلہ آپ کی ضرورتوں کا خیال رکھے گی اور آپ اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لے گی ۔
کئی اعتبار سے یہ امتحان و آزمائش کی گھڑی ہے ۔یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب اللہ پاک اپنے بندوں کو آزماتا ہے ۔کسی کو دولت سے آزماتا ہے ،کسی کو بیماری سے تو کسی کو لاچاری سے ۔اب جو جس زمرے میں پڑتا ہے ،اس کی آزمائش اُسی حساب سے ہوتی ہے ۔موجودہ حالات میں بھی جہاں یہ پوری انسانیت کیلئے ابتلا کا وقت ہے وہیں مسلم امہ کیلئے امتحان بھی ہے اور ایک طرح سے دیکھا جائے تو نیکیوںکی بہار بھی ہے۔ان جاں گسل حالات میں اگر ہم تدبر سے کام لیں توہماری حرکت ہمارے لئے خیر وبرکت اور ثواب دارین کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔پس غور وفکر کی ضرورت ہے ۔لاک ڈائون کے ایام بیکاری میں کاٹنے کی بجائے ہمیں اپنے اصل کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر ہم پہنچ پائے تو ہمارے مسائل کا حل خود بخود نکل آئے گا۔اللہ ہمیں اس وبائی بیماری سے نجات دے۔آمین

تازہ ترین