حالت ِ وباء میںآن لائن مقابلہ حُسن | ملت کا شاہین خاکبازی پر آمادہ کیوں؟

میری بات

تاریخ    8 اپریل 2020 (25 : 02 AM)   


ایم شفیع میر
دور ِ حاضر میں محبتیں، بھائی چارہ، عنائتیں، نوازشیں ایک خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ دکھاوے کی چاہ نے ہر اچھے بھلے انسان کو آدمی بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج تک میری سمجھ میں یہ نہیں آسکاکہ سوشل میڈیا خاص کر فیس بُک پر (ڈی پی ) یعنی ڈسپلے پکچرکا الیکشن کس لئے اور کیوں کیاجاتا ہے۔کیا آئین میں اِس انتخاب کے بارے میں کوئی ذکر ہے؟ کیا یہ الیکشن کروانے کی وجہ سے ملک میں تعمیر ترقی ہوسکتی ہے؟ کیا اِس الیکشن سے غریب عوام کے مسائل کا ازالہ ہوتا ہے ؟کیا اِس الیکشن میں نوجوانوں کوروزگار مہیاکیا جاتا ہے ؟ یہ سارے سوالات میرے ذہن میں اس لئے ابھرے ہیں کیونکہ میں کئی روز سے اِس ڈسپلے الیکشن مہم کا شکار ہوا ہوں۔ دن میں تقریباً دس سے زائد اُمیدواروں کے پیغامات آتے ہیں کہ ووٹ دو،لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہم کیا بنیں گے۔ میں نے کئی اُمیدواروں سے پوچھا کہ اگر میں آپ کو ووٹ دوں تو آپ کیا بنیں گے؟کیا آپ پی ایم بنیں گے؟ کیا آپ سی ایم بنیں گے؟ کیا آپ ایم پی بنیں گے؟ کیا آپ ایم ایل اے بنیں گے؟۔یہ توبتائو کہ تم بننے کیا جا رہے ہو لیکن کوئی بھی اُمیدوار میرے سوال کا جواب نہیں دے سکا۔
 ڈسپلے پکچریعنی (DP) کایہ الیکشن آج کل معروف سوشل سائٹ فیس بک کے میدان پر کھیلا جا رہا ہے۔ ہر چھوٹا،بڑا، بزرگ، امیر وغیریب، مرد و خواتین اِس نام نہاد الیکشن کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ مجھے آئے روز فیس بک مسینجر میں بے شمار پیغام آتے ہیں جس میں ڈی پی مقابلہ کے اُمیدوار کی یہ اپیل ہوتی ہے کہ مجھے ووٹ کریں تاکہ جیت سکوں۔ خیر سچ کہوں توآج تک میں نے صرف ایک بار ووٹ کیا ہے، وہ بھی ایک پنچایتی الیکشن میں جہاں ووٹ کرنا میری مجبوری تھی اورمزے کی بات تو یہ ہے کہ میں اپنا ووٹ دینے کے بعد بھی اُس اُمیدوار کے سامنے خود کواُس کا ووٹر ثابت نہ کرسکا۔اُسی تجربہ کی وجہ سے میں نے آج تک ایک بھی ڈی پی مقابلہ میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کیا۔ میں نے سوچا کہ وہ الیکشن جو کسی حد تک حقیقت ہے ،اگر میں اُس الیکشن میںخود کو ایک اچھا اور بھروسہ مند ووٹر ثابت نہیں کر سکا تو پھر یہ ڈی پی یعنی ڈسپلے پکچر الیکشن میں میرے ووٹ کی قیمت ہی کیاہے۔ میری ڈسپلے پکچر مقابلہ کے تمام اُمید واروں سے گزارش ہے کہ وہ صرف ایک بار مجھے یہ کہہ دیں کہ آخر آپ کے الیکشن کا منشور کیاہے۔ جیسا کہ ہمارے وزیر اعظم نے اپنے الیکشن منشور میں کہا تھا کہ اچھے دن آئیں گے، یہاں ہمارے علاقائی لیڈران نے اپنے منشورکہا تھا کہ ہم جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کاتحفظ کریں گے، یہاں کے نوجوانوں کیلئے روزگار مہیاکروائیں گے لیکن ہوا وہی جس کا خدشہ تھا۔نہ ہی ملک کے اچھے دن آئے ،نہ ہی جموں و کشمیر کے سیاست دان خصوصی پوزیشن کو بچا سکے اور نہ ہی نواجونوں کو روزگار مہیا کروا سکے ورنہ آج یہ دن دیکھنے نہیں پڑتے جب ہمارے نوجوان فیس بک کااستعمال بطور ِ صارف نہیں بلکہ بطور اُمیدوار کر رہے ہیں۔
نوجوانو ں نے سوشل سائٹ فیس بک پر ڈی پی مقابلے کی ایک ایسی مہم چھیڑ دی ہے کہ کئی ایسے بھی سادہ لوح نوجوان ہیں جو ڈی پی الیکشن کی اِس مہم کے زبردست متاثر ہو کررہ گئے ہیں۔میرے ساتھ بہت سارے متاثرین نے اِس الیکشن کے بارے میں گفتگو کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ڈی پی الیکشن کمیشن کو کورناوائرس کے پیش نظر الیکشن منسوخ کر دینا چاہیے تھے۔راقم خود بھی ایک متاثر کی حیثیت سے الیکشن کمیشن آف ڈی پی الیکشن کے چیف سے مودبانہ گزارش کرتاہے کہ خدارا کچھ دیر کیلئے آپ ضابطہ اخلاق نافذ کریں، مہلک وباء کرونا وائرس کے پیش نظر جہاں چہار سو افرا تفری کاعالم ہے، ہر طرف مایوسی سایہ فگن ہے، بھوک ،پیاس اور افلاس کی وجہ سے لوگ اپنی جانیں گنوا رہیں ہے،وہیں دوسری جانب آپ کا یہ الیکشن انسانیت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے۔
 وقت کا تقاضا ہے کہ آپ سبھی نوجوان خدمت ِ خلق میں جٹ جائیں۔ توجہ کا مرکز بننے کیلئے جتنی کوشش اور منت سماجت آپ ڈی پی الیکشن کے ذریعے لوگوں سے کر رہے ہیں، اِ س سے کم محنت میں آپ کسی کی مدد کرکے کسی کے کام آکرتوجہ کا مرکز بن سکتے ہیںاور پھر اِس میں اللہ کی رضامندی بھی ہے، دل کا سکون بھی حاصل ہوگا۔ آج کا ڈی پی الیکشن آپکوزندگی کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے روکے گا اور آپ صرف ڈی پی الیکشن کے اُمیدوار بننے تک ہی محدود رہیں گے۔ آپ سماج میں ایک بہتر کردار بننے کی ٹکٹ حاصل نہیں کر پائیں گے اور پھر یوں ہوگا کہ ایک دن آپ کو سماج کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے گی چونکہ سماج کے اندر ایک باکرداربننے کیلئے جو قیمتی وقت آپ نے ایک صحتمند اور خوشحال سماج کیلئے دینا تھا، وہ آپ نے ایک ایسے الیکشن میں لگایا جس کی نہ تو کوئی ٹکٹ آپ کو ملی تھی اور نہ ہی آپ کا کوئی منشور تھا۔ معذرت کے ساتھ میں تمام اُمیدواروں سے گزارش کرتا ہوں کہ میری اِ س چھوٹی سے تحریر کو وسیع تر مفادات کے تناظر میںدیکھیں، سوچیں کہ ہم نے اپنا قیمتی وقت کہاں ،کیسے اور کیوں لگانا ہے۔
7780918848، 9797110175

 

تازہ ترین