کووِڈ19کا ’عقیدہ‘ | اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں

شورِنشور

8 اپریل 2020 (25 : 02 AM)   
(      )

شاہ عباس
 موجودہ عالمی وباء، کورونا وائرس کا دیکھتے ہی دیکھتے’’ مذہب ‘‘بھی نکل آیا ۔اس سے قبل کہ پروپگنڈا کی طاقت کے سہارے ایک مخصوص عقیدے سے وابستہ افراد کو ہی’’وائرس‘‘ قرار دیا جائے،چند اہم باتوں کی نشاندہی ضروری ہے۔کورو ناوائرس سے متعلق فی الوقت دو سازشی نظریئے( Conspiracy theories) گشت کررہے ہیں۔اول یہ کہ مذکورہ ہلاکت خیز وائرس کا تعلق چین کے شہر، اُ وہان کی ایک تحقیقی لیبارٹری سے ہے، جہاں یہ اپنی بھر پور قوت یعنی’ ’لیول4‘‘میں نمودار ہوگیا۔افواہ بازی کے عالم میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ وائرس کو چین کی لیبارٹری تک انسانوں کے ذریعے ایک ہتھیار کے بطور پہنچایا گیا۔یہ سازشی نظریہ بھی خاص کر سوشل میڈیا پر پورے زور و شور کے ساتھ زیر بحث رہا کہ اُوہان کی لیبارٹری میں مذکورہ وائرس پر تحقیق جاری تھی اور جانوروں سے الگ کرنے کے عمل کے دوران یہ وائرس ضروری اور لازمی اقدامات کی عدم موجودگی کے نتیجے میں لیک ہوکر ساری دنیا میں پھیل گیا۔   
سازشی نظریات کو ایک طرف چھوڑ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا جنمNatural evolutionیعنی قدرتی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔
ایمورولوجی اور مائیکرو بیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر، کرسٹین اینڈرسن، جنہوں نے متعلقہ شعبوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے ،نے کورو ناوائرس پرابتدائی تحقیق کے دوران ہی اس بات کا انکشاف کیا کہ کورو نا وائرس کی بنیاد قدرتی ارتقاء میں پیوست ہے۔اینڈرسن کی تحقیق کو فور ی طور تولانا یونیورسٹی کے رابرٹ ایف گیری،یونیورسٹی آف سڈنی کے ایڈورڈ ہولمز، یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے اینڈریو ریمباؤٹ اور کولمبیا یونیورسٹی کے ڈبلیو ایان لپکن نے قبول کرکے اس کی تصدیق کی ۔
اب تک کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا کا تعلق وائرس کے اُس خاندان سے ہے، جو مجموعی طور پر70وائرسوں پر مشتمل ہے، جن میں’ ’سارس وائرس‘‘ اور’ ’مرس وائرس‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔سارس وائرس کے مریض2003میں چین میں پائے گئے جبکہ مرس وائرس پہلی بار سعودی عرب میں 2012کے دوران ظاہر ہوا۔ 
گذشتہ برس31دسمبر کو چین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو ایک مہلک وائرس اور اس سے ہونے والی بیماریوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اس وائرس کو SARS-CoV-2کا نام دیا تھا۔ اسی وائرس کی تباہ کاریاں بعد ازاں پورے دنیا میں پھیل گئیں جو اب COVID-19کے نام سے موسوم ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ وائرس اپنی موجودہ ہیت تک پہنچنے سے پہلے غیر انسانی مخلوق میں موجود تھا۔اس تحقیق کی تصدیق اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ کورونا خاندان کے سبھی وائرس پہلے جانوروں میں ہی پائے گئے تھے اور انسانوں کو اپنا شکار بنانے سے قبل مذکورہ وائرسوں کے اندر ایک قدرتی تبدیلی عمل میں آئی تھی۔بیشتر محققوں کا کہنا ہے کہ کووڈ۔19پہلے چمگادڑ وں میں موجود تھا،جہاںاس کی ہیت میں تبدیلی رونما ہوئی اور یہ انسانوں کے اندر منتقل ہونے کے لائق ہوگیا۔ اس تحقیق کو ماہرین نے ابھی اگر چہ حتمی قرار نہیں دیا ہے تاہم اُن کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی وبا ء کورونا وائرس کے ارتقائی منازل قلیل وقت میں طے ہونے کے نتیجے کے سبب اس کے انسانوں میں پہنچنے اور پھیلنے کے بارے میں انتہائی کم معلومات میسرہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں پہلے ہی ایسے وائرس موجود ہیں جو کووڈ۔19کے مشابہ ہیں، اور جو انسانوں کے اندر منتقل ہونے سے پہلے غیر انسانی مخلوق میں ہی موجود تھے۔متعدد ماہرین اس بات پر متفق پائے جاتے ہیں کہ کووڈ۔19چمگاڈروں سے ہی انسانوں کے اندر منتقل ہوا ہے اور اس عمل کا آغاز چین کے اُوہان شہر سے ہوا۔ماہرین اس بات پر بھی یک رائے ہیں کہ کووِڈ۔19کے 80فیصدمریض کسی خصوصی علاج کے بغیر ہی روبہ صحت ہوتے ہیں۔ان لوگوں کو ہلکا بخار یا زکام ہوسکتا ہے، تاہم کووِڈ۔19میں ہر 6 مریضوں میں ایک مریض شدید انفکشن میں مبتلاء ہوکر سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے، جو طبی ماہرین کے نزدیک ایک جان لیوا صورتحال ہے۔
کووِڈ۔19کے بارے میں متذکرہ بالا ماہرانہ معلومات فراہم کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ قارئین اس بات کو ذہن نشین کرسکیں کہ موجودہ وبائی حالات کے پیچھے کیا حقائق ہیں ۔ان اہم معلومات کے بارے میں جاننے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مہلک بیماریاں ایک قدرتی عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں جو کبھی انسانوں کے اندر ہی وقوع پذیر ہوتی ہیں اور کبھی غیر انسانی مخلوق سے انسانوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔نیز یہ کہ ایسی بیماریاں پھیلانے والے وائرس قدیم دور میں بھی موجود رہے ہیں اور دور جدید میں بھی ،جب انسان ستاروں پہ کمندیں ڈالنے میں کامیاب ہوا ہے۔ 
تاریخ انسانی میں تاہم ایسے بھی واقعات موجود ہیں جب ایک ملک نے اپنے حریف کو مہلک وائرس کا شکار بنایا۔سائنسی دنیا میں اس عمل کو Bioweaponryیعنی کسی علاقے کیخلاف مہلک جرثوم یا کیڑے مکوڑوں کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کرنا کہا جاتا ہے۔کووِڈ۔19 نامی وائرس چین سے گذشتہ برس کے اواخر میں نمودار ہوکر اب تک کم و بیش 150ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ امریکہ نے پہلے پہل کووِڈ۔19 کو’’اُوہان وائرس‘‘ کہنا شروع کیا ، تاکہ وہ تجارتی دنیا میں بیجنگ کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچاسکے۔ تب اس وائرس کا کوئی’’ عقیدہ‘‘ نہیں تھا اور نہ ہی اُس کو’’ کیمونسٹ‘‘ یا’’ سیکولر‘‘ ( لادین )کہا گیا۔جونہی اس وائرس کا دخول دائیں بازو کی زیر حکمرانی بھارت میں ہوا، تو اس کو ’’عقیدے‘‘ اور’’ مسلک‘‘ کا لباس پہنایا گیا۔
دیانتدارانہ تجزیہ سے کام لیا جائے تو اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ابتدائی ایام میں ہی سوشل میڈیا کے شہسواروں نے کووِڈ19کو ایک مخصوص عقیدے سے جوڑنے کی غیرشعوری کوشش کی۔جب ایران اور سعودی عرب سے لوٹنے والے بعض افراد کووِڈ۔19میں مبتلاء پائے گئے تو ان نام نہاد تجزیہ نگاروں نے فوراً کورونا وائرس کے ساتھ مسلکی اصطلاحات جوڑ دیں۔ایسا شاید اُس مسلکی منافرت کا نتیجہ ہے جس کی جڑی کافی گہری ہیں اور لاکھ پردے ڈالنے کے باوجود جس کا اظہار موقع بے موقع ہوہی جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ’’مبصر ین‘‘ کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ’’ وائرس کا شکار پروپگنڈا مشینری‘‘ کوروناکو کس طرح ایک مخصوص عقیدے کیخلاف استعمال کرے گی لیکن جب اس کا سلسلہ شروع ہوگیا تو سوشل میڈیا کے سورما اس کی جی توڑ مخالفت میں سرگرم ہوگئے ۔ حالانکہ عقل کے ان اندھوں کو کون سمجھائے کہ اُنہی کی ’’مبصر ی‘‘ اور اُنہی کی ’’تجزیہ گری‘‘ نے پروپگنڈا مشینری کو کو روناکو’’تبلیغی وائرس‘‘ قرار دینے کا سارا سامان فراہم کیا ہے۔
 جن تبلیغی لوگوں کیخلاف کورو ناوائرس وباء کی آڑ میں نہ جانے کیا کیا پھیلایا جارہا ہے، اُن کا قصور صرف یہ ہے کہ اُنہوں نے دلی کے نظام الدین علاقے میں اُن مہمانوں کو بحفاظت بٹھائے رکھا تھا جو سرکار کی طرف سے نافذ کردہ مکمل لاک ڈائون کے نتیجے میں اپنے متعلقہ علاقوں تک پہنچنے سے قاصر تھے۔ایسا کرکے تو تبلیغی جماعت حکومتی اقدام کی ہی حمایت کررہی تھی، لیکن اُن کے اس اقدام کیخلاف ایک منفی مہم چھیڑی گئی ۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہمارے سماج کے کچھ افراد کئی دنوں کیلئے ساری دنیاوی مصروفیات کو معطل کرکے عظیم دعوتی کام میں جُٹ جانے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ان افراد کیخلاف اب مختلف قوانین کا سہارا لیا جانے لگا ہے، جس سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے کہ ایک مخصوص عقیدے کی بنیادی عبادت ہی خطرے کا شکار نظر آرہی ہے۔ اب امریکہ بہادر بھی ’’اُوہان وائرس‘‘ کے بجائے کسی ایسی اصطلاح کا متلاشی ہوگا جس کا استعمال کرکے وہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرسکے۔لیکن اس کیلئے مشکل یہ ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے پاس ابھی ’’تبلیغی وائرس‘‘ کی زیادہ معلومات نہیں ہیں،ممکن ہے کہ اُس کے ایشیائی کولیشن پارٹنر اُس کو ضروری مواد فراہم کریں اور کوئی تعجب نہیں کہ آنے والے ایام میں نیٹو فورسز ’’تبلیغی وائرس‘‘ کیخلاف کوئی مشترکہ اقدام کا اعلان بھی کریں۔تب ہمارے سوشل میڈیا کے سپاہی لاکھ پوچھتے پھریں کہ اسرائیل کا وزیر صحت یہاں تک کہ برطانیہ کا وزیر اعظم کس ’’تبلیغی مشن‘‘ کے نتیجے میں کووِڈ19شکار ہوگیا ؟اُن کی بات نقار خانے میں طوطے کی آواز ثابت ہوگی۔
ہمارے یہاں سوشل میڈیا، خاص کر فیس بُک پر جس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ،اُس کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے جو ’’وائرولوجی کے ماہرین‘‘ نہ جانے کیا کیا تحریر کررہے تھے، وہ یکایک’’ علمائے دین‘‘ بن کر فتویٰ بازی میں مصروف ہوگئے ۔ اُور تو اُور بعض حقیقی اور مستندعلمائے کرام بھی عقیدے اور مسلک سے متعلق حساس، نازک اور بحث طلب معاملات کو فیس بُک پر ہی نمٹانے کیلئے گھنٹوں سوشل میڈیا پر گذارتے نظر آرہے ہیں۔حالانکہ یہ علمی موضوعات مختلف مکاتیب فکر سے وابستہ علمائے کرام کے آپسی بحث و تمحیص کیلئے مخصوص ہیں اور ان کے متعلق عوام الناس کو اجماع علماء کے بعد ہی مطلع کیا جانا چاہئے۔
 غیروں کی طرف اُنگلی اٹھانے سے قبل اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں انتہائی ندامت کے ساتھ اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ موجودہ طبی ایمرجنسی کے دوران بھی ہم میں سے اکثر لوگ اچھا کردار پیش کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ محکمہ صحت اور دیگر انتظامی حکام کے پاس ایسے کافی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عمرہ کرکے آنے والے کتنے لوگوں نے اپنی سفر ی تفصیلات چھپانے کیلئے جھوٹی قسمیں کھائیں! جب اُن سے متعلق حقائق کا پتہ چلا تو بقول ایک انتظامی آفیسر’’ ہم دوسرے عقیدے سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کے سامنے کس قدر شرمندہ ہوگئے، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے‘‘۔ایک مرض کے مشتبہ مریض ہونے کو لیکرایسی صورتحال پیدا کی گئی کہ عمرہ سے لوٹنے والے ہی نہیں،سرکاری دعوئوں کو صحیح مانا جائے تو بعض تبلیغی حضرات نے بھی اپنی سفری تفصیلات چھپانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، جیسے اُنہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا تھا کہ ایسے سبھی لوگ سینہ ٹھوک کر ماہرین یا خصوصی مراکز پر جاکر اپنے آپکو قارنطین کیلئے پیش کرتے۔ لیکن اس حقیقت کا کیا کیا جائے کہ ہماری کردار سازی اُس سطح کی نہیں ہے جہاں احساس ذمہ داری کا جذبہ ہر بات پر غالب آتا ہے۔ 
 
\\

تازہ ترین