نائیوں کی دکانیں بند رہنے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ

لازمی خدمات میں شامل کرنے کا مطالبہ

تاریخ    8 اپریل 2020 (50 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سری نگر/یو این آئی/ کورو نا وائرس کے پیش نظر جاری لاک ڈاؤن کے باعث وادی کشمیر میں نائیوں کی دکانیں بند ہونے سے لوگوں کو داڑھی اور بال بنانے کے لئے سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بتادیں کہ وادی میں گذشتہ قریب تین ہفتوں سے مکمل لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جس کے پیش نظر بازاروں میں نائیوں کی دکانیں بھی مسلسل بند ہیں۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ نائیوں کو بھی لازمی خدمات میں شامل کیا جانا چاہئے اور انہیں ضروری ہدایات دے کر دکان کھلے رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے تجمل الاسلام نے بتایا کہ نائیوں کی دکانیں بندہونے کی وجہ سے ہماری حالت بیماروں سی ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا،’’نائیوں کی دکانیں بھی بند ہیں جس کے باعث ہماری حالت بیماروں جیسی ہوگئی ہے، داڑھی بنانے کے لئے میں پریشان ہوں، بال لمبے ہورہے ہیں، میرے بچوں کے بال بھی لمبے ہورہے ہیں‘‘۔َتجمل نے کہا کہ نائیوں کو ضروری احتیاطی تدابیر پرعمل کرکے اپنی دکانیں کھلے رکھنی چاہیں کیونکہ اشیائے ضروریہ کی طرح ان دکانوں کے کھلے رہنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔سلطان احمد نامی ایک نائی نے  بتایا کہ ہم خود بھی احتیاط کررہے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے بھی ہمیں دکان کھولنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔یاسین احمد نامی ایک شہری نے کہا کہ ہم دوست مل کر 'ٹرممر' سے ایک دوسری کی داڑھی بناتے ہیں۔انہوں نے کہا،’’ہم دوست مل کر ٹرممر سے ایک دوسری کی داڑھی بناتے ہیں لیکن بال بنانے نہیں آتے ہیں جس کی وجہ سے اب ہم نے لمبے بال بطور فیشن رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔دور افتادہ علاقوں میں نائیوں نے ایک بار پھر ماضی کی طرح اب گاہکوں کے گھر جا کر ان کے بال یا داڑھی بنانے کا سلسلہ جاری کیا ہے۔وسطی ضلع بڈگام کے ایک دور افتادہ دیہات سے تعلق رکھنے والے سجاد احمد نامی ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں نائی گھر گھر جاکر لوگوں کی حجامت کرتے ہیں کیونکہ وہ دکان کھولنے میں خطرات محسوس کررہے ہیں اس طرح وہ بھی روزی روٹی کی سبیل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑرہا ہے۔تاہم سری نگر اور قصبوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے ایسی کوئی سہولیت نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں میں کام کرنے والے اکثر نائی غیر کشمیری ہیں جو لاک ڈائون کی وجہ سے اپنے کرایہ کے کمروں تک ہی محدود ہیں۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت نائیوں کو بھی لازمی خدمات کے زمرے میں شامل کرے کیونکہ ان کی ضرورت بھی کسی قدر کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ایک سبکدوش استاد نے کہاکہ نائی کو ایک معاشرے میں انتہائی درجے کی اہمیت حاصل ہے اس کے بغیر ایک انسان شکل وصورت کے اعتبار سے کسی وحشی درندے سے کم نظر نہیں آئے گا، اسی کے ہاتھ انسان انسانی شکل وصورت اختیار کرتا ہے، لہٰذ ان کو ترجیحی بنیادوں پر لازمی خدمات کے زمرے میں لایا جانا چاہئے اور لاک ڈاؤن ہو یا اور کسی قسم کا ہڑتال وہ اس نوعیت کی بندشوں سے مستثنیٰ ہونے چاہئے۔قابل ذکر ہے کہ چند ہفتے قبل نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ٹویٹر ہینڈل پر کسی نے ایک پیغام بھیجا تھا جس میں لکھا تھا،’’حکومت نائیوں کو بھی لازمی خدمات میں شامل کرے ورنہ ہر گھر سے ایک عمر عبداللہ ظہور کرے گا‘‘۔عمرعبداللہ نے دوران نظر بندی اپنی داڑھی دراز کی ہوئی ہے جو جب پہلی بار سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو تمام طبقہ ہائے فکر میں گرم بحث کا موضوع بن گئی تھی۔

تازہ ترین