تازہ ترین

لاک ڈاؤن کا 17واں دن| وادی میں ہر سو خاموشی،ہر طرح کی آمد و رفت بند

تاریخ    8 اپریل 2020 (29 : 12 AM)   
(عکاسی: حبیب نقاش)

بلال فرقانی
سرینگر//کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اعلان کردہ ملک گیر لاک ڈائون کا منگل کو 17واں دن تھا۔وائرس کی زنجیر توڑنے کیلئے لاک ڈائون سے وادی بھر میں خاموشی کا عالم ہے، عام زندگی کی رفتار رک گئی ہے اور  قریب 75لاکھ کی آبادی اپنے گھروں میں محصور ہے۔وادی خاص کر شہر سرینگر کے پا ئین اور سیول لائنز علاقوں میں صبح اور سہ پہر کے بعد پرائیویٹ گاڑیوں کی آمد و رفت میں اچھا خاصا اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے تاہم دن میں اس طرح کی صورتحال دکھائی نہیں دیتی۔سہ پہر کے بعد لوگوں کے گھروں سے نکلنے میں بھی اضافہ ہورہا ہے البتہ بازاروں  یا بستیوں میں کوئی بھیڑ نہیں ہوتی، کہیں کہیں میوہ فروش دکھائی دیتے ہیں جبکہ صبح کے وقت کہیں کہیں سبزی فروش بھی نظر آتے ہیں۔ باقی ہر طرح کی دکانیں بند ہیں، جن میں کریانہ و ہول سیل تاجر شامل ہیں۔البتہ میڈیکل شاپ کھلے رہتے ہیں۔پولیس اور فورسز کی جانب سے سڑکوں پر خاردار تاریں بچھائی جاتی ہیں اور یہ ہر دن کی صورتحال ہے۔ اسی طرح کی صورتحال دیہات اور دیگر ضلع و تحاصیل صدر مقامات پر بھی ہوتی ہے جہاں شہر سرینگر کے برعکس پرائیویٹ گاڑیوں کو بھی چلنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔قصبوں میں سخت ترین لاک ڈائون کا نفاذ کیا جارہا ہے جبکہ پہلے ہی بین ضلعی آمد و رفت مکمل بند ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر پابندی عائد ہے۔تاہم پیر کو پہلی بار شہر سرینگر کی سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ پولیس نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں17افراد کو حراست میں لیکر9گاڑیوں کو ضبط کیا۔ شہر کیساتھ ساتھ وادی بھر میں اگر چہ ہر طرح کی آمد و رفت پر سخت ترین قدغن عائد کردی گئی ہے اور مکمل طور پر لاک ڈائون پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے لیکن شہر سرینگر میں منگل کو بھی پرائیویٹ گاڑیوں کی آمد و رفت میں بڑی حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پولیس نے سڑکوں پر بچھائی گئی خاردار تاریں کئی مقامات پر ہٹادیں تھیں۔ منگل کو کسی بھی جگہ پر گاڑیوں کو نہیں روکا جارہا تھا۔ ادھرسرینگر پولیس نے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے12دوکانداروں کو گرفتارکرکے ان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا۔یہ کارروائی رعناواری علاقے میں کی گئی۔