ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ | کام کاج کے دوران انفیکشن کاخطرہ:ڈاک

7 اپریل 2020 (08 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//ڈاکٹروں،نرسوں اور دیگر نیم طبی عملے کے شدیدبیمار ہونے کاخطرہ ہے اگر انہیں کروناوائرس کی انفیکشن لگ گئی۔اس بات کااظہار ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرکے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے ایک بیان میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ کروناوائرس ڈاکٹروں اور صحت عامہ کے ورکروں کو شدید طور متاثر کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اٹلی میں کم سے کم 41ہیلتھ ورکر اس انفیکشن سے مرگئے اوراُس خطے میں اس بیماری کے پھوٹ پڑنے سے اب تک 5000ڈاکٹراور نیم طبی عملے کے دیگر اہلکاراس انفیکشن کاشکار ہوئے ہیں۔اس عالمگیروباء کے مرکز ووہان چین میں حکام کے مطابق 3400 ڈاکٹراورنیم طبی عملے کے اہلکار اس وائرس کاشکار ہوئے اور ان میں سے22کی موت ہوئی ۔ڈاکٹر نثار کے مطابق ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ دیگر بیماروں کے مقابلے میں یہ کیوں زیادہ شدیدبیمار ہوتے ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ انہیں وائرس کی زیادہ تعداد لگی ہو۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ صحت عامہ کے ورکرخاص طور سے صف اول پرکام کرنے والوں کواس وائرس کاشکار ہونے کا زیادہ خطرہ ہے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ ’آئی سی یوز‘میں کام کرنے والے عملے کو اس بیماری کاانفیکشن لگنے کازیادہ خطرہ ہے اوروہ شدیدبیمار ہوسکتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ انفیکشن لگا ہوگا۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ لازمی ہے کہ ڈاکٹروں،نرسوں ،نیم طبی عملے کے اہلکاروں اور طب کے طلاب کوتحفظ فراہم کیاجائے کیونکہ وہ انسانی جانوں کوبچاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ طبی عملے کوسلامت رہنا چاہیے کیونکہ اگر صحت عامہ کے اہلکار بیمار ہوگئے توپورانظام بندہوگااور لوگ مرجائیں گے ۔ڈاکٹر نثار نے کہاکہ صحت عامہ کے اہلکاروں کو اپناخیال رکھنا چاہیے اور بیماری کی کسی بھی علامت کو نظراندازنہیں کرنا چاہیے ۔متعددہیلتھ ورکرجو دائمی امراض میں مبتلاء ہیں ،کوشدیدانفیکشن ہونے کاخطرہ ہے جس سے اُن کی موت بھی ہوسکتی ہے ۔ایسے افراد کو اُن مقامات پر تعینات کیاجانا چاہیے جو اس خطرے سے دور ہو۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کروناوائرس کی وباء کئی ہفتوں سے لیکر مہینوں تک جاری رہ سکتاہے اور صحت ورکروں کو مناسب آرام بھی ملنا چاہیے۔
 

تازہ ترین