اَفسردگی چھوڑ دو , ہر حال میں شاکررہو

پُکار

7 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

جاوید شاہین
 بلا شبہ منفی سوچ ناکامی کا سبب بنتی ہے جبکہ مثبت سوچ کامیابی کے لئے اولین شرط ہے۔اس کی وجہ سے انسان میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور پُر خطر حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے ۔حالات کتنے ہی پیچیدہ اور کشیدہ ہوں ،مثبت طرز عمل راہیں نکال ہی لیتا ہے ۔انسان کو اپنے کام پر شرح صدر ہو اور اپنے طریقۂ کار اطمینان ہو اور یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتی ۔حالات کے نشیب و فراز اس کے کام میں خلل انداز نہیں ہوسکتے،راستے میں حائل رکاوٹیں اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتیں۔اگر افراد میں مثبت سوچ کے بدلے منفی سوچ پروان چڑھنے لگے تو انسان کے دیکھنے کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے ۔کامیابی کی جگہ ناکامی نظر آتی ہے ۔حوصلے کی جگہ پستی و نامرادی آجاتی ہے ۔دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا ہوجاتے ہیں ،انسان اپنی منزل کے بجائے خطرات اور مشکلات کی اور دیکھنا شروع کردیتا ہے۔اسے منزل کی فکر کے بجائے حالات کے اُتار و چڑھائو پر نظر رہتی ہے اور انسان اپنی منزل سے بے خبر ہوجاتا ہے ۔کام کے حوالے سے وہ سُست ہوجاتا ہے اور اپنی سُستی و کاہلی کو چھپانے کے لئے حالت کی ابتری کا سہارا لیتا ہے ۔
اسلام سے وابستہ افراد کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مومن کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ اس کے اخلاق کا حصہ ہی نہیں ہوتا ہے ۔اگرچہ دنیا کے تمام وسائل اس کے ہاتھوں سے چھِن جائیں ،اس کے بعد بھی اس کو ناامید نہیں کیا جاسکتا ۔یہاں تک کہ اگر وہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ،اس کی زبان سے (فُزتُ برب الکعبہ)’رب کی قسم کامیاب ہوگیا ‘کے الفاظ رواں ہوجاتے ہیں۔اس کی بلند ہمتی کی یہ مثال ہوتی ہے کہ وہ تین سو تیرہ کی جماعت سے ایک ہزار کے لشکر کو پاش پاش کردیتا ہے ۔ساٹھ افراد کی جمیعت سے ساٹھ ہزار کے لشکر سے ٹکراتا ہے ۔وہ مخلوق کے خوف سے عاری خالق کے خوف سے معمور ہوتا ہے۔ہرحال میں شاکر و مشکور ہوتا ہے ۔اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے ہر مشکل اس کو آسان نظر آتی ہے ۔
عالمی سطح پر امت مسلمہ کو جہاں بہت سارے مسائل درپیش ہیں وہیں مایوسی اور ناامیدی کی فضا نے رہی سہی جان بھی نکال دی ہے ۔ایک عرصے سے چلی آرہی صورت حال نے اُمت کی زندگی کے مزاج کو ہی بدل کے رکھ دیا ہے ۔ان کی نفسیات کو گہرا نقصان پہنچا ہے نیز جسمانی آزادی کے باوجود ابھی تک ذہنی آزادی نصیب نہیں ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے ملت میںافسردگی کا مزاج عام ہوگیا ہے ۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فروا رہنے کی عادت غالب آگئی ہے ۔کاہلی ،کم ہمتی اور وسوسوں نے امت کے غالب حصے کو آگھیرا ہے ۔حالانکہ یہ بات عیاں ہے کہ جہاں آج ملت اسلامیہ زوال و پستی کے دن گزر رہی ہے وہی نوید صبح کا آغاز بھی اپنی آن با ن اور شان کے ساتھ ہونے والا ہے ۔خوابدیدہ اُمت اب جاگنے لگی ہے ۔ملت کا شجر سایہ دار برگ و بار پیدا کرنے لگا ہے ۔تحریکات نے نئی صبح کی نوید کو روشن کردیا ہے ۔دنیا کے چپے چپے پر امت اسلامیہ اپنے کام شدو مد سے جاری رکھے ہوئی ہے ۔لاکھوں چیلنجوں کے باوجود باطل کے صنم خانوں میں بھی حق کی اذانیں سنائی دیتی ہیں۔ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہونے کو ہے اور یہ ہاشمی شاخ پھر سے برگ و بار پیدا کرنے کو ہے ۔نا امیدی کے بادل چھٹنے کو ہیں اور اب یہ چمن پھر نغمۂ توحید سے معمور ہونے کو ہے ۔ضرورت اب مومن کی پامردی کی ہے کہ وہ یاس و ناامیدی سے نکل کر امت کی بہتری، تعمیر و ترقی اور خوشحالی و سکون کے لئے میدان عمل میں جدو جہد کا حصہ بنے ،اسلام کے کام میں اپنا حصہ ڈالیںاورخدا کے مقرب بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں ۔
 

تازہ ترین