تازہ ترین

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

7 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتا ق احمد وانی
 خالق کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ،مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔ آپﷺ کے بعد صحابہ،تابعین،تباتابعین ،اولیائے کرام اور بزرگان دین نے بھی اپنے اپنے طور پر انسانی سماج ومعاشرے میں ان بنیادی تین سوالوں کے تناظر میں عالم ارواح ،مقصد حیات وکائنات اورعالم برزخ کی زندگی کے بارے میں علم وآگہی کا عظیم فریضہ دعوت وتبلیغ کی صورت میں انجام دیا ہے۔  سماجیات کے ماہرین نے انسان کو سماجی جانور تصور کیا ہے جو ایک حد تک اس اعتبار سے صحیح ہے کہ انسان بھی دیگر حیوانات کی طرح اپنی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے لیکن اسے اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے ۔تمام مخلوقات میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو فوقیت اور گوناں گوں نعمتیں عطا فرمائی ہیں اُن سے حیوانات محروم ہیں ۔مثلاً انسان کو اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی ،صلاحیت تحریر وتقریر،  تہذیب وشائستگی،غور وتدبر ،فہم وفراست ،مختلف علوم وفنون کو حاصل کرنے کا جذبہ، اد ب وثقافت کے ساتھ  قدرت کے سربستہ رازوں کو جاننے سمجھنے کا شعور بخشا ہے اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی صبح تک دنیا میںبسنے والے انسانوں کی دُنیاو ی و اخروی  زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے پیارے اور لاڈلے محبوب حضرت محمدﷺ پر قرآن حکیم جیسی عظیم ولامثال کتاب کا نزول فرمایاکہ جس میں اللہ تعالیٰ کے احکامات ،اُس کے فرماں بردار بندوں کے انعامات اور فتح ونصرت کے علاوہ اللہ کے نافرمانوں اور باغیوں کے عبرتناک انجام کا ذکر بڑے واضح الفاظ میں موجود ہے۔وہ شخص خوش نصیب ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے پاکیزہ اور نُورانی طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق حاصل ہوجائے۔
یہ کائنات ایک خود کار مشین کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ایک عظیم حکمت وقدرت رکھنے والی طاقت ہے جو اس کائنات کے نظام کو چلارہی ہے ۔گویا انسان اس خدائی نظام اورضابطوں کے آگے بے بس ومجبور بھی ہے اور کسی حد تک خود مختار بھی ۔بے بس ان معنوں میں کہ وہ خدائی فیصلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ہے۔مثلاً آسمان سے بارش برستی ہے آدمی اُسے روک نہیں سکتا ،آدمی ہمیشہ جوان رہنا چاہتا ہے لیکن خدائی ضابطے کے مطابق وہ بوڑھا 
زندگی لائق بنائو آخرت کو سنوارو
چراغ دل کا جلاو بہت اندھیرا ہے
خالق کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ،مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔ آپﷺ کے بعد صحابہ،تابعین،تباتابعین ،اولیائے کرام اور بزرگان دین نے بھی اپنے اپنے طور پر انسانی سماج ومعاشرے میں ان بنیادی تین سوالوں کے تناظر میں عالم ارواح ،مقصد حیات وکائنات اورعالم برزخ کی زندگی کے بارے میں علم وآگہی کا عظیم فریضہ دعوت وتبلیغ کی صورت میں انجام دیا ہے۔ سماجیات کے ماہرین نے انسان کو سماجی جانور تصور کیا ہے جو ایک حد تک اس اعتبار سے صحیح ہے کہ انسان بھی دیگر حیوانات کی طرح اپنی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے لیکن اسے اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے ۔تمام مخلوقات میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو فوقیت اور گوناں گوں نعمتیں عطا فرمائی ہیں اُن سے حیوانات محروم ہیں ۔مثلاً انسان کو اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی ،صلاحیت تحریر وتقریر،  تہذیب وشائستگی،غور وتدبر ،فہم وفراست ،مختلف علوم وفنون کو حاصل کرنے کا جذبہ، اد ب وثقافت کے ساتھ  قدرت کے سربستہ رازوں کو جاننے سمجھنے کا شعور بخشا ہے اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی صبح تک دنیا میںبسنے والے انسانوں کی دُنیاو ی و اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے پیارے اور لاڈلے محبوب حضرت محمدﷺ پر قرآن حکیم جیسی عظیم ولامثال کتاب کا نزول فرمایاکہ جس میں اللہ تعالیٰ کے احکامات ،اُس کے فرماں بردار بندوں کے انعامات اور فتح ونصرت کے علاوہ اللہ کے نافرمانوں اور باغیوں کے عبرتناک انجام کا ذکر بڑے واضح الفاظ میں موجود ہے۔وہ شخص خوش نصیب ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے پاکیزہ اور نُورانی طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق حاصل ہوجائے۔
یہ کائنات ایک خود کار مشین کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ایک عظیم حکمت وقدرت رکھنے والی طاقت ہے جو اس کائنات کے نظام کو چلارہی ہے ۔گویا انسان اس خدائی نظام اورضابطوں کے آگے بے بس ومجبور بھی ہے اور کسی حد تک خود مختار بھی ۔بے بس ان معنوں میں کہ وہ خدائی فیصلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ہے۔مثلاً آسمان سے بارش برستی ہے آدمی اُسے روک نہیں سکتا ،آدمی ہمیشہ جوان رہنا چاہتا ہے لیکن خدائی ضابطے کے مطابق وہ بوڑھا ہوجاتا ہے ۔آدمی کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے موت نہ آئے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے۔غرضیکہ آدمی قانون فطرت کے آگے بے بس ومجبور ہے یا یوں کہیے کہ وہ لاکھ کوششوں کے باوجود خدائی ضابطوں کو نہیں بدل سکتا ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اس دُنیا میںکس حدتک خود مختارہے؟اس سلسلےمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ انسان اعمال کے اعتبار سے وقتی طور پر اس دُنیا میں آزاد ہے ۔وہ چاہے تو  اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اور محمدﷺ کے پاکیزہ اور نورانی طریقوں کے ساتھ گزارسکتا ہے اورنہ چا ہے تو اللہ کا باغی ،سرکش اور نافرمان بن کر بھی زندگی گزار سکتا ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قانون ،ضابطے اور نصاب کے مطابق زندگی بسر کرنیکی تلقین کرتا ہے ۔
(جاری)
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو
باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری( جموں کشمیر)
7889952532

تازہ ترین