تازہ ترین

وادی کشمیر کے طالب علم | ہوم ورک میں مشغول رہنا بہتر

میری بات

7 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

یاسر بشیر
جب یہ کائنات وجود میں آئی تو انسان کی بھی تخلیق ہوئی۔خالق کائینات نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔جب ہمارے جدامجد حضرت آدم علیہ سلام کو خالق ارض وسماء  نے بنایا تو پھر آدم علیہ سلام کو چیزوں کے نام سکھائیے۔ان چیزوں کے نام سکھانے کو ہم علم کہتے ہیں,جو ?ربالعزت نے حضرت آدم علیہ سلام کو عطا فرمایا۔اس طرح یہ دنیا کا کارواں تب سے جب تک رواں دواں ہے۔اللہ تعالیٰ کی  منشاسےاس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام بھی تشریف لائے۔آخر پر ?رب العزت نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔جب وحی کا نزول ہوا تو سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی ،وہ سورہ العلق کی ابتدائی آیات ہیں۔پہلی ہی وحی میں نبی اکرم صلی?علیہ وسلم سے فرمایا گیا’’اقراء‘‘یعنی پڑھو۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد عربی صلی?علیہ وسلم تک تمام انبیاءؑ کرام کو علم جیسی دولت لافانی سے نوازا گیا۔اور ہمارے ذہنوں میں علم کی اہمیت اور ضرورت آئی ہے۔ دین اسلام کے علاوہ باقی مذاہب میں بھی علم کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے,کیونکہ یہی علم ہمیں فکر فردا دیتی ہے۔حدیث شریف کا مفہوم بھی ہے کہ علم حاصل کرنا’’ ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر فرض ہے‘‘۔
       جب ہم ہماری اس وادئے گلپوش کی بات کریں گے تو یہ بات عیاں ہے کہ ہمارے اس وادی سے بھی بہت سے ذہین(Talented)شخصیات نے جنم لیا ہے ۔
        اگر ہم اس وقت کی بات کریںگے تو اس وقت عمومی طور پوری دنیا اور خصوصی طور وادی کشمیر ی طالب علم ذہنی انتشار میں مبتلا ہے۔کیونکہ اگست 2019 سے لے کر دسمبر 2020 تک خراب حالات کی وجہ سے وادی کے اسکول بند رہے۔پھر سرمائی تعطیلات کا اعلان ہوا۔غرض اگست 2019 سے لے کر مارچ 2020 تک پورے آٹھ مہینے وادی کے طالب علم گھروں میں رہے۔جب سرمائی تعطیلات ختم ہوئے تو ایک دو ہفتوں ہمارے اسکول کھلے رہے اور اس کے بعد ہی وبائی مرض نے ہمیں گھیر لیا,جس کو کورونا وائرس کا نام دیا گیا۔اس وبائی مرض کا آغاز چین کے وہان سے شہر سے ہوا اور اس وقت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہےاور بہت سے ممالک میں لاک ڈاون کا اعلان بھی کیا گیا۔ہماری وادی میں بھی اس وقت لاک ڈاون چل رہا ہے۔یہ لاک ڈاون صرف ہمارے بچاو کے لئے ہے۔مگر طالب علم ذہنی طور پریشان ہےکیونکہ ماہ بعد وادی کے اسکولوں میں کلاسز دوبارہ شروع ہوئے ہی تھے مگر ?اللہ کچھ اور ہی منظور تھا۔وادی کشمیر کے طالب علم اسی فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کب یہ لاک ڈاون ختم ہوگا اور ہم اسکول جائیں کیونکہ وادی کشمیر کے طالب علموں کو معلوم ہی ہے کہ کچھ ماہ بعد ہی گرمائی تعطیلات ہونے والے ہیںاور گرمائی تعطیلات کے دو تین ماہ بعد ہی سالانہ امتحانات کی تیاری شروع ہوتی ہےمگر ہمیں اب کورونا وائیرس کے تعطیلات کب ختم ہوتے ہیں،اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
      ہمارے طالب علم دن بھر اسی پریشانی میں پڑے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے وادی کا ہر کوئی طالب علم ذہنی طور پریشان ہےاور اسی پریشانی کی وجہ سے خصوصی طور وادی کے طالب علم گھروں میں کچھ نہیں پڑھ سکتے ہیں۔
        جب ایک طالب علم کو ایسے حالات درپیش آتے ہیں تو اس کا ذہن فروعیات اور خرافات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اگر یہ صورت  پیش نہ آتےتب بھی ان حالات میں طالب علموں کی توجہ تعلیمی میدان کی طرف نہیں رہتی ہے۔اگر ایسے ہی حالات بنے رہے تو ہم اپنا مستقبل کی حالت  کیا ہوگی ،ہم خوداندازہ لگاسکتے ہیں۔اس لئے ہمیں ?اللہ سے دعا کرنی چاہئیے کہ ہمیں اس وبائی مرض سے جلدی نجات دے(آمین)۔
    جب بھی کوئی آفت آتی ہے یا حالات ٹھیک نہیں رہتے ہیں تو ہماری اس وادی میں سب سے زیادہ تعلیمی نظام (educational system)پرزیادہ اثر پڑتا ہے۔کورونا وائرس سے جہاں پورا نظام درہم برہم ہواہے،وہان تعلیمی نظام کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ جس کا مشاہدہ ہمیں آنے والے وقت میں ہوگا۔ 
             اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے طالب علم حالات کا جائزہ لیتے ہوئےاپنے آپ کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیںاور حالات کا مقابہ کرتے ہوئےدرس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھیںتاکہجسمانی طور پر ہم ٹھیک رہ سکیں، میری نظر میں ہمارا ذہن ان کاموں میںمشغول رہنے سے ہی ٹھیک رہ سکتا ہے۔اس لئے لازمی ہے کہ
       (1)پابندی سے پنجگانہ نماز ادا کرناادا کرتے رہیں(لاک ڈاون کی وجہ سے آج گھروں میں ہی رہیں)
    (2)قرآن مجید کی روزانہ تلاوت اور کوشش کرنی چاہئے ہوسکے تو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں۔
       (3)اپنی تدریسی کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ دینی لیٹریچر کا مطالعہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔
            اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس وبائی مرض سے نجات دے اور ہر کسی طالب علم کو کامیابی سے ہم کنار کرے(آمین)
   ایسو شانگس اسلام آباد،9149897428
 

تازہ ترین